پاکستان کا شمار دنیا میں زکوٰۃ اور خیرات دینے والے سرفہرست ممالک میں ہوتا ہے جہاں کے عوام ملکی جی ڈی پی کا ایک فیصد سے زائد زکوٰۃ اور خیرات کی مد میں دیتے ہیں۔ یوں تو پاکستان میں زکوٰۃ اور خیرات دینے کا سلسلہ سال بھر جاری رہتا ہے مگر رمضان المبارک میں اس میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے اور لوگ اس ماہ مقدس میں دل کھول کر زکوٰۃ و خیرات کی مد میں ایک بڑی رقم غریبوں اور مستحقین میں تقسیم کرتے ہیں۔ پاکستان سینٹر فار فلنتھراپی کی سروے رپورٹ کے مطابق پاکستانیوں کی جانب سے زکوٰۃ، خیرات، فطرہ اور عطیات کی مد میں سالانہ 300 ارب روپے سے زائد رقم دی جاتی ہے جس میں پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی سرفہرست ہے جہاں کے عوام سالانہ 75 ارب روپے سے زائد چیریٹی کی مد میں دیتے ہیں جبکہ صوبائی سطح پر پنجاب میں سالانہ 113ارب روپے، سندھ میں 78ارب روپے، خیبرپختونخواہ میں 38ارب روپے اور بلوچستان میں 10ارب روپے زکوٰۃ کی مد میں دیئے جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 67فیصد افراد اپنے ہاتھوں سے ضرورت مند رشتے داروں اور احباب کو زکوٰۃ دینا پسند کرتے ہیں جبکہ 33 فیصد افراد این جی اوز اور رفاہی و فلاحی اداروں کو ترجیح دیتے ہیں۔
وفاقی حکومت ہر سال یکم رمضان المبارک کو بینک صارفین کے اکائونٹس میں جمع رقوم سے 2.5فیصد زکوٰۃ کی مد میں کٹوتی کرتی ہے جس سے حکومت کو 10 ارب روپے سے زائد حاصل ہوتے ہیں۔ بینک صارفین کے اکائونٹس سے 2.5فیصد زکوٰۃ کی کٹوتی کا یہ نظام ضیاء الحق دور حکومت میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش پر 1980میں عمل میں آیا تھا لیکن حکومت پر اعتماد نہ ہونے کے باعث بیشتر بینک صارفین زکوٰۃ کی کٹوتی سے بچنے کیلئے اپنی رقوم رمضان المبارک کی آمد سے کچھ روز قبل ہی نکلوالیتے ہیں یا زکوٰۃ ڈکلیئریشن جمع کرواکے مستحقین کو انفرادی طور پر زکوٰۃ دینا پسند کرتے ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹیڈیز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں زکوٰۃ کی مد میں 240ارب روپے سے زائد جمع کئے جا سکتے ہیں لیکن حکومت صرف 10 ارب روپے ہی جمع کرپاتی ہے جسے آبادی کے تناسب سے صوبائی زکوٰۃ فنڈز میں منتقل کردیا جاتا ہے۔ صوبائی محکمہ زکوٰۃ و عشر کے ماتحت ضلعی زکوٰۃ کمیٹیوں میں زکوٰۃ کی رقم مستحقین تک پہنچانے کیلئے سرکاری ملازمین کی ایک بڑی فوج بھرتی کی گئی ہے۔ محکمہ کے انتظامی اخراجات کے علاوہ زکوۃ کی کتنی رقم ضرورت مندوں تک پہنچ پاتی ہے اور کتنا حصہ خورد برد کرلیا جاتا ہے، اس کا اندازہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے حالیہ بیان سے لگایا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے یہ انکشاف کیا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے زکوٰۃ کی مد میں بلوچستان حکومت کو ملنے والی 30کروڑ روپے کی رقم تقسیم کرنے کیلئے صوبائی محکمہ زکوٰۃ و عشر کے انتظامی اخراجات پر ایک ارب 60کروڑ روپے سے زائد خرچ ہوجاتے ہیں، محکمہ زکوۃ کے پاس 80گاڑیاں ہیں مگر دو سال سے زکوٰۃ کی رقم تقسیم نہیں کی جاسکی جس کے باعث وزیراعلیٰ بلوچستان نے صوبائی محکمہ زکوٰۃ ختم کرنے کا اعلان کیا جو یقیناً قابل ستائش ہے۔ یہ المیہ صرف بلوچستان حکومت کا نہیں بلکہ پاکستان کے دیگر صوبوں میں بھی کم و بیش یہی صورتحال ہے جہاں زکوٰۃ کی رقم سے کئی گنا زیادہ سرکاری ملازمین کی فوج اور گاڑیوں کے اخراجات پر خرچ ہوجاتے ہیں، اس طرح ضرورت مند افراد زکوٰۃ سے محروم رہ جاتے ہیں۔
نبی کریمﷺ کا فرمان ہے۔ ’’اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور زکوٰۃ و خیرات دینے سے انسان کے مال میں کمی نہیں ہوتی۔‘‘ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ معاشرہ اُسی وقت ترقی کرتا ہے جب معاشرے کے صاحب حیثیت افراد اپنی دولت کا ایک حصہ نادار اور مستحق افراد پر خرچ کرتے ہیں۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی یہ امانتیں ذمہ داری کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے اصل حقداروں تک پہنچائیں کیونکہ زکوۃ، خیرات، عطیات اور صدقات صرف غریبوں اور محتاجوں کا حق ہیں۔ پاکستان میں غربت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بچوں کی آخری خواہشات کی تکمیل کے میرے ادارے میک اے وش فائونڈیشن میں کینسر کے مرض میں مبتلا کچھ بچے اور بچیاں ایسی بھی ہیں جن کی آخری خواہش عید کے موقع پر نئے کپڑے اور جوتے پہننے کی ہوتی ہیں۔ ادارے کی ویب سائٹ www.makeawish.org.pk پر اُن بچوں کی خواہشات کی فہرست موجود ہے جو زندگی کے آخری ایام میں اپنی آخری خواہشات کی تکمیل کے منتظر ہیں اور مخیر حضرات ان خواہشات کی تکمیل کرکے ان کے چہروں پر خوشیاں بکھیرسکتے ہیں۔ میری مخیر حضرات اور قارئین سے درخواست ہے کہ وہ رمضان المبارک میں میک اے وش فائونڈیشن کو بھی اپنی زکوٰۃ اور خیرات میں یاد رکھیں اور اپنے عطیات میک اے وش فائونڈیشن پاکستان حبیب میٹرو پولیٹن بینک لمیٹڈ کے اکائونٹ نمبر IBAN:PK 46MPBL0157417140296597 یا ادارے کے ایڈریس 208-A کلفٹن سینٹر بلاک 5کلفٹن کراچی پر بھیجیں۔ اگر ملک کا ہر مخیر شخص یہ ذمہ داری لے کہ وہ کسی ایک لاعلاج بچے کی آخری خواہش پوری کرے گا تو پاکستان کا کوئی بچہ اپنا خواب یا حسرت لئے اس دنیا سے رخصت نہیں ہوگا اور شاید یہی عمل آخرت میں ہماری نجات کا سبب بن جائے۔