وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے شاہراہِ بھٹو کا اچانک دورہ کیا۔
ترجمان وزیرِ اعلیٰ سندھ کے مطابق وزیرِ اعلیٰ کے ہمراہ سینئر وزیر شرجیل میمن، وزیرِ بلدیات سعید غنی اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب بھی موجود تھے۔
اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ سندھ کو پروجیکٹ ڈائریکٹر نیاز سومرو اور انجینئر خالد مسرور نے تفصیلی بریفنگ دی۔
پروجیکٹ ڈائریکٹر نے وزیرِ اعلیٰ سندھ کو بتایا کہ جام صادق انٹرچینج کی تعمیر میں 3 ماہ لگیں گے۔
سید مراد علی شاہ نے جام صادق انٹرچینج 2 ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ عید کی چھٹیاں ختم ہو چکی ہیں، کام کی رفتار تیز کریں، عوام کی سہولت کے لیے دونوں انٹرچینجز کو ٹریفک کے لیے جلد کھولنا چاہتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ جام صادق انٹرچینج اور قائدآباد انٹرچینج جلد مکمل کیا جائے۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ کازوے کے قریب شاہراہِ بھٹو پر زیرِ تعمیر راؤنڈ اباؤٹ جلد مکمل کیا جائے، ڈی ایچ اے اور عائشہ مسجد جانے کے لیئے حل نکالیں، منگل یا بدھ کو میٹنگ کروں گا، اس کی ڈرائنگ تیار کر کے پیش کریں۔
سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ اگلے 3 سال میں شاہراہِ بھٹو کو سی پورٹ سے منسلک کرنا ہے، اس کی پیشگی تیاری کی جائے، کے پی ٹی سے شاہراہِ بھٹو منسلک ہونے سے سی پورٹ ٹریفک ملک کے دیگر حصوں تک مؤثر انداز میں پہنچ سکے گا۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے زیرِ تعمیر قائدآباد انٹرچینج کا معائنہ بھی کیا۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ نے اس موقع پر کہا کہ قائدآباد انٹرچینج کو اپریل کے آخر یا مئی کے پہلے ہفتے میں ٹریفک کے لیے کھولیں گے، انٹرچینج کی ریمپ کا ارتھ ورک تقریباً مکمل ہو چکا ہے، قائد آباد سے سموں گوٹھ تک 4 کلو میٹر ایلیویٹڈ روڈ کی تعمیر کا کام تیز کیا جائے۔