آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
گزشتہ دو ماہ کے دوران دنیا کے مختلف ممالک میں بعض کانفرنسوں میں شرکت کے لئے جانے کا موقع ملا اور رمضان المبارک کے آغاز سے قبل اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم سے حرمین شریفین میں بھی حاضری کی سعادت نصیب ہوئی جہاں پر سینکڑوں مسلمانوں سے عالم اسلام اور پاکستان کے مسائل پر بات چیت ہوئی۔ حقیقت حال یہ ہے کہ ملت اسلامیہ ایک متفقہ قیادت سے نہ صرف سیاسی طور پر محروم ہے بلکہ مذہبی اعتبار سے بھی یہ محرومی حد سے زیادہ بڑھ رہی ہے اور اسی محرومی کا نتیجہ ہے کہ آج سیاسی اور مذہبی اعتبار سے عالم اسلام کے پاس کوئی ایسی سمت نہیں ہے جس سے مسلمانوں کے مسائل کا حل نظر آ سکے۔
المیہ تو یہ ہے کہ ملت اسلامیہ کا جملہ اور نعرہ تو بہت خوبصورت ہے لیکن یہ ملت ہے کہاں؟ اس کے وجود کو تلاش کرنا اس وقت آسان نہیں ہے اور اس کا اندازہ گزشتہ ماہ لندن میں جنگوں کے دوران خواتین کے ساتھ ہونے والے تشدد کے حوالے سے ہونے والی کانفرنس میں ہوا جس کا اہتمام برطانیہ کے وزیر خارجہ ولیم ہیک نے کیا تھا۔اس کانفرنس میں جب بوسینیا سے لے کر شام تک بچیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ذکر آیا تو یہ احساس ہوا کہ جس ملت اسلامیہ کا ہم ذکر کرتے ہیں یا جس کے بارے میں اللہ کے نبی ﷺ نے ارشادات فرمائے ہیں وہ تو کہیں دفن ہو چکی ہے۔بوسینیا ہو ، عراق ہو ، شام ہو

یا کشمیر، صومالیہ ہو یا فلسطین ، ہر جگہ مسلمان بیٹی تشدد کا نشانہ بن رہی ہے اور مسلمانوں کی مذہبی و سیاسی قیادت کو نہ اس کی فکر ہے اور نہ ہی احساس۔
اسی طرح جب غیر ملکی پاکستانی پاکستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں تو ان کی آنکھوں میں تیرتا ہوا پانی پاکستان کی بے بسی کا اور پاکستانیوں کی بے حسی کا خواہ وہ کسی بھی طبقہ سے ہوں احساس دلاتا ہے ۔ انہی حالات کے تناظر میں پاکستان علماء کونسل نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے چاروں جمعوں کو ملت اسلامیہ اور پاکستان کے مسائل کے ساتھ متصل کیا ہے۔گزشتہ جمعہ کو پورے ملک کے اندر حقوق العباد کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے اگرچہ ایک جمعہ کی تقریر اس کے لئے کافی نہیں ہے لیکن یہ ایک آغاز ہے جس کو بہت پہلے کر دیا جانا چاہئے تھا۔ حقوق اللہ کا انکار کفر ہے اور نہ ہی یہ ترغیب دی جانی چاہیے کہ حقوق اللہ کی ادائیگی نہ کی جائے لیکن اس بات کو بھی مدنظر رہنا چاہیے کہ حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی بھی اسلامی تعلیمات کی بنیاد ہے اور رسول اکرم ﷺ کی شریعت مطہرہ حقوق العباد کو بنیادی اہمیت دیتی ہے۔
آج اگر ہم صرف پاکستان کی بات کریں تو ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ ایک طرف وہ طبقات ہیں جن کے دسترخوانوں پر موجود نعمتوں کا شمار ہی ممکن نہیں ہے اور ایک طرف وہ طبقہ ہے جو سحری اور افطاری میں بھی سادہ سالن اور روٹی سے محروم ہے۔ مہنگائی اپنے عروج پر ہے اور عام انسان تین وقت کی روٹی سے آہستہ آہستہ دو وقت کی روٹی کی طرف چلا جا رہا ہے۔ جبکہ اسلامی تعلیمات تو ہمیں یہ حکم دیتی ہیں کہ اگر کوئی پیٹ بھر کے کھا کے سو گیا اور اس کا پڑوسی بھوکا رہا تو ایسے شخص کو اللہ کے نبی ﷺ نے اپنی امت سے نکال دیا ہے ۔ یہی احکامات ذخیرہ اندوزوں اور زیادہ منافع لینے والوں کے لئے ہیں لیکن اسلامی احکامات واضح ہونے کے باوجود مسلمانوں پر یہ بے حسی کیوں ہے؟
اس پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے اور محراب ومنبر ہی وہ مرکز ہے کہ اگر وہاں سے اس سمت آواز بلند ہو تو اس کے مثبت اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔اسی طرح آئندہ آنے والے جمعوں کے اجتماعات میں علماء اور خطباء کو جو موضوع دیئے گئے ہیں وہ بھی معاشرے کی اصلاح کے لئے موجودہ حالات میں اہمیت کے حامل ہیں۔ جن میں وزیر ستان سے نقل مکانی کر کے آنے والے پاکستانیوں کی امداد ، جہاد اور دہشت گردی میں فرق اور بیٹی رحمت ہے زحمت نہیں کے عنوانات شامل ہیں۔یہاں پر یہ بات سمجھ میں آ جا نی چاہئے کہ اگر پاکستان اور دنیا بھر کے علماء نے اسلام کی حقیقی تعلیمات کو مصلحتوں ، مفادات اور اغراض سے ہٹ کر دنیا کے سامنے بیان نہ کیا تو وہ قوتیں جو اسلام کا چہرہ مسخ کر رہی ہیں یا مسخ کرنا چاہتی ہیں وہ نہ صرف صورتحال سے فائدہ اٹھائیں گی بلکہ مسلمانوں کے حوالے سے پیدا ہونے والی غلط فہمیاں مستقل طو پر تاریخ کا حصہ بنا دی جائیں گی اور مذہبی طبقہ کی خاموشی اور حالات کا ادراک نہ کرنا ایک جرم کے زمرے میں آئے گا۔ جس سے بہرحال بچنے کی کوشش کی جانی چاہئے۔آج اگر ہم صرف پاکستان کے اندر عورتوں اور بچیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے بارے میں غور و فکر کریں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وحشت و بربریت اور درندگی صبح و شام اپنی تاریکی پھیلا رہی ہے۔جبکہ ان اندھیروں میں کوئی اجالا نظر نہیں آتا۔ہم جو محمد بن قاسم کو اپنا ہیرو قرار دیتے ہیں تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر محمد بن قاسم ایک بچی کی چیخ پر عربستان سے سندھ آ گیا تھا تو آج ہمارے اردگرد جو بچیوں کی چیخ وپکار ہے وہ ہمیں سنائی کیوں نہیں دیتی؟
کیا علماء اور مذہبی طبقہ کی یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ آقائے دو عالم ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں بچیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر نہ صرف آواز بلند کریں بلکہ ان کے لئے انصاف کے دروازوں کو کھٹکھٹائیں۔اسی طرح پاکستان سمیت پوری دنیا اس وقت جہاد اور دہشت گردی کے حوالے سے یرغمال بنی ہوئی ہے ۔ جہاد کا خوبصورت چہرہ مسخ کر کے رکھ دیا گیا ہے ۔ جہاد جو مظلوموں کی مدد اور ظالموں کی سر کوبی کے لئے کیا جاتا تھا اس کا نام وحشت و بربریت کے ساتھ لیا جاتا ہے اور اس سے بڑا المیہ کیا ہو گا کہ مسلم نو جوان کی فکر کو صبح و شام تبدیل کیا جا رہا ہے اور وہ نوجوان جو عالمی حالات کے تناظر میں پہلے ہی ذہنی طور پر غیر مطمئن اور حالات کے جبر کا شکار ہے وہ اس آگ میں جل رہا ہے اور اسی طرح ہمارے وہ بھائی جو وزیرستان سے آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے نکلے ہیں ان کی مدد ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
امید تو یہ ہے کہ انشاء اللہ رمضان المبارک کے مقدس مہینہ میں علمائے کرام اور خطباء عظام کی طرف سے ان عوامی مسائل پر گفتگو کے نتیجے میں مثبت پیش رفت ہو گی۔ حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی طرف توجہ کی جائے گی اور عوام کو محراب ومنبر سے یہ شعور دیا جائے گا کہ اسلام میں حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کو بھی بنیادی اہمیت ہے جس کو نظر انداز کر کے کامیابی کا راستہ نہیں پایا جا سکتا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں