آپ آف لائن ہیں
بدھ15؍ محرم الحرام1440ھ 26؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جناب ذوالفقار علی بھٹو کے 4اپریل 1979ء کے عدالتی قتل کے بعد 18جولائی 1985ء کو شاہنواز بھٹو کی پراسرار موت بھٹو خاندان کے لئے دوسرا بہت بڑا سانحہ تھا کیونکہ شاہنواز اپنی والدہ بیگم نصرت بھٹو اور ہمشیرہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے بہت قریب تھے۔ بیگم بھٹو اپنے خاندان کے ہمراہ تعطیلات منانے کے لئے جنوبی فرانس میں تھیں‘ مرتضیٰ بھٹو‘ ان کی بیوی فوزیہ اور بیٹی فاطمہ‘ شاہنواز بھٹو اپنی بیوی ریحانہ اور بیٹی سسی کے ساتھ اپنی ہمشیرہ بے نظیربھٹو کے منتظر تھے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شیڈول کے مطابق 11جولائی کو جانے والی تھیں لیکن لندن میں بعض اہم مصروفیات اور ملاقاتوں کی وجہ سے وہ نہ جاسکیں اور 16جولائی کو لندن سے سائوتھ آف فرانس گئیں۔ انہوں نے اپنے بھائیوں اور ان کے بچوں کے ہمراہ دو دن خوشی سے گزارے لیکن بدقسمتی ان کے تعاقب میں تھی اور رات دیر گئے شاہنواز ان کو شب بخیر کہہ کر اپنے فلیٹ میںآگئے۔ جہاں 18جولائی کو وہ پراسرار طور پر مردہ پائے گئے اور ان کی بیوی اس وقت وہاں موجود تھی جسے پولیس نے فرانسیسی قانون کے مطابق حراست میں لے لیا کہ اس نے ایک دم توڑتے ہوئے شخص کی مدد نہ کی۔
ادھر فیملی ممبران کو یہ یقین تھا کہ شاہنواز کی موت کی ذمہ دار ان کی بیوی ریحانہ ہے۔ چنانچہ مرتضیٰ نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اپنی افغان بیوی

فوزیہ کو طلاق دیدی کہ ان کے بھائی کی موت میں فوزیہ کی بہن ریحانہ کا ہاتھ ہے۔ اس طرح فیملی ہالیڈے ایک عظیم المیے میں بدل گیا ۔ اگلے دن جب شاہنواز کی موت کی خبر عام ہوئی تو دنیا بھر سے اظہار افسوس کے لئے محترمہ بے نظیر بھٹو سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن یہ رسائی ممکن نہ تھی۔ تعزیت کرنے والے بہت سے لوگ وہاں جانا چاہتے تھے چنانچہ بی بی ایک دن کے دورے پر لندن آئیں تاکہ پارٹی لیڈر ان سے تعزیت کرسکیں۔ سارا دن اہم رہنمائوں کے علاوہ عام کارکنوں سے صبح گیارہ سے لیکر شام تک تعزیتی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اگلی صبح وہ پھر واپس فرانس چلی گئیں۔ اس کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ تھا کہ چار ہفتوں تک پولیس تحقیقات کرتی رہی اور شاہ نواز کی میت اس کی تحویل میں رہی اور یہ چار ہفتے بھٹو خاندان کے لئے موت سے زیادہ اذیت کے لمحات تھے۔شاہنواز کی المناک موت کو بعض لیڈروں نے بیان بازی کا سلسلہ بنا لیا۔ ایک رہنما نے روزانہ اس نوعیت کے بیان دینا شروع کردیئے کہ ان کی باڈی فلا ں دن کراچی پہنچ رہی ہے۔ کراچی کے دو انگریزی اخباروں میں ان خبروں کی اشاعت بھٹو خاندان کے قریبی عزیزوں اور خیرخواہوں میں بےیقینی اور بے چینی کا باعث بنیں۔ چنانچہ بی بی نے مجھے ہدایت کی کہ میں یہ اخباری بیان جاری کروں کہ ان کے بھائی کی میت پاکستان لے جانے کا اعلان صرف میں کروں گا۔ اس طرح یہ روز کی بیان بازی کا سلسلہ روک دیا گیا۔ بالآخر فرنچ حکام نے 20اگست 1985ء کو میت ریلیز کی اور بی بی 22اگست کو اپنے بھائی کو واپس لاڑکانہ لائیں۔ المرتضیٰ میں غسل دیا گیا اور جنازہ کے بعد آبائی قبرستان گڑھی خدا بخش میں اپنے والد جناب ذوالفقار علی بھٹو کے پہلو میں سپردخاک کردیا۔ میت کے ہمراہ ان کی ہمشیرہ صنم بھٹو آئیں۔دونوں بہنیں غم کی تصویر تھیں اور انہوں نے بڑی حوصلہ مندی سے اپنے جواں سال بھائی کے غم کا صدمہ برداشت کیا۔ میں بھی ان کے ہم سفر تھا۔ جناب مخدوم امین فہیم اور جناب غلام مصطفی جتوئی اسی جہاز میں ساتھ آئے۔ لاڑکانہ میں اس وقت بے پناہ ہجوم تھا۔ حالانکہ جنرل ضیاء نے لاڑکانہ جانے والے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کردی تھیں۔ تعجب انگیز بات یہ تھی کہ پاکستان کے کونے کونے سے لوگ ان رکاوٹوں کو توڑ کر اپنے عظیم لیڈر کے پیارے بیٹے کے آخری دیدار کے لئے پہنچے تھے۔
شاہنواز بھٹو بہت خوبصورت نوجوان تھے۔ بھٹو صاحب کی طرح ان کا رومانس بھی عوام کے ساتھ تھا جمہوری حقوق کے لئے ان میں دیوانہ وار جذبہ تھا۔ انہوںنے جنرل ضیاء کے مارشل لا کے خلاف اپنے انداز میں جدوجہد کی۔ اس سلسلے میں انہوں نے تین ماہ تک بیروت میں تربیت بھی لی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شاہنواز سے بہت پیار کرتی تھیں لیکن ان کی موت کے صدمہ نے ان میں ایک نیا حوصلہ اور قوت پیدا کردی تھی۔ مارشل لا کے فوراً بعد جب بھٹو صاحب زیرحراست تھے تو بیگم صاحبہ نے بے نظیر اور شاہنواز کو بطور خاص لاہور بھیجا تھا تاکہ وہ کارکنوں کا حوصلہ اور ہمت بڑھا سکیں۔ دونوں بہن بھائیوں کی عملی سیاست کی یہ ابتدا کہی جاسکتی ہے۔ شاہنواز بے شمار خوبیوں کے مالک تھے اور انہیں اسکول کے ایام سے ہی نظم و ضبط کی تربیت دی گئی تھی۔ اس سلسلے میں جناب رائو مظہر حیات نے اپنی تحریر میں بڑا حیرت انگیز اور دلچسپ واقعہ یوں بیان کیا ہے: ’’شاہنواز بھٹو کی ایک سالگرہ اس دورانیے میں آگئی جب وہ حسن ابدال میں پڑھ رہا تھا۔ مجھے آج تک یاد ہے ہم لوگ اکیڈیمک بلاک کی سیڑھیوں سے نیچے اتر رہے تھے۔ وزیراعظم ہائوس کا ایک ویٹر انتہائی ادب اور احترام سے اسسٹنٹ وائس پرنسپل کے کمرے کے باہر کھڑا ہوا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک طشتری تھی جس پر ایک خط رکھا ہوا تھا۔ اکیڈیمک بلاک کے باہر ایک چھ دروازے والی کالی مرسڈیز گاڑی کھڑی ہوئی تھی۔ اس دن شاہنواز کی سالگرہ تھی۔ ویٹر نے خط اسسٹنٹ وائس پرنسپل کے حوالے کردیا۔ اس دن شائد ہفتہ تھا مگر ویک اینڈ تمام طالبعلموں کے لئے بند تھا۔ وزیراعظم نے اپنے ہاتھ سے تحریرشدہ خط میں پرنسپل سے درخواست کی تھی کہ آج ان کے بیٹے کی سالگرہ ہے لہٰذا اسے گھر آکر اپنی والدہ اور بھائی بہنوں کے ساتھ سالگرہ منانے کی اجازت دی جائے۔ جب یہ خط پرنسپل کے پاس پہنچاتو انہوں نے انکار کردیا اور بتا دیا کہ اس ویک اینڈپر کوئی بھی طالبعلم کالج سے باہر نہیں جا سکتا۔ جو گاڑی شاہنواز بھٹو کو لینے کیلئے آئی تھی وہ بالکل اسی طرح خالی واپس چلی گئی۔ شام کو ہم لوگوں نے دیکھا کہ ایک انتہائی باوقار خاتون‘ دو بچیاں اور ایک لڑکا پرائیویٹ کپڑوںمیں میس کی طرف جارہے ہیں۔ یہ خاتون بیگم نصرت بھٹو تھیں اور بچیاں بینظیر اور ان کی ہمشیرہ تھیں۔ جس لڑکے نے کیک اٹھایا ہوا تھا وہ شاہنواز کا بڑا بھائی مرتضیٰ بھٹو تھا۔ ان کے ساتھ کوئی سرکاری ملازم یا ویٹر نہیں تھا۔ میس پہنچ کر شاہنواز اور ان کے روم میٹس کو اکٹھا کیا گیا۔ ایک چھوٹے سے کمرے میں اس کی والدہ اور فیملی نے کیک کاٹا۔ اس کمرے میں کوئی کرسی نہیں تھی۔ ٹیبل کے ہر طرف عام سے بنچ پڑے ہوئے تھے۔ تمام بچے میس میں اسی طرح کے بنچوں پر بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔ خاتون اول اور ان کی فیملی نے اپنے لئے کرسی یا صوفہ یا کسی قسم کا آرام دہ کشن طلب نہیں کیا۔ یہ آدھ پون گھنٹے کی تقریب انتہائی سادگی سے منائی گئی۔ پرنسپل نے شاہنواز کو ویک اینڈ پر اپنے گھر جانے کی قطعاً اجازت نہیں دی۔ وزیراعظم نے پرنسپل کے اس اختیار کو تسلیم کیا اور اس پر کوئی منفی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔‘‘ رائو منظر حیات بھٹو صاحب کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ’’1977ء میں دنیا تبدیل ہوگئی۔ میرے جیسے طالبعلم کی دانست میں بھٹو ہماری سیاست کا دیومالائی کردار تھا۔ ایک حیرت انگیز شخص‘ شاید ہمارے عہد کا سب سے عظیم مرد عجیب۔‘‘ ذوالفقار علی بھٹو اپنے بیٹے شاہنواز سے بے حد پیار کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے عدالتی قتل سے قبل یہ وصیت کی کہ ان کی یادگار قیمتی گھڑی ان کے سب سے چھوٹے بیٹے کو دی جائے۔ بھٹو صاحب کی آخری نشانی شاہنواز کو لندن پہنچا دی گئی تھی۔بے نظیر بھٹو اپنی طویل جلاوطنی کے دوران لندن میں اپنے بھائی کے لئے قرآن خوانی کا اہتمام کیا کرتی تھیں۔ اب ان کے جانے کے بعد بی بی کے کارکن شاہنواز بھٹو کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی کرتے ہیں اور بھٹو خاندان سے ان کا یہ روحانی رشتہ تابندہ و درخشاں ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں