آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جو بات ایک عشرہ قبل امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے تجزیہ نگار تھامسن فرائیڈمین نے کہی تھی وہی باندازدگر حافظ محمد سعید نے دانشوروںاور اخبارنویسوں کے سامنے دہرائی۔فرائیڈمین نے لکھا تھا:
"We don't want a war with Islam, we want a war within Islam"
(ہم اسلام کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے،ہم اسلام کے اندر جنگ چاہتے ہیں)
اسلام کے اندر جنگ اکیلے فرائیڈمین کی خواہش نہ تھی سوویت یونین کی شکست و ریخت کے بعداسلام کو مغربی تہذیب کے لئے خطرہ نکسن، ہنٹنگٹن، یوکوماناجیسے سیاسی دانشور قرار دے چکے تھے اور 9/11 کے بعد بش، رمزفیلڈ، ڈک چینی اور اس کے نظریاتی حلیفوںبرطانیہ، بھارت اور اسرائیل کی یہ خواہش و کوشش رہی کہ صلیبی جنگ کو کامیابی سےہمکنارکرنے کےلئے اسلام کے اندر جنگ برپاکی جائے۔ وہ یہ جنگ برپاکرنے میںکامیاب رہے۔
سب چاہتے تھے کہ مسلمان مسلک، علاقے،رنگ، نسل اور زبان کی بنیاد پرمنقسم اور باہم دست و گریباں ہوں، کبھی بحیلۂ مذہب کبھی بنام وطن ایک دوسرے کا گلاکاٹیںتو کسی دشمن کو ان پرغلبہ و تسلط کے لئے اپنے وسائل، توانائیاںاورگولہ باروداستعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔یہ خود ہی ایک دوسرے کو ملیامیٹ کرنے کے لئے کافی ہیں بنائے اتحاد، کلمہ طیبہ، ایک خدا، ایک رسولؐ،ایک کتاب نہ رہے تو پھرانہیں ایک دوسرے سے لڑانا آسان اور نیوورلڈآرڈر کی تکمیل

ممکن ہے۔
افطارپارٹی میں حافظ محمدسعید نے باتیں تواوربھی بہت سی کہیںمثلاً یہ کہ جن لوگوں نے امریکہ و بھارت کے اشارے اور انگیخت پر پاکستان میںفسادبرپاکیاوہی چین کی پاکستان دوست ریاست کے لئے مصیبت بن گئے ہیں تاکہ چین عالم اسلام کےساتھ مل کراس تہذیبی،تمدنی، ثقافتی، سیاسی، عسکری اورمعاشی یلغار کامقابلہ نہ کرسکے جو مسلم ورلڈ کے وسائل پر قبضے کے لئے جاری ہے۔ مہابھارت اورگریٹر اسرائیل کے تصور کوتقویت پہنچارہی ہے۔
تاہم ایک گھنٹے کی گفتگو میں ٹیپ کا بند ان کا یہ تجزیہ تھاکہ امریکہ و بھارت نےاپنےاپنے مقاصد کے تحت مل کر دہشت گردی کی جنگ کو افغانستان سے نکال کر پاکستان میں برپا کردیاہے۔ پاکستان اب میدان جنگ ہے اور خطہ کی ساری متحارب قوتیں اپنی پراکسی وار فاٹا سے بلوچستان تک پاکستان میں لڑ رہی ہیں۔ ہر جگہ نسلی،لسانی، علاقاتی، مسلکی عصبیتوں کا دور دورہ ہے۔ انہی بنیادوں پر کلمہ گو ایک دوسرے کاگلہ کاٹ رہے ہیں اوریاست کے وجود کے لئے بھی خطرہ بن گئے ہیں۔
اس صورتحال سے نکلنے اورپاکستان کے اندر جاری جنگ کی روک تھام کے لئے امریکہ و بھارت کو مطلوب جان بکف شخص کا تجویز نما مشورہ یہ تھا کہ ہمیں اپنی آزادی برقرار رکھنے، سلامتی کا تحفظ کرنے اور امن، ترقی، خوشحالی اور استحکام کا سفر جاری رکھنے کے لئے یہ جنگ سمجھداری کے ساتھ سرحدوں سے باہردھکیل دینی چاہئے۔ اس ملک میں جہاں نسلی، لسانی، علاقائی اور مذہبی اختلافات ہم سے زیادہ شدید احساس محرومی کئی گنا بڑھ کر اورکئی عسکری تحریکیں سرگرم عمل ہیں یہی پاکستان کی بقا کا راز اور استحکام کی ضمانت ہے ورنہ ہم داخلی جنگ میںاپناسب کچھ برباد کر بیٹھیںگے۔
پاکستان میں جاری جنگ کو اٹھا کر بھارت میں پھینک دیناکس قدر آسان اور قابل عمل ہے؟ موجودہ عالمی تناظر میں کون اس کی اجازت دے گا؟ پاکستانی حکومت، فوج اور خفیہ ادارے بین الاقوامی معاہدوں، سفارتی نزاکتوںاور مشرقی و مغربی سرحدوں پر غیرموافق حالات کے باوجود یہ کام کس طرح کرسکتے ہیں؟اور بھارت و امریکہ کاایسی کسی حرکت پر ردعمل کیا ہوگا؟ ان سوالات کے جواب حافظ صاحب ہی دے سکتے تھے مگر وقت کی تنگی اور حافظ صاحب کی ایک اور افطاری میں شرکت کی مجبوری آڑے آئی اور وہ رخصت ہوگئے۔
صرف پاکستان نہیں اس وقت فلسطین، عراق، افغانستان، شام، مصر، یمن، بحرین، چیچنیا اور لیبیا میدان جنگ میں تبدیل ہوچکے ہیں اور ہر جگہ مسلمانوںکا خون بہہ رہا ہے کہیں بیگانوں اورکہیں اپنے ہی بھائیوں کے ہاتھوں۔ کہنے کو یہ جرم ضعیفی کی سزاہے مرگ ِ مفاجات۔ مگر یہ محض جرم ضعیفی کی سزا نہیں یہ A war within Islam کا شاخسانہ ہے۔کمزور، بے آسرا اور بے وسیلہ تو غیرت منداور پسماندہ افغان بھی تھے مگر برطانیہ و سوویت یونین کی طرح سائنس و ٹیکنالوجی کے بے تاج بادشاہ امریکہ کو خاک چاٹنے پر انہوں نے مجبور کر دیااور وہ تاریخی ناکامی کا داغ ماتھے پر سجاکر رخصت ہو رہا ہے۔
جن بھوت کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ وہ نکلتے ہوئے گھر کادروازہ توڑ دیتاہے یا کسی کی ٹانگ، ہماری فوج چاہتی ہے کہ امریکی جن افغانستان سے نکلتے ہوئے ہماری ٹانگ اور دروازہ کچھ نہ توڑ سکے اوراپنی ناکامی کازخم چاٹتا اپنےاصل ٹھکانے پرپہنچ جائے تاہم اس کا احساس و ادراک ہر سطح پر نہیں۔ تبھی ہم اپنی جنگ ملک سے نکال کر کسی اورطرف دھکیلنےمیں سنجیدہ ہیں۔ نہ عرب و دیگر مسلم ممالک کی طرح اپنی انسانی و اسلامی ذمہ داریاں ادا کرنےکے قابل، ورنہ غزہ میں مظلوم فلسطینیوںکا یہ حال نہ ہوتا اور کلمہ طیبہ کی بنیاد پروجودمیں آنے والی واحد نیوکلیئر مسلم ریاست اپنے دیدہ و نادیدہ دشمنوں کے سامنےکشکول پھیلائے،امن،معاشی استحکام اور سیاسی نظام کے تسلسل کی بھیک نہ مانگ رہی ہوتی۔
وفاقی وزیر سرحدی امور و شمالی علاقہ جات عبدالقادر بلوچ کے بقول حالیہ فوجی آپریشن 1965اور 1971 سے زیادہ بڑی جنگ کا نقطہ آغاز ہے۔ اس کی سنگینی اور شدت دونوں جنگوںسے کہیں بڑھ کر ہے مگر ہماری قومی قیادت کا طرزِ عمل دیکھ کر لگتا ہے کہ پاکستان میں سب اچھا ہے۔ ہر سو امن و سلامتی کا د ور دورہ ہے۔ حالات نارمل اور قومی زندگی معمول کے مطابق رواں دواں ہے بس تھوڑا سا سیاسی نظام کو فوج سے خطرہ ہے اوربعض قوتیں 2007میں امریکہ، برطانیہ اور عرب امارات کی رضامندی سے طے پانےوالے این آر او پر عملدرآمد میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔2023تک کرپشن، نااہلی، لوٹ کھسوٹ، اقربا پروری اور ناقص طرز حکمرانی پر مبنی جمہوری ڈھانچے کو بہرصورت برقرار رکھنے کی یقین دہانیوں سےانحراف کیاجارہا ہے۔ اس لئے سابق صدر آصف علی زرداری حالت ِ جنگ میںامریکہ کے دورے پر ہیں او ر وزیراعظم نوازشریف دو ہفتے کے لئے بیرون ملک عبادت میں مصروف۔
پیپلزپارٹی کی رہنماشہلا رضا کے بقول زرداری صاحب کا دورہ امریکی زعما کو یہ باور کرانے کے لئے ہے کہ وہ پاکستان میں مارشل لا نہ لگانے کا وعدہ متعلقہ اداروں کو یادکرائیں جبکہ میاںنواز شریف کی سعودی نائب ولی عہد شہزادہ مقرن سے ملاقات کو یار لوگ اسی این آر او اور جنرل پرویز مشرف کے حوالے سے دیکھنےمیں مصروف ہیں۔ اس موقع پر عمران خان نے بھی لارڈز کا میچ دیکھ کر پاکستان میں نارمل حالات کی نشاندہی کی ہے اور تینوں کےطرزِ عمل سے اس تاثر کو تقویت ملی ہے کہ فوج ہی اس ملک کی جغرافیائی سرحدوں اور سیاسی نظام کی محافظ اور اندرون ملک جملہ معاملات چلانے کی ذمہ دارہے اور سیاستدان باآسانی بیرون ملک اپنی مصروفیات جاری رکھ سکتے ہیں۔
این آر او کوسپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا تھا مگرشہلا رضا کےبیان سے لگتا ہے کہ یہ بدروح اب بھی پاکستان میں موجود ا ور موثر ہے کم از کم موجودہ عوام دشمن انسانیت کش نظام جس نے عوام کا جینا مشکل اور مرنا آسان کردیاہے کاحقیقی محافظ این آراو ہے۔ مگر کیا امریکہ، برطانیہ، سعودی عرب، امارات اس نظام کو برقرار رکھنے میں کسی کی مدد کرسکتے ہیں جو اپنے ہی بوجھ سے لرزہ براندام اورقریب المرگ ہے۔ یہ بھی اسلام کے اندر جنگ جاری رکھنے کی تدبیر ہے اوراس جنگ کو بیرون ملک دھکیلنےمیں رکاوٹ؎
شیرازہ ہوا ملت مرحوم کا ابتر
اب تو ہی بتا تیرا مسلمان کدھر جائے
اس راز کو فاش کر اے روح محمدؐ
آیات الٰہی کا نگہبان کدھر جائے!

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں