آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
انگریزی میں کہتے ہیں First impression is the last impression(پہلا اور ابتدائی تاثر ہی آخری اور حتمی تاثر ہوتا ہے) اب وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان لاکھ وضاحتیں کریں میڈیا اور مخالفین پر گرجیں برسیں قوم نے 25 جولائی کو وزیر داخلہ کے بیان اور وزارت داخلہ کی ریکوزیشن سے جو مفہوم اور تاثر اخذ کرنا تھا کرلیا، حکومت کی ناکامی اور مخالفین کے دبائو کا تاثر۔
25جولائی کو وزیر داخلہ نے یہ کہا’’اسلام آباد کی سیکورٹی یکم اگست سے تین ماہ کے لئے فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، شہر کے داخلی راستوں، اہم عمارات، پبلک مقامات، مساجد ،امام بارگاہوں سمیت حساس مقامات پر فوج تعینات کی جائیگی‘‘ اب فرماتے ہیں آرٹیکل 245 کا اطلاق صرف دہشت گردی کے خلاف ہوگا اور مقصد حساس مقامات کی سیکورٹی کو یقینی بنانا ہے۔ یہ پسپائی اپوزیشن کی اجتماعی مخالفت کا نتیجہ ہے، فوج کے تحفظات کا شاخسانہ یا فوج کے حیطۂ اختیار میں توسیع و اضافے کے خوف کے سبب؟ اللہ جانتا ہے یا فیصلہ ساز حکمران؟ ۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ حکومت نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کا دائرہ گھیرائو جلائو اور سیاسی سرگرمیوں تک وسیع کردیا ہے۔ عوامی تحریک کے کارکن لاہور اور اسلام آباد میں اس ایکٹ کے تحت جیلوں میں گل سڑ رہے ہیںجبکہ چودہ افراد کے قاتل اہلکاروں اور ٹاوٹوں میں سے کسی پر

اس ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوا، دوسرے 15 لاکھ آبادی کے شہر میں کل ملا کر حساس مقامات کتنے ہیں، ریڈ زون میں پارلیمنٹ ہائوس، ایوان صدر، وزیر اعظم ہائوس، سول سیکرٹریٹ، وزراء کالونی، پارلیمنٹرین ہاسٹل اور چند ایک دیگر جبکہ کہوٹہ کی ایٹمی تنصیبات، جی ایچ کیو، نور خان ائر بیس، آرمی ہائوس، بینظیر ائر پورٹ، ریلوے سٹیشن اور کئی دوسرے حساس مقامات راولپنڈی میں واقع ہیں جو پنجاب کا حصہ ہے۔ تو کیا وفاقی حکومت کو صرف حکمران طبقے کی فکر ہے، ان کے دفاتر اور سرکاری اقامت گاہوں کی فول پروف سیکورٹی مطلوب ،باقی ملک دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہے یا اللہ تعالیٰ محافظ ہے۔
آپریشن ضرب عضب 15 جون کو شروع ہوا، بلو بیک کا خطرہ ابتدائی دنوںمیں زیادہ تھا مگر حکومت نے کہیں آئین کے آرٹیکل 245 کےتحت فوج بلانے کا فیصلہ نہیں کیا ،عمران خان نے27 جون کو بہاولپور میں لانگ مارچ کا اعلان کیا تو ٹھیک چھ دن بعد 3 جولائی کو وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں آرٹیکل 245 کے تحت اسلام آباد فوج کے سپرد کرنے کا فیصلہ ہوا۔ ریکوزیشن کی نوبت 25 جولائی کو آئی جب درپردہ کوششوں کے نتیجے میں عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے مابین مفاہمت کی اطلاع خفیہ اداروں نے حکومت کو دی اور عمران خان کو انتخابی اصلاحات کے ذریعے رام کرنے اور ڈاکٹر طاہر القادری کو 77 کروڑ روپے کے نوٹسوں سے ڈرانے کی حکمت عملی ناکامی سے دو چار ہوگئی۔
ٹیکس کی عدم ادائیگی پر 77 کروڑ روپے کے نوٹس ایف بی آر نے ادارہ منہاج القرآن کو جاری کئے ہیں جو ایک خیراتی اور تعلیمی ادارہ ہے اور ہر طرح کے ٹیکسوں سے مستثنیٰ۔ شاید سالانہ محصولات کے اہداف پورا نہ کرنے والا یہ ریاستی ادارہ اپنی ناکامی کا غصہ نکال رہا ہے یا حکمرانوں کی خوشنودی کے ذریعے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے میں مصروف مگر کسی وکیل، دلیل، اپیل کے بغیر ٹیکس ادائیگی کے نوٹس دلچسپ واقعہ ہیں۔
قوم ا ور سیاسی جماعتوں کے علاوہ انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے علمبردار حلقوں کو 245 کے تحت فوج طلب کرنے کے حکومتی اختیار پر کوئی اعتراض ہے نہ ماضی میں قدرتی آفات اور فسادات کے موقع پر فوج طلبی کبھی کسی تنازع کا سبب بنی البتہ جب بھٹو صاحب نے 1977ء میں تحریک نظام مصطفیٰ میاں نواز شریف نے 1998/1992 میں کراچی آپریشن اور صدر آصف علی زرداری نے 2009میں لانگ مارچ کے موقع پر فوج طلب کی تو اس آرٹیکل کو سیاسی مہم جوئی کے لئے استعمال کرنے پر عوام کے علاوہ خود فوج کو اعتراض ہوا اور بالآخر فوج کو سیاسی معاملات میں مداخلت کرنا پڑی۔ تینوں بار سول حکومت کو ہزیمت اور ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا مگر سبق کسی نے نہیں سیکھا۔
بلاشبہ پاکستان اس وقت دہشت گردی کے خلاف جنگ اور آپریشن ضرب عضب کی بنا پر بلو بیک کا خطرہ محسوس کررہا ہے مگر وفاقی دارالحکومت کو عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کی یلغار کا سامنا ہے، دونوں کے مل جانے کی وجہ سے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم بھی اس بارات کا حصہ بن سکتے ہیں، اس لئے حکمران مانیں نہ مانیں اسلام آباد میں فوج بلانے کا فیصلہ اسی پس منظر میں ہوا البتہ ناموافق ردعمل کی وجہ سے چودھری نثار علی خان کو چھٹی کے روز پریس کانفرنس میں وضاحت کرنا پڑی ،یہ حکومت کی ایک ماہرانہ سیاسی چال تھی،ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی تدبیرجو فی الو قت الٹی پڑتی نظر آرہی ہے۔
حکمراں تسلسل سے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ان کی کامیاب اقتصادی ،معاشی اور سیاسی پالیسیوں کو ناکام بنانے کے لئے ایسٹیبلشمنٹ ا ور سیاسی مخالفین نے گٹھ جوڑ کرلیا ہے اور عمران خان کے علاوہ ڈاکٹر طاہر القادری کو میدان میں اتارنے والوں کا مقصد حکومت کا خاتمہ اور جمہوری نظام کی شکست و ریخت ہے۔ فوج بلا کر حکومت ممکنہ طور پر یہ مقاصد حاصل کرسکتی تھی (1) فوج اور اس کی سیاسی پشت پناہی کی دعویدار سیاسی و مذہبی قوتیں ایک دوسرے کے آنے سامنے کھڑی ہوں اور حکومت ایک طرف سکون سے بیٹھ کر تماشے دیکھے۔(2) آرٹیکل 199 کا آئینی اختیار معطل ہونے پر عدلیہ اور فوج کے مابین شکر رنجی پیدا ہو اور فوج ایک اور محاذ پر الجھ کر رہ جائے۔ (3)ماڈل ٹائون طرز کے کسی ناخوشگوار واقعہ کی صورت میں حکومت اور اس کے ماتحت سول ادارے بری الذمہ قرار پائیں۔
(4) ہنگامی صورتحال میں فوج حکومت کی اطاعت کرے تو اپوزیشن کی تنقید کا ہدف اور آئین کے مطابق اپنے آپ کو سیاسی معاملات سے الگ تھلگ رکھنے کی کوشش کرے تو ہر موقع پر حرف زنی کرنے والوں کی طرف سے یہ آہ و بکا کہ فوجی قیادت نے سول بالا دستی قبول نہیں کی اور کسی سازشی منصوبے کا حصہ بن گئی۔(5)اگر فوج ہنگامہ و احتجاج کا سدباب کرنے میں کامیاب رہے تو حکومت اپنی فتح و کامرانی کے شادیانے بجائے گی اور کسی تحریک کی ناکامی کا کریڈٹ لے کر باقی عرصہ اطمینان سے گزارے گی جبکہ خدانخواستہ معاملات بگڑے تو کراچی آپریشن اور کارگل آپریشن کی طرح ناکامی کا ملبہ بآسانی فوج پر ڈالا جاسکتا ہے کہ اس نے اعتماد میں ہی نہیں لیا اور منتخب وزیر اعظم کو اندھیرے میں رکھا گیا۔
حکومت نے آپریشن ضرب عضب کی آڑ میں ایک ماہرانہ سیاسی چال چلی مگر کہیں نہ کہیں چوک ہوگئی جس کی وجہ سے حکومت وضاحتوں پر اتر آئی ہے اورمخالفین کو یہ کہنے کا موقع ملا ہے کہ وہ ایک چھوٹے سے شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کی اہلیت رکھتی ہے نہ اپنے سیاسی مخالفین سے سیاسی انداز میں نمٹنے کی صلاحیت اور نہ اسے سیاسی معاملات میں فوج کی مداخلت یا معاونت کے مضمرات کا ادراک ہے۔ اس نے تاریخ سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا۔ کاش میاں صاحب کے مشیر ہر روز ایک نئے ایڈونچر سے باز رہیں مگر کیوں؟
اگر فوج چودھری نثار علی خان کے پہلے اعلان کے مطابق شہر کے داخلی راستوں پر تعینات ہوتی تو شہر میں داخل ہو کر احتجاجی مظاہرےکے خواہشمند سیاسی کارکنوں کا سامنا فوجی جوانوں سے ہوتا اور وہ انہیں روکنے پر مجبور۔ ظاہر ہے یہ صورت انتہائی خطرناک تھی اور اسی خطرے یا خدشے کی بنا پر اسلام آباد میں جنرل عبدالوحید کاکٹر فارمولے کی باتیں ہونے لگی تھیں، مگراب بھی کوئی نہ کوئی کاکٹر یا کیانی فارمولا ہی موجودہ محاذ آرائی کا خاتمہ کرسکتا ہے تاکہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ تو کیا جدہ کے جادو گر شریف الدین پیرزادہ واقعی ایسے ہی کسی فارمولے کے خدوخال سنوارنے میں مصروف ہیں؟
پس تحریر، بزرگ اور جرأت مند صحافی جناب مجید نظامی کی وفات میرے لئے بھی صدمے کا باعث ہے پچیس سالہ رفاقت اگرچہ برقرار نہ رہی مگر خوشگوار یادیں اوران گنت شفقتیں ناقابل فراموش ہیں۔ نماز جنازہ اور قل خوانی کے موقع پر ناقدری عالم کا منظر مغموم کرگیا۔ اللہ تعالیٰ نظریہ پاکستان کے علمبردار اس عاشق قائد اعظمؒ و اقبالؒ کی ذاتی نیکیوں، قومی خدمات اور آزادی صحافت کے لئے جدوجہد کو قبول فرمائے(آمین)
جو بادہ کش تھے پرانے، اٹھتے جاتے ہیں
کہیں سے، آب بقائے دوام لے ساقی

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں