آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ڈاکٹر طاہر القادری کی طرف سے یوم شہدا اورعمران خان کی طرف سے آزادی مارچ کے اعلان پر د وستوں کا غصہ بجا، انہیں جمہوریت دشمن قراردینابرحق اور احتجاجی تحریک کی ناکامی کی پیش گوئیاں سو فیصد درست مگر کیا یہ ردعمل اور اندازِ فکر اس بحران کی شدت کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے جس سے یہ مملکت خدادا د دوچار ہے؟اور کسی سیاسی بحران کا انکار عقلمندی ہے؟
پاکستان کے عوام اس لحاظ سے بدقسمت ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ خالص اور فیض رساں جمہوریت کی آرزو کی، صرف آرزو نہیں کی دیوانہ وارقربانیاں دیں مگر چمن کے رنگ و بو نے انہیں ہمیشہ دھوکہ دیا اور انہوں نے ذوق ِ گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دی۔ جمہوریت کے نام پر ایسا ظالمانہ اور کرپٹ نظام ان پر مسلط ہوتاہے کہ وہ آمریت کو یادکرکے روتے ہیں۔ مہنگائی، بیروزگاری، بدامنی، نا انصافی، جبر و تشدد اور لوڈشیڈنگ نے جمہوری دور میں ان کی زندگی عذاب کی ہے۔
ہمارے سیاستدان تو الا ماشااللہ اپنے مطبوعہ بیانات کے سواکچھ پڑھتےہیں نہ کسی پڑھے لکھے اور صائب الرائے شخص کو قریب پھٹکنے دیتے ہیں مگر جمہوریت کے قصیدہ خواں بھی بہت کم ہی مطالعہ کی زحمت گواراکرتے ہیں ورنہ ان میں سے کوئی کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر جان ڈن کی نئی کتاب ’’بریکنگ ڈیماکریسیز اسپیل‘‘(ٹوٹنا جمہوریت کے سحر کا)

پڑھ کر عبرت ضرو ر حاصل کرتا کہ جب امریکی جمہوریت کے بارے میں مصنف کا دلائل و شواہد کے ساتھ دعویٰ یہ ہے کہ ’’کوئی شخص بقائمی ہوش و حواس یہ نہیں کہہ سکتا کہ امریکہ کی حکمرانی اس کے عوام کے ہاتھ میں ہے‘‘ تو پاکستان میں جہاں خاندانی بادشاہت، اقربا نوازی اور چاپلوسوں کے تسلط کا دور دورہ ہے جمہوریت کا حال کیا ہوگا یہ دھاندلی کی پیداوار اور مراعات یافتہ طبقے کے مفادات کی محافظ ہے۔ جان ڈن کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’’اپنے حکمرانوں کو منتخب کرنے کے عوامی حق کی اہمیت بجا مگر جمہوریت اچھی حکمرانی کا متبادل نہیں بلکہ تاریخی طور پرزیادہ تر اس کے متضاد رہی ہے‘‘
مہذب جمہوری ممالک میں ڈیماکریسی اچھی حکمرانی کا متبادل ہونہ ہو کم از کم عوام کو قانونی، سماجی اور معاشی عدل و انصاف مساوی طور پر ضرور فراہم کرتی ہے اور انہیں اپنے حقوق حاصل کرنےکے لئے در در کی ٹھوکریں کھانا پڑتی ہیں نہ طاقتور اوربااثرافرادکی سفارش کے لئے ذلیل و خوارہونا پڑتا ہے اور نہ تھانے کچہری میں ان کی عزت نفس تار تار اور زندگی بھر کی کمائی برباد ہوتی ہے۔اس لئے بری حکمرانی انہیں زیادہ پریشان نہیں کرتی مگر پاکستان کا باوا آدم نرالہ ہے۔ نظام عدل و انصاف اس قدر فرسودہ، پیچیدہ، مہنگا اور ناقابل رسائی ہے کہ جیب میں پیسہ اور ہاتھ میں پرچی نہ ہو تو کبھی انصاف نہیں مل پاتا۔ نظام عدل میں موجود خرابیوں کا اعتراف وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اپنی ہر تقریر میں یہ شعر پڑ ھ کر کرتے ہیں؎
ظلم بچے دے رہا ہے کوچہ و بازار میں
عدل کو اب صاحب ِ اولاد ہونا چاہئے
میاں شہبازشریف 2008 سے یہ ُدہائی دے رہے ہیں اور ان کے وزیر، مشیر، سنگی ساتھی ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں مگر بانجھ نظام عدل کا حمل ٹھہرتا ہے نہ یہ انڈہ بچہ دیتا ہے۔ ہمارے ایک دوست مگر نظام عدل سے مایوس نہیں ان کا کہنا ہے کہ بعد از خرابی بسیار نظام عدل نے دو ہونہار، لائق، اہل او ر باصلاحیت بچے دیئے۔ حکومت نے کوئٹہ اور لاہور میں ان کی لیاقت مہارت سے فائدہ اٹھانا چاہا مگر ہر سو ہاہا کارمچ گئی اور حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے۔
تفنن برطرف تحصیل اور ضلع کی سطح پر جس شخص کو بھی کبھی کچہری سے واسطہ پڑا ہے وہ اس نظام عدل کی تباہ کاریوں سے واقف ہے جو اچھے بھلے خوشحال خاندان کو کنگال اور معقول شخص کو خبطی بنا دیتا ہے۔ تیسری نسل کو بھی انصاف مل جائے تووہ اپنے آپ کو خوش بخت تصور کرتی ہے البتہ منہ مانی قیمت ادا کرنے والوں کے لئے یہ نظام برق رفتاری سے کام کرتا اور من چاہا انصاف فراہم کرتاہے۔ کسی زمانے میں بااثر لوگ اس سے مستفید ہواکرتے تھے مگر اب صرف پیسے اور اقتدار کے سواکوئی اس سے مستفید نہیں ہوسکتا۔ دو مثالیں حاضر ہیں:
1999میں وزیراعظم نواز شریف سے آرمی چیف کی نامزدگی قبول کرنےاور کاندھے پر فل جنرل کے بیج لگوانے کے جرم میں جنرل خواجہ ضیا الدین کو جنرل پرویز مشرف نےاپنے آمرانہ اختیارات کے تحت تمام مراعات حتیٰ کہ پنشن تک سے محروم کردیا۔ پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں خواجہ صاحب کے اہل خانہ نے کس طرح کے نامساعد حالات کا مقابلہ کیا وہ جانتے ہیں یا ان کا خدا۔ 2007میںشریف خاندان وطن واپس آیا۔ 2008 میں جمہوریت بحال ہوئی۔ شریف خاندان کو پنجاب کا اقتدار ملااور اسی سال جنرل (ر) پرویز مشرف ایوان صدر سے رخصت ہوگئے مگر اپنی پنشن اور مراعات کی بحالی کے لئے عدالت عالیہ سے رجوع کرنے والے اس منتخب حکومت کے مقرر کردہ آرمی چیف، آئی ایس آئی چیف اورشاندار کیریئر کے حامل فوجی جرنیل کو آج تک انصاف نہیں مل سکا۔ داد رسی تو درکنار ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہو پایا کہ ان کی درخواست قابل سماعت ہے یا نہیں۔ خواجہ کی بے کسی، حکومت کی بے حسی اور نظام عدل کی بے بسی پر گھربیٹھے جنرل پرویز مشرف خوب خندہ زن ہیں۔
جسٹس (ر) محمد رفیق تارڑ نے 1998میں پارلیمینٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں سے ریکارڈ ووٹ لے کر عہدہ ٔ صدارت سنبھالا۔ 12اکتوبر1999کے بعدکچھ وقت ایوان صدر میں گزارا اور شریف خاندان کو معافی تلافی کے بعد جدہ روانہ کرکے استعفیٰ دیئے بغیر یہ شریف النفس، متدین اور دیانتدار شخص گھر لوٹ آیا۔ 31جولائی کے مشہور عالم فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ چونکہ صدر رفیق تارڑ نے استعفیٰ دیا نہ انہیں کسی آئینی و قانونی اتھارٹی نے اپنے منصب سے معزول کیا اس لئے آصف علی زرداری کے عہدہ ٔ صدارت سنبھالنے (2008) تک وہی صدر تھے اور جنرل پرویز مشرف کے بارے میں یہ سمجھا جائے گا کہ وہ کبھی گویا منصب ِ صدارت پر فائز ہی نہیں رہے۔
گزشتہ سال برادرم عرفان صدیقی نے ایک کالم میں تجویز پیش کی کہ جناب جسٹس (ر) رفیق تارڑ عدلیہ سے رجوع کریں اور 2008تک نہ صرف مراعات دینے بلکہ ان کی میعاد ِ صدارت 2008تک شمار کرنے کی استدعا کریں دیگر دوستوں نے بھی یقیناً یہ مشورہ دیا ہوگا۔ لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، سپریم کورٹ کے جج اورسابق صدر پاکستان رفیق تارڑ نے عدالت عالیہ میں رٹ دائر کی۔ بھاری فیس ادا کی اور اپنی درخوست میں لکھا کہ وہ تمام تر مالی مراعات انجمن حمایت اسلام کو عطیہ کردیں گے مگر ایک سال کا عرصہ گزارنے کے بعد بھی معاملہ ہنوز روز ِ اول است والا ہے۔ رٹ پٹیشن سردخانے کی نذر۔
تکلیف دہ بات یہ ہے کہ وفاقی حکومت پرویز مشرف کے عہدۂ صدارت کا اقرار کرتی ہے نہ انکار۔ اپنے اور قوم کے منتخب صدر کی دادرسی پر آمادہ ہے نہ واضح موقف اختیارکرکے ان کا دعویٰ مسترد کرنے کا بیان دیتی ہے۔ البتہ جب سیاسی مخالفین انتخابی دھاندلی کا شور مچاتے ہیں تو حکومتی عہدیدار انہیں عدلیہ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اورہرگز نہیں سوچتے کہ جو نظام عدل اپنے سابق چیف جسٹس، صدر پاکستان، سابق آرمی چیف کو انصاف فراہم کرنے سے قاصر ہے اس سے کوئی عام آدمی اور حکومت کا سیاسی مخالف کیاامیدیں وابستہ کرسکتا ہے؟
میاںشہباز شریف درست کہتے ہیں اس نظام زر کو برباد ہونا چاہئے اور عدل کو صاحب ِ اولاد مگر جب کوئی ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان اس نظام زر کو دریابرد اوربانجھ نظام عدل کو فعال کرنے کےلئے نکلتا ہے تو سارے جمہوریت پسند، آئین و قانون کی حکمرانی کے دعویدار اور عدل و انصاف کے علمبردارظلم اور دھونس دھاندلی پر مبنی اس نظام کے حاشیہ بردار اورمخالفوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے ہیں کہ اسے کوئی ٹھیس نہ پہنچے ا ور یہ کوچہ و بازار میں سکون سے بچے دیتا رہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں