• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یوم النحر: سنتِ ابراہیمیؑ کی پیروی کا تاریخ ساز دن

خاندانِ قطبی کے عالی شان محلوں میں ناز ونعم میں پرورش پانے والی، اللہ کے نبی، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مونس و غم گسار، عفّت مآب اہلیہ، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ، حضرت ہاجرہ علیہا السلام حجاز کے سیاہ، بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان فاران کے لق و دق صحرا کی ایک وادی بیابان میں صبر و استقامت کا پیرہن زیب تن کیے، ایک پرانے درخت کے سائے میں بیٹھی ہیں۔

کم سِن شیرخوار فرزند گود میں ہے۔ ہُوحق ویرانے میں دُور، دُور تک نہ آدم نہ آدم زاد، نہ چرند نہ پرند… ہاں، کبھی کبھی گرم ریت کی سنسناتی ہوائوں کی پُراسرار آواز، خاموشی و سنّاٹے کے ماحول کی وحشت میں اضافے کا باعث بنتی ہیں، لیکن سیّدہ کے نورانی چہرے پر سکون و اطمینان کا سایہ ہے۔ نبی کی اہلیہ ہیں، جانتی ہیں کہ نبیوں کا ہر عمل حکمِ الٰہی کے تابع ہوتا ہے۔ اگر مشیتِ الٰہی یہی ہے، تو یقینِ کامل ہے کہ ربّ کائنات ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔

ابھی زادِ راہ ختم ہی ہوا تھا کہ اللہ کے حکم سے حضرت جبرائیل امین ؑ کے ہاتھوں وہ عظیم معجزہ رونما ہوا، جس کے فیوض و برکات سے آج بھی پوری دنیا سیراب ہورہی ہے۔ آبِ زم زم کا بہتا چشمہ، بے آب و گیاہ صحرا میں زندگی کی نوید لے کر آیا۔ قبیلہ جرہم کے لوگوں نے بستی بسائی، جو دنیا کا سب سے مقدم و محترم شہر مکّہ مکرّمہ کہلایا۔ اللہ کے نبی سیّدنا ابراہیم ؑ خلیل اللہ ہر سال اپنی بیوی اور بچّے کی خبرگیری کے لیے تیز رفتار سواری پر سوار ہوکر تشریف لاتے تھے۔ (تفسیر ابنِ کثیر 178/1)

حضرت ابراہیم ؑ کا خواب

تیرہ سال کا طویل عرصہ پلک جھپکتے ہی گزر گیا۔ حضرت اسماعیل ؑ ایک خُوب رُو نوجوان کا رُوپ دھار چکے تھے۔ انھوں نے اپنی جھونپڑی سے متصل جگہ پربھیڑ، بکریوں کا ایک باڑا بھی بنالیا تھا کہ اب یہی اُن کا روزگار تھا۔ اُدھر فلسطین میں سیّدنا ابراہیم علیہ السلام اپنی پہلی اہلیہ، حضرت سارہ کے ساتھ مقیم تھے۔

عُمر ِمبارک ایک سو سال ہوچکی تھی، مطمئن تھے کہ مکّے میں موجود اُن کا بیٹا، دین کے کام کو آگے بڑھائے گا، لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ابھی ایک امتحان باقی تھا، جو پچھلے دو امتحانات سے زیادہ کڑا اور سخت تھا، کیوں کہ اس بار خود صاحب زادے کی رضامندی بھی شامل ہونا ضروری تھی۔

خواب میں دیکھتے ہیں کہ اپنے لختِ جگر کو اپنے ہاتھوں سے ذبح کررہے ہیں۔ صبح اُٹھے تو بڑے مضطرب اور پریشان تھے۔ دوسری رات پھر یہی خواب نظر آیا۔ اضطرابی کیفیت میں مزید اضافہ ہوگیا۔ یاالٰہی! یہ کیا ماجرا ہے؟ پھر خیال آیا کہ کہیں یہ حُکمِ الٰہی تو نہیں۔ تیسری رات جب پھر وہی قربانی کا منظر دیکھا، تو یقین ہوگیا کہ یہ حکم من جانب اللہ ہے۔ جانتے تھے کہ انبیاء کے خواب بھی حُکمِ خدا وندی ہوتے ہیں۔

مکّہ مکرّمہ روانگی

فوری طور پر رختِ سفر باندھا۔ اپنی سواری پر سوار ہوئے اور مکّے کی جانب روانہ ہوگئے۔ راستے میں فلسطین کے بازار سے ایک تیز دھار چُھری اور مضبوط رسّی بھی لے لی۔ اُدھر حضرت اسماعیل ؑ حسبِ معمول آب ِزم زم کے کنویں پر تشریف فرما تھے۔ والد کو آتے دیکھا، تو احترام میں کھڑے ہوگئے۔ دُعا، سلام کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا۔’’اے بیٹا! مَیں خواب میں دیکھتا ہوں کہ (گویا) میں تمہیں ذبح کررہا ہوں۔

تو تم سوچو کہ تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘ (فرماں بردار صاحب زادے نے مودّبانہ لہجے میں کہا۔’’ ابّا جان! آپ کو جو حکم ہوا ہے، اس پر عمل کیجیے۔ اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابرین میں پائیں گے۔‘‘ (سورۃ الصّافات، آیت نمبر 102)۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا یہ سعادت مندانہ جواب دنیا بھر کے بیٹوں کے لیے آدابِ فرزندی کی ایک شان دار مثال ہے۔ تسلیم و رضا کی اس کیفیت کو علامہ اقبالؒ نے یوں بیان کیا ؎ یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی… سکھائے کس نے اسماعیلؑ کو آدابِ فرزندی۔

مقتل کی جانب روانگی

صاحب زادے کا جواب سُن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا۔ ’’بیٹا! مجھے تم سے ایسے ہی جواب کی امید تھی۔‘‘ پھربیٹے کو حضرت ہاجرہ کے پاس لے کرآئے اور فرمایا۔ ’’آج ہم اللہ کے حکم سے ایک اہم فریضے کی ادائی کے لیے جارہے ہیں۔‘‘ حضرت ہاجرہ نے چہیتے اور لاڈلے اکلوتے بیٹے کو نئی پوشاک پہنائی، آنکھوں میں سُرما، سَر میں تیل لگایا اور خوشبوؤں میں رچا بسا کر والد کے ساتھ سفر پر روانہ کردیا اور دروازے کی اوٹ سے دیر تک باپ، بیٹے کو جاتے دیکھتی رہیں، یہاں تک کہ دونوں نظروں سے اوجھل ہوگئے۔ شیطان زم زم کے کنویں پر باپ، بیٹے کی گفتگو سُن چکا تھا، جب اس نے صبر و استقامت اور اطاعتِ خداوندی کا یہ رُوح پرور منظر دیکھا، تو مضطرب ہوگیا۔

اُس نے انہیں اس قربانی سے باز رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔ چناں چہ جمرئہ عقبہ کے مقام پر راستہ روک کر کھڑا ہوگیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ موجود فرشتے کی ہدایت پر حضرت ابراہیمؑ نے اُس پر ’’اللہ اکبر‘‘ کہہ کر کنکریاں ماریں، تو غائب ہوگیا۔ ذرا آگے جمرئہ وسطیٰ کے مقام پروہ پھر آموجود ہوا۔

آپ نے پھر کنکریاں ماریں، وہ پھر غائب ہوگیا۔ اب مقتل کے قریب جمرہ اولیٰ کے مقام پر پھر کھڑا ہوگیا، آپ نے پھر کنکریاں ماریں تو وہ پھر غائب ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے خلیل ؑ کا شیطان کو کنکریاں مارنے کا یہ عمل اس قدر پسند آیا کہ اسے رہتی دنیا تک کے لیے حج کے واجبات میں شامل فرما دیا۔

حضرت ضحاک کا قول ہے کہ جس جگہ آج لوگ قربانی کرتے ہیں، یعنی دو پہاڑوں کے دامن میں واقع منیٰ کے مقام پرحضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے پیشانی کے بل لٹایا تھا۔ (تفسیر روح المعانی 130/12) البتہ توریت میں حضرت اسماعیل ؑ کی جگہ حضرت اسحاق ؑ اور قربانی کی جگہ منیٰ کے بجائے مروہ بیان کی گئی ہے، جو درست نہیں۔

شیطان، حضرت ہاجرہ ؑ کی خدمت میں

تین بار کنکریاں لگنے سے شیطان کا جسم زخموں سے چُور تھا۔ وہ اپنی ناکامی پر بہت پریشان تھا کہ اچانک اُس کے شیطانی ذہن میں ایک نئی چال نے جنم لیا۔ اس نے عورت کا بھیس بدلا اور بھاگم بھاگ حضرت ہاجرہ ؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا۔ ’’اے اُمِّ اسماعیل ؑ ! کیا تمہیں علم ہے کہ ابراہیم(علیہ السلام) تمہارے لختِ جگر کو کہاں لے گئے ہیں؟‘‘ انہوں نے جواب دیا۔ ’’ہاں، وہ کسی اہم کام سے مکّے سے باہر تشریف لے گئے ہیں۔‘‘ شیطان نے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔ ’’اے اللہ کی بندی! وہ تیرے بیٹے کو ذبح کرنے وادئ منیٰ میں لے گئے ہیں۔‘‘

حضرت ہاجرہ نے حیرت اور تعجب کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا۔ ’’یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شفیق، مہربان باپ اور وہ بھی اللہ کا نبی اپنے چہیتے اور اکلوتے بیٹے کو ذبح کر ڈالے؟‘‘ اور یہی وہ لمحہ تھا کہ جب بے ساختہ شیطان کے منہ سے نکلا کہ ’’وہ یہ سب اللہ کے حکم پر کررہے ہیں۔‘‘ یہ سن کر صبر و شُکر اور اطاعت و فرماں برداری کی پیکر، اللہ کی برگزیدہ بندی نے فرمایا۔ ’اگر یہ اللہ کا حُکم ہے، تو ایک اسماعیلؑ کیا، اُس کے حُکم پر سو اسماعیلؑ قربان ہیں، اور مجھے لگتا ہے کہ تُو شیطان ہے، یہاں سے دفع ہوجا۔‘‘ (قصص الانبیاء، صفحہ 82)۔

وقتِ ذبح باپ، بیٹے کا مکالمہ

شیطان، بی بی ہاجرہ ؑ کے پاس سے نامراد ہوکر واپس منیٰ کی جانب پلٹا، لیکن وہاں کا ایمان افروز منظر اور باپ بیٹے کی محیرالعقول گفتگو سُن کر اپنے سر پر خاک ڈالنے اور چہرہ پیٹنے پر مجبور ہوگیا۔ مفتی محمد شفیع ؒ بعض تاریخی اور تفسیری روایات کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں کہ ’’جب دونوں باپ بیٹے یہ انوکھی عبادت انجام دینے کے لیے قربان گاہ پر پہنچے، تو حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنے والد سے کہا۔ ’’ابّا جان! مجھے خُوب اچھی طرح سے باندھ دیجیے، تاکہ میں زیادہ تڑپ نہ سکوں اور اپنے کپڑوں کو بھی مجھ سے بچا لیجیے، ایسا نہ ہوکہ اُن پر میرے خون کے چھینٹے پڑیں، تو میرا ثواب گَھٹ جائے، اس کے علاوہ میری والدہ خون دیکھیں گی، تو انہیں غم زیادہ ہوگا اور اپنی چُھری بھی تیز کرلیجیے اور اسے میرے حلق پر ذرا جلدی جلدی پھیریے گا، تاکہ آسانی سے میرا دَم نکل سکے، کیوں کہ موت بڑی سخت چیز ہے، اور جب آپ میری والدہ کے پاس جائیں، تو انہیں میرا سلام کہہ دیجیے گا اور اگر آپ میری قمیص والدہ کے پاس لے جانا چاہیں، تو لے جائیے گا، شاید اس سے اُنھیں کچھ تسلّی ہو۔‘‘

اکلوتے بیٹے کی زبان سے یہ الفاظ سُن کر ایک باپ کے دل پر کیا گزری ہوگی؟ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام استقامت کا پہاڑ بن کر جواب دیتے ہیں۔ ’’بیٹے! تم اللہ کا حُکم پورا کرنے میں میرے کتنے اچھے مددگار ہو۔‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے بیٹے کو بوسہ دیا۔

پُرنم آنکھوں سے انہیں باندھا اور پیشانی کے بَل خاک پر لِٹادیا۔ تاریخی روایات میں ہے کہ شروع میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انہیں سیدھا لِٹایا تھا، لیکن جب چُھری چلانے لگے، تو بار بار چلانے کے باوجود گلا نہیں کٹتا تھا، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے پیتل کا ایک ٹکڑا بیچ میں حائل کردیا تھا۔

اس موقعے پر حضرت اسماعیل علیہ السلام نے خود یہ فرمائش کی کہ ’’ابّا جان! مجھے چہرے کے بَل کروٹ سے لِٹادیجیے، اس لیے کہ جب آپ کو میرا چہرہ نظر آتا ہے، تو شفقتِ پدری جوش مارنے لگتی ہے اور گلا پوری طرح کٹ نہیں پاتا۔ اس کے علاوہ جب چُھری نظر آتی ہے، تو مجھے بھی گھبراہٹ ہونے لگتی ہے۔‘‘ چناں چہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انہیں اسی طرح لِٹاکر چُھری چلانی شروع کی۔ واللہ اعلم۔ (معارف القرآن، جِلد ہفتم، صفحہ 461,460)-

قربانی قبول ہوگئی

اس سے قبل کہ چُھری اپنا کام مکمل کرے، غیب سے ایک صدا فضا میں گونجی۔ ترجمہ:’’اے ابراہیم ؑ! تم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا۔‘‘ (سورۃ الصّافات ،آیت 105) اُسی وقت، اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرائیل علیہ السلام جنّت سے ایک سفید، بڑا اور صحت مند دُنبا لے کر آئے، جسے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے فدیے میں ذبح کردیا گیا۔ باپ، بیٹے کے اس بے مثال جذبۂ ایثار، اطاعت و فرماں برداری، جرا ٔ ت و استقامت، تسلیم و رضا اور صبر و تشکّر پر مُہرِ تصدیق ثبت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا۔

ترجمہ:’’اور ہم نے ایک عظیم قربانی کو ان کا فدیہ بنا دیا۔‘‘ (سورۃ الصّافات آیت نمبر 107)۔ اللہ تبارک تعالیٰ کو اپنے دونوں جلیل القدر بندوں کی یہ ادا اس قدر پسند آئی کہ اسے اطاعت و عبادت اور قُربِ الٰہی کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے قیامت تک کے لیے جاری فرمادیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔ ترجمہ: اور ہم نے بعد میں آنے والوں کے لیے (ابراہیم ؑ کا ذکر ِخیر) باقی چھوڑ دیا کہ ابراہیم ؑ پر سلام ہو۔‘‘ (سورۃ الصّافات آیت نمبر109-108)۔

جنّت سے بھیجا ہوا دُنبا

مفسّرین میں سے کچھ نے دنبہ لکھا اور کچھ نے مینڈھا۔ امام فخرالدین رازیؒ ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ یہ وہی دنبہ تھا، جسے سیّدنا آدم علیہ السلام کے صاحب زادے ہابیل نے اللہ کے نام پرقربان کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اسے شرفِ قبولیت سے نواز کر جنّت میں پہنچادیا تھا، جہاں وہ چَرتا پھرتا رہا، یہاں تک کہ خُوب موٹا تازہ ہوگیا تھا، یہ دُنبا حضرت اسماعیل علیہ السلام کے فدیے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنّت سے بھیجا تھا۔ (تفسیر کبیر 153/1)

یہ دنبہ نہایت خُوب صُورت تھا، خاص طور پر اس کے حسین سینگ اپنی مثال آپ تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ سینگ اس قدر پسند آئےکہ انھیں محفوظ کرلیا اور جب خانۂ کعبہ کی تعمیر مکمل کرلی، تو انھیں میزابِ رحمت کے پاس لٹکادیا۔

علامہ ابنِ کثیرؒ مسندِ احمد کی ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمانؓ سے فرمایا۔ ’’کعبہ شریف میں داخلے کے وقت مَیں نے دنبے کے سینگ دیکھے تھے، مگر مجھے خیال نہ رہا کہ تمہیں ڈھانکنے کا حکم دیتا۔‘‘ یہ سینگ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کے دَور تک خانۂ کعبہ میں موجود تھے، لیکن 72ہجری میں جب حجّاج بن یوسف نے خانۂ کعبہ پر گولہ باری کی، تو کعبہ شریف میں آگ لگ جانے سے یہ بھی جل گئے۔ (روح المعانی 134/14)-

یوم النحرکے اعمال

حج کے تین دنوں کو اُن کے مخصوص اعمال کی وجہ سے مختلف ناموں سے نوازا گیا ہے، اور ان ہی ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ حج کے پہلے دن یعنی آٹھ ذوالحجہ کو یومِ ترویہ کہتے ہیں، جب کہ حج کا دوسرا دن یعنی 9ذوالحجہ کو یومِ عرفہ کہا جاتا ہے، اسی طرح حج کا تیسرا دن یعنی10ذوالحجہ کو ’’یوم النحر‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں اور یہی عیدالاضحی کا دن ہے۔

لغت میں’’ النحر‘‘ کے معنی قربانی کے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دس ذوالحجہ کو تیسری مرتبہ خواب دیکھا، تو آپ ؑ اسی روز اللہ کے حکم کی تعمیل پر کمربستہ ہوگئے۔برق رفتار سواری پر سوار ہوکر مکّہ مکرّمہ پہنچے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لے کر قربان گاہ آئے اور انھیں اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لیے پیش کردیا۔

اللہ تعالیٰ کو اُن کی یہ ادا اس قدر پسند آئی کہ اُس قربانی کو مسلمانوں کے لیے ہمیشہ کے لیے واجب قرار دے دیا۔’’ یوم النحر‘‘ والے دن حجاج منیٰ میں قربانی کرتے ہیں اور دنیا بھر کے مسلمان سنّتِ ابراہیمی ؑ کی پیروی میں، حسبِ توفیق قربانی کےجانور اللہ کی راہ میں قربان کرتے ہیں۔ چناں چہ اس دن کو یوم الاضحیہ بھی کہا جاتا ہے۔10ذوالحجہ یعنی ’’یوم النحر‘‘ کے اہم اعمال یہ ہیں۔ 1۔ رمی جمرہ، مزدلفہ سے واپسی پر10ذوالحجہ کی صبح جمرئہ عقبہ یعنی بڑے شیطان کو 7کنکریاں مارنا۔ 2۔ قربانی، رمی کے بعد جانور کی قربانی۔ 3۔ حلق یا قصر۔ قربانی کے بعد حضرات سر منڈواتے یا بال کٹواتے ہیں، جس سے احرام کی پابندیاں ختم ہوجاتی ہیں۔ 4۔ طواف زیارت، یہ حج کا رکن ہے۔ غرض کہ یوم ’’النحر‘‘حج کا مصروف ترین دن ہوتا ہے۔