• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہم تقریباً روزانہ ہی دوسروں پر کسی نہ کسی بہانے تنقید کرتے ہیں، اُن کی غلطیاں، خامیاں گنواتے ہیں، اُن کے فیصلوں کا مذاق اُڑاتے، اُن کی سوچ کو کم تر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہم آخر ایسا کیوں کرتے ہیں۔ دراصل ہر انسان کے اندر ایک چُھپا ہوا بادشاہ، ایک نادیدہ ڈکٹیٹر موجود ہوتا ہے، جو ہمیشہ خُود کو حق پر سمجھتا اور اپنے فیصلوں کو حرفِ آخر قرار دیتا ہے۔

یہ ڈکٹیٹر گھر میں بھی نظر آتا ہے، دفتر میں بھی، دوستوں کی محفل، یونی ورسٹی اور معاشرے میں بھی، مگر عجیب بات ہے کہ ہم یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ یہ’’ حُکم ران‘‘ ہمارے اپنے ہی اندر چُھپا بیٹھا ہے۔ ہم اپنی ہر سوچ، سچ، باقی سب کو غلط سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دوسرے بھی ہماری ہاں میں ہاں ملائیں، ہماری پسند کو پسند کریں، ہمارا نظریہ اپنائیں اور ہماری سوچ کو بغیر سوال کیے قبول کرلیں۔

اختلاف کرنے والے کو ضدی، جاہل، گستاخ یا کم عقل قرار دینے میں دیر نہیں لگاتے۔ یہی تو ڈکٹیٹر کی فطرت ہے کہ وہ صرف اپنی مرضی کو قانون سمجھتا ہے اور یہی سوچ ہم سب میں کسی نہ کسی درجے میں موجود ہے۔ بعض لوگوں میں یہ اَنا اِتنی مضبوط ہوتی ہے کہ تعلقات ٹوٹ جاتے ہیں، گھر برباد ہو جاتے ہیں، اُستاد، شاگرد والا احترام ختم ہو جاتا ہے، دوستیوں میں دراڑ پڑ جاتی ہے اور معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے، مگر اُنھیں احساس تک نہیں ہوتا کہ بیماری ہمارے ہی دل میں چُھپی ہے۔

ہم اپنے فیصلوں کو بہترین سمجھتے ہیں، خواہ معاملہ زندگی کا ہو، اخلاق، مذہب یا سیاست کا۔ ہم کبھی زبانی حاکمیت دِکھاتے ہیں، کبھی خاموش رہ کر دباؤ ڈالتے ہیں، کبھی دوسروں کی رائے سُنے بغیر اپنی مرضی مسلّط کرتے ہیں اور کبھی سخت رویّہ اختیار کرکے لوگوں سے اپنا مطلوبہ کام کرواتے ہیں۔ یہ سب اِسی اندرونی ڈکٹیٹر کی کارستانیاں ہیں، جو ہمیں باور کرواتا ہے کہ ہم ٹھیک اور باقی سب غلط ہیں۔ دفتر میں بھی یہی رویّہ غالب رہتا ہے۔

ہم چاہتے ہیں کہ دفتری ساتھی ہماری بات بغیر دلیل کے مان لیں، ہمارا فیصلہ آخری ہو اور کوئی بہتر تجویز پیش کرے، تو ہم اُسے برداشت نہیں کر پاتے۔ یوں ایک ہی دفتر میں کئی چھوٹے چھوٹے بادشاہ اپنی اپنی سلطنت چلاتے نظر آتے ہیں۔ اِسی طرح معاشرے میں بھی ہم خود کو دوسروں سے بہتر ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں، تعریف اور توجّہ چاہتے ہیں اور مانتے نہیں کہ ہم سب انسان ہیں، خطا کے پُتلے اور محدود علم کے مالک، مگر اپنی غلطیوں کا اعتراف ہمیں کم زوری محسوس ہوتا ہے، اِس لیے دوسروں پر حُکم چلاتے ہیں۔

اگر کوئی ہماری رائے سے اختلاف کرے، تو ہمیں لگتا ہے کہ ہماری عزّت کم کی جا رہی ہے، اگر ہمارا مشورہ نہ مانا جائے، تو ہم اسے نافرمانی سمجھتے ہیں اور اگر کوئی ہماری مرضی کے خلاف فیصلہ کرے، تو اُسے غلط ثابت کرنے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اصل ڈکٹیٹر وہ نہیں، جو مُلک پر حکومت کرتا ہے، اصل ڈکٹیٹر وہ ہے، جو ہمارے اندر بیٹھ کر ہمیں سچّائی سے دُور کرتا ہے، انسان سے انسان کا رشتہ کم زور کرتا ہے اور زندگی کو ایک مسلسل جنگ میں بدل دیتا ہے۔ اگر ہم اپنے اندر کے اِس حُکم ران کو پہچان لیں، تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہو جائیں۔ ہم مکالمہ سیکھ جائیں، اختلاف برداشت کرنے لگیں، اپنی غلطی کا اعتراف کرنا کم زوری نہ سمجھیں، دوسروں کی رائے کو دشمنی نہ سمجھیں، محبّت، احترام اور برداشت کو اپنی زندگی کا اصول بنا لیں۔

جب ہم سُننا سیکھ لیتے ہیں، سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، اَنا کو پیچھے چھوڑ کر انسانیت کو آگے رکھتے ہیں اور دوسروں کو بھی وہ عزّت دیتے ہیں، جو اپنے لیے چاہتے ہیں، تب اندر کا ڈکٹیٹر کم زور ہوتا ہے اور ہم اصل آزادی پاتے ہیں۔ پھر نہ صرف ہمارے تعلقات بہتر ہوتے ہیں، بلکہ ہم خُود بھی بہتر انسان بن جاتے ہیں، سکون اور خوشی محسوس کرتے ہیں اور زندگی کا مقصد سمجھنے لگتے ہیں۔

لہٰذا، آج ہمیں اپنے اندر جھانک کر دیکھنا ہوگا کہ کہیں ہم خود اپنے اندر ایک ڈکٹیٹر تو نہیں بٹھائے ہوئے، اَنا کو انسانیت پر ترجیح تو نہیں دے رہے، دوسروں کی آزادی کو اپنی خواہشات تلے تو نہیں روند رہے، اگر ایسا ہے، تو یہ دیوار گرانے کی ضرورت ہے تاکہ ہم ایک ایسے انسان بن سکیں، جو حُکم چلانے کی بجائے رشتے نبھانے والا ہو، محبّت کا راستہ چُنے، اختلاف کو دشمنی نہیں، حقیقت کا حصّہ سمجھے، کیوں کہ دنیا تب بدلے گی، جب ہم خود بدلیں گے اور خود کو بدلنے کی پہلی شرط یہی ہے کہ ہم اپنے اندر کے اِس نادیدہ ڈکٹیٹر کو پہچانیں اور اسے خاموش کر دیں۔ یہی اصل اصلاح، تربیت اور درسِ انسانیت ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید