کراچی (اسٹاف رپورٹر) چارٹر آف ڈیمانڈ (منشور مطالبات )کی منظوری اور تنخواہوں میں اضافے کے لیے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپویشن کے ملازمین نے بدھ کو ہڑتال کی، جس کی اپیل متحدہ ورکرز فرنٹ (سی بی اے) نے کی تھی، ہڑتال کی اپیل پر کارپوریشن کے ہیڈ آفس اور ایم ڈی آفس کے سوا تمام دفاتر میں مکمل کام بند رہا، جب کہ ملازمین نے سی بی اے کے زیر اہتمام کراچی پریس کلب کے باہر ہوئے ایک بڑے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی، جس میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے اراکینِ سندھ اسمبلی عبدالوسیم، قرۃ العین، محمد دلاور، انجینئر عثمان، عامر صدیقی، مرکزی ذمے داروں مسعود محمود، عبد الحسیب، اشرف علی، لیبر ڈویژن کے انچارج ارشد انصاری اور سی بی اے کے صدر ارشاد خان سمیت بڑی تعداد میں ملازمین شریک ہوئے، مظاہرین نے میڈیکل انشورنس پالیسی کی فوری بحالی، منشور مطالبات کی منظوری اور ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے، ریٹائرڈ، مستعفی اور مرحوم ملازمین کے واجبات کی فوری ادائیگی کا بھی مطالبہ کیا گیا، مظاہرین سے خطاب میں مقررین نے کہا کہ مہنگائی کے موجودہ دور میں ملازمین شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں لہٰذا ان کی تنخواہوں اور مراعات میں فوری اضافہ کیا جائے،ایم کیو ایم کے راہنماؤں نے ملازمین کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتے ہوئے یقین دہانی کروائی کہ ان کے مسائل کو سندھ اسمبلی اور متعلقہ حکام کے سامنے بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا۔