کراچی میں ایف ایم ریڈیو نشریات کی مقبولیت اور سامعین کا تجزیاتی مطالعہ
مصنّف: ڈاکٹر سعید مسعود عثمانی
صفحات: 400، قیمت: 1600 روپے
ناشر: اسلامک ریسرچ اکیڈمی، کراچی۔
گزشتہ دنوں میڈیا میں ایک ایسے شخص کا چرچا رہا، جنہوں نے80 برس کی عُمر میں ابلاغِ عامّہ کے شعبے میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کرکے نہ صرف یہ کہ خُود کو’’نوجوان‘‘ ثابت کیا، بلکہ نوجوانوں میں بھی عزم و ہمّت کی ایک نئی رُوح پھونک دی اور پی ایچ ڈی کا وہی مقالہ، اب اِس کتاب کی صُورت شایع ہوا ہے۔
ڈاکٹر سعید مسعود عثمانی کا اِس ضمن میں کہنا ہے کہ’’میرا تحقیقی مقالہ’’ایف ایم ریڈیو کی صحافت:ایک تحقیقی و تنقیدی مطالعہ‘‘ ابلاغیات کے شعبے میں ایک نئی جہت کا حامل ہے۔ اِس مقالے میں ایف ایم ریڈیو کے ذریعے صحافت کے بدلتے رجحانات، سماجی اثرات، عوامی رائے سازی اور پیشہ ورانہ معیار کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا ہے۔
یہ کام مَیں نے اپنے استادِ محترم، معروف محقّق اور ماہرِ ابلاغیات پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد خان کی نگرانی میں مکمل کیا۔ میری یہ کاوش ابلاغیات کے طلبہ کے لیے ایک نصابی رہنمائی کا درجہ رکھتی ہے۔ پاکستان میں ایف ایم ریڈیو پر جامع تحقیقی مطالعے کی یہ پہلی منظّم کوشش ہے کہ اِس سے قبل کسی بھی محقّق نے ریڈیو کو اِس حد تک تحقیقی سطح پر نہیں پَرکھا۔‘‘
ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے اِسے پاکستان میں جدید صحافتی رجحانات کی بنیاد رکھنے کی ایک سنجیدہ کوشش قرار دیا ہے، جب کہ اُنھوں نے اپنے مضمون میں عثمانی خاندان کے جماعتِ اسلامی سے دیرینہ تعلقات کا بھی ذکر کیا، جیسے کہ جماعتِ اسلامی کراچی کا پہلا دفتر، کیماڑی میں واقع عثمانی صاحب کے مکان میں قائم کیا گیا تھا۔
پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد خان نے صاحبِ مقالہ کے تعلیمی و تدریسی سفر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ’’ وہ ایم اے کرنے اُن کے پاس آئے، پھر تدریس سے منسلک ہوئے، جب ایم فِل اور پی ایچ ڈی کی کلاسز شروع ہوئیں، تو دوبارہ طالبِ علم بن گئے۔ یہاں تک کہ اپنی بیماری اور ذاتی مصروفیات کے باوجود پی ایچ ڈی کے تھسز کے لیے ایک مشکل موضوع کا انتخاب کیا، جس پر پاکستان میں بہت کم کام ہوا ہے۔
وفاقی اردو یونی ورسٹی کی تحقیق سے متعلق بدلتی پالیسیز کی بنا پر سعید عثمانی کے تھسز کی منظوری میں خاصا وقت صَرف ہوا۔ پھر کورونا کی وَبا نے بھی اُن کا کام متاثر کیا۔ کہا جاتا ہے کہ وسائل کی کمی اور پھر تھسز کے غیر معیاری ہونے کے الزامات سے بچنے کے لیے مقالے، کتاب کی صُورت شایع نہیں ہوتے، مگر سعید عثمانی نے اپنے تھسز پر مبنی کتاب شایع کرنے کا80 سال کی عُمر میں چیلنج قبول کیا ہے۔‘‘
کتاب دس ابواب پر مشتمل ہے، جن میں’’لٹریچر ریویو‘‘، ’’میڈیا خواندگی‘‘، ’’ریڈیو کی تاریخ‘‘،’’برّصغیر میں ریڈیو نشریات‘‘، ’’ریڈیو پاکستان‘‘،’’ اے ایم-ایف ایم ریڈیو‘‘،’’پاکستان میں ایف ایم ریڈیو‘‘، ’’ایف ایم ریڈیو کے معاشرتی اثرات پر ماہرینِ ابلاغ کے انٹرویوز‘‘، ’’سروے برائے ایف ایم ریڈیو کے معاشرتی اور ثقافتی اثرات‘‘، ’’مفروضات‘‘ اور’’ماحاصل-نتائج-سفارشات‘‘ جیسے عنوانات کے تحت تحقیق کے جوہر دِکھائے گئے ہیں، جب کہ ضمیمے میں پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کا تاریخ کے آئینے میں جائزہ لیا گیا ہے۔ نیز، اِس مقالے میں پی ایچ ڈی کی ضروریات سے متعلق دیگر چیزوں کا بھی بھرپور اہتمام کیا گیا ہے، جیسے حوالہ جات وغیرہ۔
اِس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ایف ایم ریڈیو نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے عوام کو اپنی جانب متوجّہ کیا، مگر جس طرح صحافت اور ابلاغ کے دیگر ذرایع اپنی شکل بدل رہے ہیں، اِس لہر یا طوفانی تبدیلی نے ایف ایم ریڈیو کو بھی متاثر کیا اور اب مقبولیت کے قصّے تو ایک طرف رہے، اُس کے وجود تک پر سنجیدہ سوالات اُٹھ رہے ہیں۔ اُمید ہے کہ مستقبل کا کوئی محقّق سعید عثمانی کے کام کو آگے بڑھاتے ہوئے ایف ایم ریڈیو کے عروج و زوال کی اگلی کہانی بھی لکھے گا۔
فاضل مصنّف نے ڈاکٹریٹ کی تکمیل اور کتاب کی اشاعت کے ضمن میں اپنے کئی دوستوں کا متعدّد بار شُکریہ ادا کیا ہے، اُن میں سے محمود لئیق، ڈاکٹر محمّد سیف اللہ خان، ڈاکٹر ناصر محمود، عزیز سنگھور، مظہر عباس اور سرفراز احمد کے مضامین بھی کتاب میں شامل ہیں، جن میں مشترکہ طور پر سعید عثمانی کے اِس قابلِ قدر اور لائقِ تحسین کام کو نوجوانوں کے لیے روشن مثال قرار دیا گیا ہے، جب کہ اِن تحریروں میں دوستانہ نوک جھونک کا تڑکا بھی ملتا ہے۔