• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

1951 ءسے 2025ء

مصنّفہ: نسرین اسلم شاہ

صفحات: 215، قیمت: 1000 روپے

ناشر: انجمن ترقیٔ نسواں، کنسلٹنٹ: کراچی اسٹڈیز سوسائٹی ایسوسی ایشن آف سوشل ورک پروفیشنلز، شعبہ سماجی بہبود، جامعہ کراچی۔

فون نمبر: 2124055 - 0300

جامعہ کراچی، قیامِ پاکستان کے بعد قائم ہونے والی اوّلین جامعات میں شامل ہے۔ اِس کا آغاز 1951ء میں رنچھوڑ لائن(چاند بی بی روڈ) کی چند خستہ حال عمارتوں سے ہوا اور آج اِس کا شمار، کئی نشیب وفراز کے باوجود، مُلک کی صفِ اوّل کی یونی ورسٹیز میں ہوتا ہے۔ صرف سندھ ہی نہیں، مُلک کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں طلبا و طالبات بھی اِس کے فیض یافتگان میں شامل ہیں، جب کہ بیرونِ ممالک بھی اِس جامعہ کے فضلاء موجود ہیں۔

جامعہ کراچی کا ہر لحاظ سے استحقاق ہے کہ اِس کی خدمات پر بھرپور تحقیقی کام کیا جائے، جس کی ایک شکل پروفیسر نسرین اسلم شاہ کی زیرِ نظر کتاب ہے۔ اُنھوں نے اِس کتاب کے ذریعے اپنی مادرِ علمی کی، جہاں وہ اہم تدریسی عُہدوں پر بھی فائز رہیں، تاریخ اور خدمات محفوظ کرنے کی کام یاب کوشش کی ہے۔

کتاب کا آغاز’’جامعہ کراچی، تاریخ کے آئینے میں‘‘ سے ہوتا ہے، جس کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ اداروں کے قیام کے لیے کس قدر جان مارنی پڑتی ہے۔ پھر جامعہ کراچی کے تدریسی شعبہ جات سے متعارف کروایا گیا ہے اور یہ تعارف محض ویب سائٹ سے نقل کیے گئے مواد پر مشتمل نہیں ہے، بلکہ اِس ضمن میں خاصی تحقیق سے کام لیا گیا ہے۔

بعدازاں، تعلیمی پروگرامز اور داخلوں سے متعلق آگہی فراہم کی گئی ہے۔ جامعہ کے تین کتب خانوں سے متعلق معلومات بھی کتاب کا حصّہ ہیں۔ کراچی یونی ورسٹی کی عبادت گاہوں، رہائشی علاقے، قبرستان، ڈے کیئر سینٹر، اساتذہ، طلبہ، ملازمین کی تنظیموں، وائس چانسلرز اور نام وَر اساتذہ وغیرہ سے متعلق بھی کافی کچھ پڑھنے کو دست یاب ہے۔ کتاب کا آخری حصّہ بھی بہت دل چسپ ہے، جس میں کئی افراد نے جامعہ کراچی سے متعلق اپنی یادیں قلم بند کی ہیں۔