• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مصنّف: انوار احمد

صفحات: 200، قیمت: 1000 روپے

ناشر: بزمِ تخلیقِ ادب، پاکستان، پوسٹ بکس نمبر17667، کراچی۔

فون نمبر: 8291908 - 0321

یہ انوار احمد کی چوتھی کتاب ہے۔ اِس سے قبل خاکوں پر مشتمل اُن کی دو کتب شایع ہوئیں، جب کہ اُنھوں نے اپنے ماموں، نازش پرتاب گڑھی کا کلام بھی یک جا کیا ہے۔ زیرِ نظر کتاب میں اُنھوں نے ’’پہلی کہانی‘‘،’’دوسری کہانی‘‘،’’حسرت ناتمام‘‘،’’آبلہ پا‘‘،’’ کفّارہ‘‘ اور ’’بلاعنوان‘‘ کے تحت چھے کہانیاں شامل کی ہیں۔ یہ کہانیاں سرحد پار تک پھیلی ہوئی ہیں۔

اِن کے کردار حقیقی معلوم ہوتے ہیں، جب کہ بھرپور منظر نگاری قاری کو کہانی کے اندر تک پہنچا دیتی ہے اور اُسے یوں لگتا ہے، جیسے کسی فلمی پردے پر جاگتی آنکھوں تمام مناظر دیکھ رہا ہو۔ اِن کہانیوں میں سماجی ناہم واریوں، تہذیبی رکھ رکھاؤ، محلّاتی سازشوں، دل کے نازک جذبات، سیاسی حالات، تقسیمِ ہند اور عروج و زوال کی داستان، غرض زندگی کے تمام ہی نشیب و فراز پڑھنے، سمجھنے کو ملتے ہیں۔

شکور پٹھان، رئیس فاطمہ، شاہانہ جاوید، شاہد حسین، مہ جبیں آصف اور حمیرا اطہر نے مصنّف کی فِکشن کے میدان میں اِس پہلی کاوش کو حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔ چوں کہ انوار احمد نے پہلی بار کہانیاں لکھی ہیں، تو کئی مقامات پر ایسا محسوس ہوتا ہے، جیسے وہ بہت جلدی میں ہوں اور مناظر کی تیزرفتار تبدیلی سے کہانی میں جھول سا آجاتا ہے۔ اِسی طرح، منظرنگاری کا پھیلاؤ بھی کسی قدر الجھن کا سبب بنتا ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید