مصنف: ڈاکٹر انوار احمد بگوی
صفحات: 288 ، قیمت: 2500
ناشر: قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل، یثرب کالونی، والٹن روڈ، لاہور۔
فون نمبر: 0515101 - 0300
زیرِنظر کتاب کے مصنف ایک دینی وعلمی خانوادے کے چشم و چراغ ہیں۔ اُن کی زندگی کی کئی جہتیں ہیں اور ہر جہت ایک نیا زاویہ لےکرسامنے آتی ہے۔ وہ کئی علمی وادبی کتابوں کے خالق ہیں اور ایک طبیب کی حیثیت سے بھی اُن کی نمایاں شناخت ہے۔
انوار احمد بگوی کی زیرِنظر کتاب آٹھ ابواب پر مشتمل ہے۔ قدیم بھیرہ: قبل مسیح سے مسلمانوں کی آمد تک، جدید بھیرہ1540 :ء کےبعد موجودہ بھیرہ: 1849ء، انگریزوں کے قبضے کے بعد، بھیرہ کے تاریخی مقامات اورقدیم عمارات، بھیرہ کے ہنرمند اور دست کاریاں، بھیرہ کی اہم شخصیات اور قابلِ ذکر افراد، بھیرہ کی بولی اور آثار، یہ وہ مرکزی عنوانات ہیں، جن پر کتاب کی عمارت کھڑی کی گئی ہے۔بھیرہ، بلاشبہ برِعظیم، ہندوستان کے ان چند شہروں میں شمار ہوتا ہے، جن کی تاریخی حیثیت نظرانداز نہیں کی جاسکتی۔ یہ شہر لازوال، ہزاروں سال سے آباد ہے، اپنےمحل وقوع کےاعتبار سےہندوستان پرحملہ کرنے والوں کے لیےیہ پہلا پڑاؤ ہوا کرتا تھا۔
اس طرح بھیرہ، برِعظیم کے لیے’’باب الاسلام ثانی‘‘ ثابت ہوا۔ پہلا ’’باب الاسلام‘‘ (سندھ) ہے، جہاں سے محمّد بن قاسم ہندوستان میں داخل ہوئے تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ بھیرہ کے حوالے سے یہ کتاب ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔
اس میں ڈاکٹر انوار احمد بگوی کی سخت محنت نظر آرہی ہےاوراس کتاب کے شائع ہونے تک اُنہیں کن کن مراحل سے گزرنا پڑا ہوگا، اِس کا تھوڑا بہت اندازہ ہمیں بھی ہے۔ کتاب میں مصنف کا تفصیلی تعارف بھی ہے،جسے پڑھ کر اُن کی شخصیت اور خدمات کا باآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔