کراچی میں ایک دکان رات دس بجے آپ کو قمیض بیچ سکتی ہے۔ وہی برانڈ، اسی کمپنی کی دکان، لاہور میں وہی قمیض آپ کو نہیں بیچ سکتی۔ ایک دکان کاروبار کر رہی ہے، دوسری قانون توڑ رہی ہے۔ دونوں دکانوں میں ایک نوٹیفکیشن کے سوا کوئی فرق نہیں۔اسلام آباد اور پنجاب میں دکانیں رات نو بجے بند ہو جاتی ہیں۔ سندھ میں ایسا نہیں۔ اس خطے کے زیادہ تر ملکوں میں بھی ایسا نہیں۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ اس پابندی سے بجلی بچتی ہے۔ لیکن کتنی بچتی ہے، یہ آج تک کسی نے نہیں بتایا۔ حل سیدھا سا ہے:پورے ملک میں دکانیں بند کرنے کا ایک ہی وقت ہو، رات گیارہ بجے۔
پہلے یہ دیکھیں کہ دکانیں اصل میں کتنی بجلی استعمال کرتی ہیں۔ پورا کمرشل شعبہ، یعنی پاکستان کی ہر دکان، دفتر، ریسٹورنٹ اور ہوٹل مل کر ملک کی کل بجلی کا تقریباً 8فیصد استعمال کرتے ہیں۔ بڑی اور منظم دکانیں اس 8فیصد کا بھی ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔ ہمارے ہاں کل بجلی کا تقریباً آدھا حصہ گھروں میں استعمال ہوتا ہے۔ صنعت 24فیصد اور زراعت 9فیصد بجلی استعمال کرتی ہے۔ ہم 8فیصد کے بھی ایک چھوٹے سے حصے کو بند کر رہے ہیں اور اسے توانائی پالیسی کا نام دے رہے ہیں۔
اب سوچیں کہ دکانیں بند ہونے سے بجلی کی یہ ضرورت کہاں جاتی ہے۔ یہ ختم نہیں ہوتی۔ جو خاندان شام مال میں گزارتا، وہ گھر چلا جاتا ہے۔ مال میں ایک ہی کولنگ سسٹم اور ایک ہی روشنی کا نظام ہزاروں خریداروں کے کام آتا ہے۔ گھر پر ہر خاندان شام کے انہی گھنٹوں میں اپنا اپنا اے سی، ٹی وی، بتیاں اور دوسری چیزیں الگ الگ چلاتا ہے۔ ہم بجلی کی ضرورت کو سب سے کفایت والی جگہ سے نکال کر سب سے کم کفایت والی جگہ پر دھکیل رہے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ اس پابندی سے شام کے وقت بجلی کا خرچ کم ہونے کے بجائے بڑھ جائے۔
یہ سوال بھی ہے کہ اس بجلی کا بل کون ادا کرتا ہے۔ اس مالی سال کمرشل صارفین سے فی یونٹ 45.43 روپے لیے جا رہے ہیں۔ صنعت فی یونٹ 33.48 روپے اور زراعت 30.75روپے دیتی ہے۔ دکان بجلی کے نظام کا سب سے زیادہ پیسے دینے والا گاہک ہے، اور اسی کو گھر بھیجا جا رہا ہے۔
یہ بھی دیکھیں کہ پاکستانی خریداری کب کرتے ہیں۔ سال کے بڑے حصے میں ہمارے شہروں میں دن کے وقت اتنی گرمی ہوتی ہے کہ باہر چلنا پھرنا مشکل ہوتا ہے۔ جون کی دوپہر دو بجے کوئی بازار نہیں گھومتا۔ خریداری سورج ڈوبنے کے بعد ہوتی ہے۔ یہ عادت نہیں، موسم کی مجبوری ہے، اور کوئی نوٹیفکیشن اسے نہیں بدل سکتا۔ ہر گرم ملک یہ بات سمجھتا ہے۔ اسپین، اٹلی اور یونان دوپہر کی گرمی میں دکانیں بند رکھتے ہیں اور رات دیر تک کاروبار کرتے ہیں۔ دبئی کے مال عام دنوں میں رات دس بجے تک اور چھٹی کے دنوں میں آدھی رات تک کھلے رہتے ہیں۔ سعودی عرب اور مصر میں دکانیں گیارہ اور بارہ بجے تک کھلی رہتی ہیں۔ انڈونیشیا، ملائیشیا، ترکی اور عراق میں دکانیں دس بجے بند ہوتی ہیں۔ گرم ملک کاروبار کا دن چھوٹا نہیں کرتے، بس اس کا وقت بدل دیتے ہیں۔ ہم اس کا الٹ کر رہے ہیں۔
پھر یہ دیکھیں کہ ایک خاندان دکان تک پہنچتا کیسے ہے۔ زیادہ تر گھروں میں سواری صبح گھر کے مرد کے ساتھ نکل جاتی ہے۔ وہ کام کرتا ہے، ٹریفک سے گزر کر گھر لوٹتا ہے، اور تب جا کر پورا خاندان اکٹھا باہر نکلتا ہے۔ ایک سفر، ایک سواری، شام کے وقت۔ اگر دکانیں نو بجے بند ہوں تو ان کے پہنچنے سے پہلے ہی وقت ختم ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں خواتین کیلئے اکیلے آنا جانا ویسے ہی مشکل ہے، اس لیے سب سے پہلے نقصان انہی کا ہوتا ہے۔
اور ہم چاہتے ہیں کہ زیادہ خواتین ملازمت کریں۔ اس وقت کام کرنے والی خواتین کی شرح تقریباً 24فیصد ہے، جبکہ قومی ہدف 45 فیصد ہے۔ جو خاتون بھی باقاعدہ ملازمت شروع کرتی ہے، وہ بھی اپنے شوہر کی طرح سارا دن دفتر میں ہوتی ہے۔ ہم اس ہدف میں جتنے کامیاب ہوں گے، اتنے ہی زیادہ گھروں میں شام سے پہلے خریداری کیلئے کوئی فارغ نہیں ہوگا۔ نو بجے کی پابندی کا نقصان ہر سال کم ہونے کے بجائے بڑھتا جائے گا۔
اب وہ بات جس پر حکومت کو سب سے زیادہ فکر ہونی چاہیے۔ دکانیں بند کرنے کا حکم صرف انہی پر چلتا ہے جو حکم مانتے ہیں۔ رجسٹرڈ دکان بند ہو جاتی ہے۔ ریڑھی، ٹھیلا اور واٹس ایپ پر سامان بیچنے والا بند نہیں ہوتا۔ گاہک پھر بھی خریداری کرتا ہے، بس یہ خرید و فروخت ٹیکس کے دائرے سے باہر چلی جاتی ہے۔ شام کا ہر وہ گھنٹہ جو رجسٹرڈ دکاندار سے چھینا جاتا ہے، غیر رجسٹرڈ کاروبار کو مل جاتا ہے۔ ہم قانون ماننے والوں کو سزا اور غیر رسمی کاروبار کو انعام دے رہے ہیں، اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ایف بی آر ٹیکس نیٹ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسری طرف بجلی کے شعبے کا اصل مسئلہ جوں کا توں پڑا ہے۔ بجلی کی ترسیل اور تقسیم میں ضائع ہونے والی بجلی اور کھلی چوری سے ملک کو ہر سال اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے، جو دکانیں ایک گھنٹہ پہلے بند کرنے کی کسی بھی بچت سے کہیں زیادہ ہے۔ جن فیڈرز پر نقصان زیادہ ہے وہاں سختی کی جائے۔ درست میٹر لگائے جائیں۔ بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں سے جواب طلب کیا جائے۔ وقت کے حساب سے بجلی کے نرخ مقرر کیے جائیں، تاکہ کمرشل صارفین حکم کے ڈر سے نہیں بلکہ اپنے فائدے کیلئے رش کے اوقات سے ہٹ کر بجلی استعمال کریں۔ ان میں سے کوئی قدم نہ کسی کاروبار کو بند کرتا ہے اور نہ کسی کی نوکری چھینتا ہے۔
کاروباروں نے پرانے اوقات کو سامنے رکھ کر قرض بھی لیے تھے۔ سرمایہ لگاتے وقت جو اوقات تھے، انہی کی بنیاد پر انہوں نے قرض لیے، کرائے کے معاہدے کیے اور عملہ رکھا۔ اوقات کم ہوئے تو کرایہ کم نہیں ہوا، قرض کا خرچ بھی کم نہیں ہوا۔ اور اس طرح جو نوکریاں ختم ہوتی ہیں، وہ پابندی ہٹنے کے بعد واپس نہیں آتیں۔
تو فیصلہ یہ ہے۔ ایک طرف وہ بچت ہے جسے آج تک کسی نے ناپا تک نہیں۔ دوسری طرف ٹیکس آمدنی کا نقصان، نوکریوں کا نقصان، سندھ اور پنجاب کے کاروبار کے درمیان ناانصافی، اور مزید کاروبار کا غیر رسمی شعبے میں چلے جانا۔پورے ملک میں دکانیں رات گیارہ بجے تک کھولیں۔ یہ دکانداروں پر کوئی احسان نہیں۔ یہ سیدھا سا حل ہے۔