• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مصنّف: عبید غیور

صفحات: 320 ، قیمت: 1690

ناشر: اٹلانٹس پبلی کیشنز۔

فون نمبر: 9605287 - 0314

زیرِ نظر کتاب کے مصنّف کی مادری زبان پشتو ہے، لیکن اُردو زبان سے بھی انہیں عشق ہے۔ ان کا بنیادی حوالہ درس و تدریس ہے، لیکن ایک شاعر اور ادیب کی حیثیت سے بھی نمایاں شناخت رکھتے ہیں۔ ہمارے پیشِ نظر، اُن کا تھیلیسیمیا کے موضوع پر لکھاناول ہے، جسے ایک منفرد ناول قرار دیا جاسکتا ہے۔

دراصل یہ ایک بچّی منیبہ زاہد کی سچّی کہانی ہے، جو خُود تھیلیسیمیا کی مریضہ ہے، اِس کی دو بہنیں بھی اِس مرض کی نذر ہوچکی ہیں۔ اور اب ڈاکٹر منیبہ زاہد اس مرض سے متعلق شعوروآگہی پھیلانے کے مشن پر رواں دواں ہے۔

ڈاکٹر منیبہ زاہد اس ناول کا محض ایک کردار نہیں، بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ اس کا سفرِ زندگی یہ ثابت کرتا ہے کہ اگر خواب سچّے، ارادے مضبوط ہوں تو راستے خُود بخود بنتے چلے جاتے ہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ یہ ناول اپنی نوعیت کے اعتبار سے تھیلیسیمیا پر لکھا جانے والا پہلا ادبی، طبّی، معاشرتی، نفسیاتی، ثقافتی، علمی، روحانی، اسلامی، فِکری اور ایک موٹیویشنل ناول ہے، جو انسانی زندگی کو تحقیقی زاویے ہی سے نہیں دیکھتا، احساس، درد، امید، حوصلے، شعور اور انسانیت کی سطح پر بھی پرکھتا ہے۔

یہ صرف ایک بیماری کی کہانی نہیں، انسان کے اندر موجود جینے کی طاقت، قبولیت، جدوجہد، خود شناسی، صبر، حوصلے اور روشنی کا ایک مکمل فکری، جذباتی، روحانی، معاشرتی اور نفسیاتی بیانیہ بھی ہے۔ ناول محض لکھنا تو پھر آسان ہوتا ہے، مگر ایک کربِ مسلسل، ایک تحقیق کو ناول کی شکل میں ڈھالنا، حقائقِ شراکت، نفسِ مضمون کے لیے دنیا بھرسے اعداد و شمار کی یک جائی، قلم کی حُرمت اور موضوع سے سپردگی کا تقاضا ہی کرتی ہے۔

اس عظیم کہانی کا مطالعہ مجھے مختلف دنیاؤں میں لیے پِھرا، جہاں زر کی ہَوس نہیں، صرف محبّت ہے، دست گیری ہے، انسان دوستی اور خیالِ ہم نفساں ہے۔ نیز، ناول پر ممتاز شاعر، صحافی اور دانش وَر محمود شام کی یہ رائے سند کا درجہ رکھتی ہے کہ ’’اس ناول کے کردار نیکی، اخلاقی اقدار اور انسان دوستی سے عبارت ہیں۔

بقول ڈاکٹر سبحان’’یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے ارسطو کے بوطیقا میں بیان کردہ کہانی، کردار، تاثر اور زبان، سب ایک نئے معنوی سانچے میں زندہ ہوگئے ہیں۔‘‘ کتاب کا انتساب، تھیلیسیمیا کے شکار اُن معصوم پھولوں کے نام کیا گیا ہے، جو خون کی ایک ایک بوند کو ترستے ہیں اور ان بےلوث جوانوں کے نام بھی، جو اپنی رگوں کا خون نچوڑ کر اُنہیں زندگی کی سانسیں عطا کرتے ہیں۔