• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شاعرہ: صدف غوری

صفحات: 244، قیمت: 1200

ناشر: آرٹ لینڈ، گرلز کالج روڈ، اردو بازار، چوک اعظم (لیّہ)۔

فون نمبر: 5006559- 0312

شاعری ایک فن ہے، شاعری کے لیے بحور اور اوزان کا جاننا نہایت ضروری ہے، جب کہ زیرِنظر مجموعۂ کلام اِن تمام حدود و قیود سےآزاد ہے۔ حالاں کہ یہ شاعرہ کا 15واں شعری مجموعہ ہے۔ بات یہ ہے کہ شاعری کسی صاحبِ فن کی رہنمائی کے بغیر ناممکن ہے۔ یہ کتاب بہت اچھے کاغذ پر چھاپی گئی ہے، پرنٹنگ کا معیار بھی بہتر ہے، مگر اے کاش! کتاب کا ظاہر و باطن بھی ایک ہوتا۔

بہرحال، کتاب میں ایک حمد، ایک نعت، ایک سلام، 80 غزلوں، 43 نظموں کے علاوہ کچھ قطعات اور متفرق اشعار بھی شامل ہیں اور کتاب میں منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے کچھ اشعار وزن میں بھی ہیں۔ لیکن سچ کہیں تو یہ صدف غوری کی شاعری کا نہیں، اُن کے جذبات و احساسات کا مجموعہ ہے۔ عموماً لوگ، جھوٹی تعریفیں کر کے گم راہی میں مبتلا کردیتے ہیں۔

مَیں چُوں کہ خُود شاعر ہوں، تو یہ میرا اخلاقی فرض ہے کہ کسی بھی کلام کی فنی خرابیوں کی لازماًنشان دہی کروں۔ سو، میرا ہم دردانہ مشورہ ہے کہ اگر موصوفہ کو شاعری کرنی ہی ہے، تو کسی استاد سے رجوع کریں۔ اُن کے اندر کہیں شاعری کی کوئی رمق موجود ہوگی، تو وہ اپنا رنگ ضرور دکھائے گی۔

یوں بھی ایک کتاب کی اشاعت پرخاصی خطیر رقم خرچ ہوتی ہے، تو اگر اشاعت سے قبل کسی استاد سے اصلاح لے لی جائے، تو کیا حرج ہے۔ ویسے یہ ہمارا مشورہ ہے، اس رائے سے شاعرہ کا متفّق ہونا ضروری نہیں۔