شاعر: مصطفیٰ ارباب
صفحات : 168، قیمت: درج نہیں
ناشر: رنگ ادب پبلی کیشنز، آفس نمبر 5، کتاب مارکیٹ، اردو بازار، کراچی۔
فون نمبر: 2610434 - 0345
زیرِمطالعہ کتاب کے مصنّف کا بنیادی تعلق میرپورخاص (سندھ) سے ہے۔ انہوں نے 1984ء میں افسانہ نگاری سے اپنے ادبی سفر کا آغاز کیا، بعدازاں شاعری کی طرف راغب ہوگئے۔ ابتدا میں غزلیں اور پابند نظمیں بھی لکھیں، پھر نثری نظم کو ذریعۂ اظہار بنالیا۔ 1999ء میں ان کی نثری نظموں کا مجموعہ ’’خواب اور آدمی‘‘ منظرِعام پر آیا۔ مصطفیٰ ارباب اردو کے علاوہ سندھی میں بھی لکھتے ہیں۔
انہوں نے سندھی کہانیوں کو اردو میں منتقل کیا۔ نیز، اُن کی نگارشات پاک و ہند کے معروف ادبی جرائد میں بھی شائع ہوئیں۔ زیرِنظر کتاب میں 104 نثری نظمیں شامل ہیں۔ گرچہ نثری نظم لکھنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، لیکن ابھی اُسے وہ مقام نہ مل سکا، جو غزل، پابند نظم اور آزاد نظم کو مل چُکا ہے۔
ہم تجربوں کے مخالف نہیں، تجربے ہوتے رہنے چاہئیں، ممکن ہے نثری نظم کا تجربہ بھی آنے والے دنوں میں درجۂ اعتبار حاصل کرلے۔ جیسا کہ ذی شان ساحل نے نثری نظموں کے ضمن میں خاصی شہرت و مقبولیت حاصل کی۔ اور انہوں نے مصطفیٰ ارباب کی نثری نظموں کو کس زاویے سے دیکھاہے، ملاحظہ فرمائیں۔
’’مصطفیٰ ارباب کی شاعری کا تانا بانا محبت کی ڈور سے بُنا ہوا ہے۔ ان کی شاعری محبّت سے معمور ایک اداس دل کی کتھا ہے، جو اپنے خوابوں سے باہر زندہ رہنا چاہتا ہے، مصطفیٰ ارباب رات کی لامحدود سلطنت کا باج گزارحُکم ران ضرور ہے، مگر شاعری کی دنیا میں نکلنے والا دن بھی اس کی مملکت میں شامل ہے۔‘‘