• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تالیف: ڈاکٹر زاہد منیر عامر

صفحات: 927 ، قیمت: 2000

ناشر: ادارۂ تالیف و ترجمہ، بہ اشتراک، مولانا ظفر علی خان فاؤنڈیشن، لاہور۔

مولانا ظفر علی خان کی عہد ساز شخصیت، تاریخِ ادب وصحافت میں ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتی ہے۔ اُن کی خدمات کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ لاتعداد کتابیں تصنیف کی جاسکتی ہیں۔ مولانا ظفر علی خان کی شخصیت کے کئی حوالے ہیں اور ہر حوالہ معتبر ہے۔ شاعر، ادیب، صحافی، مترجّم، جریدہ نگار، نعت گو۔ ان تمام خصوصیات نےان کی ذات کا حصّہ بن کر، اپنے وقارمیں گراں قدراضافہ کیا ہے۔

مولانا نے یکم جنوری1910ء میں اپنے والدِ گرامی، مولوی سراج الدین احمد کے جاری کردہ اخبار’’زمیندار‘‘کی ادارت سنبھالی اورآخری دَم تک اپنے اس اخبار کے ذریعے ملّی، قومی اور سیاسی شعور بے دار کرتے رہے۔ ان کے اداریے بھی تاریخی حیثیت کے حامل ہوا کرتے تھے، جن میں بےباکی اورجراتِ اظہارنمایاں تھی۔حق گوئی کی پاداش میں کئی مرتبہ پابندِ سلاسل بھی ہوئے، لیکن پائےاستقامت میں کبھی لرزش نہیں آئی۔

ڈاکٹر زاہد منیر عامرخراجِ تحسین کے حق دار ہیں کہ انہوں نے مولانا ظفر علی خان کی یادیں، باتیں، کارنامے اور خدمات اجاگر کرنے کے لیے، زیرِنظر کتاب کی اشاعت یقینی بنائی۔ یہ کتاب تین حصّوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصّہ ’’صُبحِ بہار‘‘ ایسے مضامین پرمشتمل ہے، جن سے مولانا کے سوانحی خطوط روشن ہوتے ہیں۔ دوسرا حصّہ، جسے ’’ پارۂ سیماب‘‘ کا نام دیا گیا ہے، مولانا کی شخصیت سے متعلق مضامین پر مشتمل ہے۔

تیسرا حصّہ ’’اعجازِ صحافت‘‘ ہے، جس میں مولانا کی قومی، ادبی اور صحافتی خدمات کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگرچہ کتاب کے تینوں حصّے، ایک ہی جِلد میں سمودئیے گئے ہیں لیکن ہرحصّے کی اپنی شناخت برقرار ہے۔ بلاشبہ مولانا ظفر علی خان کی شخصیت دورِ حاضر کے صحافیوں کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ سو، یہ ایک کتاب ہی نہیں، تاریخی دستاویز بھی ہے، جوآنے والی نسلوں کے لیے چراغِ راہ ثابت ہوگی۔

اس سے پہلے بھی ڈاکٹر زاہد منیر عامر کی، مولانا کے حوالے سے کئی کتب منظر عام پر آچکی ہیں، لیکن زیرِنظر کتاب، ان کی شخصیت اور فن کا مکمل احاطہ کرتی ہے اور بلامبالغہ یہ ایک بڑا کام ہے، جو مولانا ظفر علی خان کے ساتھ ڈاکٹر زاہد منیر عامر کو بھی تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ زندہ رکھے گا۔