خوراک ایک بنیادی انسانی ضرورت ہے، لیکن اس کے باوجود کروڑوں انسان متناسب غذا سے محروم ہیں۔ کیسی ستم ظریفی ہے کہ ایک طرف ہر روز کروڑوں انسان لقمۂ تر کو ترستے ہیں، تو دوسری طرف انسانی ہاتھوں سے پیدا ہونے والی نعمتوں کا ایک خطیر حصّہ کھیت سے دسترخوان تک پہنچنے کے بعد کچرے کی نذر ہو جاتا ہے۔ یہ تضاد موجودہ صدی کا ایک ایسا ہول ناک المیہ ہے، جس نے ماحولیاتی بگاڑ، موسمیاتی تبدیلیوں، کم ہوتے آبی ذخائر اور اربوں ڈالر کے معاشی نقصانات جیسے عوامل کے ساتھ مل کر غربت و افلاس کو نقطۂ عروج پر پہنچادیا ہے۔
انسانیت کے اسی رِستے ہوئے زخم پر مرہم رکھنے اور شعور کی شمع روشن کرنے کے لیے، اقوام ِمتحدہ کی جنرل اسمبلی نے 19دسمبر2019ء کو ایک قرارداد (A/RES/74/209) کے ذریعے ہر سال 29 ستمبر کا دن ’’خوراک کے زیاں اور اتلاف کے خلاف آگاہی کے عالمی دن‘‘ کے طور پر مختص کیا۔ یہ دن منانے کا مقصد محض ایک رسم نبھانا نہیں، بلکہ یہ دنیا بھر کی حکومتوں، کسانوں، کاروباری حلقوں، سول سوسائٹی اور عام شہریوں کا ضمیر جھنجھوڑنے کی ایک عالمی مُہم بھی ہے۔
نیز، اس کے تحت لوگوں کو ایسے عملی اقدامات پر آمادہ کرنا ہے، جن سے رزق کی حُرمت بحال ہو اور دھرتی کا حُسن بھی اور اس دُور رس مقصد کی قیادت اقوامِ متحدہ کا ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO) اور ماحولياتی پروگرام (UNEP) مشترکہ طور پر کر رہے ہیں، تاکہ آنے والی نسلوں کو بھوک و افلاس سے نجات دلاکر ایک سرسبز دنیا سونپی جا سکے۔
واضح رہے، مذکورہ عالمی یوم، اقوامِ متحدہ کے 'پائےدار ترقیاتی ہدف 12.3' (Sustainable Development Goal 12.3) کا ایک اہم تسلسل بھی ہے، جس کا بنیادی عزم ہے کہ2030ء تک خوردہ (retail) اور صارفین کی سطح پر فی کس عالمی خوراک کا زیاں نصف کیا جائے، اور پیداواری مراحل سے لے کر سپلائی چین تک ہونے والے نقصانات کا قلع قمع کردیاجائے، لیکن اگر اس سنگین مسئلے کو صرف جدید دنیا کے ماحولیاتی یا معاشی تناظر میں دیکھا جائے، تو تصویر اُدھوری رہے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ خوراک کی اصل قدر وقیمت، رزق کا احترام، ضرورت کے مطابق استعمال، اسراف سے گریز اور معاشرے کےکم زورے طبقات کو ان کا جائز حق دینا تمام الہامی مذاہب، بالخصوص دینِ اسلام کی بنیادی اخلاقی اساس ہے۔ آج مہذّب دنیا جس بحران کے حل کے لیے سر جوڑ کر بیٹھی ہے، قرآنِ کریم نے صدیوں پہلے اس کے بنیادی اصول بتادیئے تھے۔
اس حوالے سے ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔’’اے اولادِ آدم! تم ہر نماز کے وقت اپنا لباسِ زینت (پہن) لیا کرو اور کھاؤ اور پیو اور حد سے زیادہ خرچ نہ کرو کہ بے شک وہ بے جا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔‘‘ (سورۃ الاعراف،آیت نمبر 31)۔ اس مختصر مگر جامع حکم میں زندگی کا ایک مکمل اصول بیان کر دیا گیا ہے۔ دینِ اسلام پاکیزہ اور حلال نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دیتا ہے، لیکن ساتھ ہی حد سے تجاوز، فضول خرچی اور اسراف سے روکتا ہے۔
یہاں ایک نہایت اہم بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسراف صرف زیادہ پیسا خرچ کرنے کا نام نہیں۔ کھانے کی ضرورت سے زیادہ تیاری، برتن میں ضرورت سے زیادہ کھانا ڈالنا، کھانے کا زیاں، یا کسی بھی ایسی نعمت کو ضائع کر دینا، جسے کوئی دوسرا انسان استعمال کر سکتا تھا، سب اسراف کے مفہوم سے منسلک رویّے ہیں۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فصلوں، باغات، کھجوروں، اناج، زیتون اور انار کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ ’’جب یہ درخت پھل دیں، تو ان کے پھلوں کو کھانے میں استعمال کرو ، اور جب اُن کی کٹائی کا دن آئے، تو اللہ کا حق ادا کرو ، اور فضول خرچی نہ کرو۔ یاد رکھو، وہ فضول خرچ لوگوں کو پسند نہیں کرتا ۔‘‘ (سورۃ الانعام، 141)۔
ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔ ’’اور رشتے دار کو اس کا حق دو، اور مسکین اور مسافر کو بھی، اور فضول خرچی نہ کرو۔ بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشُکرا ہے۔‘‘ (سورۃ الاسراء-26,27) ۔قرآنِ کریم کی تعلیمات ہمیں ایک طرف محتاج، مسکین اور ضرورت مند کا حق ادا کرنے کا حکم دیتی ہیں، تو دوسری طرف تبذیر سے روکتی ہیں۔ یعنی اگر ہمارے پاس ضرورت سے زیادہ ہے تو اُسے بے مقصد ضائع کرنے کے بجائے کسی مستحق کو دے دینا چاہیے۔
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے خوراک کے معاملے میں صرف زیاں سے بچنے کی تعلیم ہی نہیں دی، بلکہ اشتراک، قناعت اور دوسروں کو شریک کرنے کی ترغیب بھی دی۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ’’ایک شخص کا کھانا، دو کے لیے کافی ہے، دو کا کھانا چار کے لیے اورچار کا کھانا آٹھ کے لیے کافی ہے۔‘‘ (صحیح مسلم)۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔’’ اگر کسی شخص کا لقمہ گر جائے تو صاف کر کے کھا لے، اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے۔‘‘ آپ ﷺ نے برتن کو صاف کرنے کی بھی ہدایت فرمائی، کیوں کہ انسان نہیں جانتا کہ اس کے کھانے کے کس حصّے میں برکت رکھی گئی ہے۔ (صحیح مسلم)۔
شریعتِ مطہرہ کے آفاقی احکامات اور نبوی تعلیمات کے عمیق مطالعےسے پتا چلتا ہے کہ دینِ اسلام میں خوراک محض جسمانی بقا کا ذریعہ نہیں، بلکہ خالقِ کائنات کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت، گراں قدر امانت اور اہم سماجی ذمّے داری ہے۔ اسلام اپنے پیروکاروں سے اس نعمت کے مکمل احترام، استعمال میں اعتدال اور محروم طبقات کے ساتھ اشتراکِ باہمی کا تقاضا کرتا ہے۔
دینِ حنیف جہاں ایک طرف اسراف و تبذیر کی بیخ کنی کرتے ہوئے بخل اور بے جا زیاں کی سخت ممانعت کرتا ہے، وہیں معاشرے کے بے بس، مسکین اور حاجت مند افراد کے حقوق کا علَم بھی بلند کرتا نظر آتا ہے۔ یوں اسلامی تناظر میں، خوراک کے زیاں کا تدارک محض ایک انتظامی یا معاشی مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ یہ احساسِ ذمّے داری، میانہ روی، انسانی ہم دردی اور معاشرتی انصاف کا ایک جامع مظہر بن کر ابھرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم عصرِ حاضر کے عالمی منظرنامے، بڑھتی ہوئی غذائی قلّت پر نظر دوڑاتے ہیں، تو تعلیماتِ نبوی ؐ کی معنویت و آفاقیت پہلے سے کہیں زیادہ نکھر کر سامنے آتی ہے۔
آج دنیا میں تقریباً 8.3ارب انسان آباد ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے World Population Prospects 2024 کے مطابق عالمی آبادی 2024ء میں تقریباً8.2ارب تھی، جو 2080ءکی دہائی کے وسط تک تقریباً 10.3ارب تک پہنچنے کا امکان ہے۔ یہ بڑھتی آبادی ہمیں ایک بنیادی سوال کی طرف لے جاتی ہے کہ اگر انسانوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، تو کیا ہم اپنی موجودہ خوراک، محفوظ طریقے سے پیدا، تقسیم اور استعمال کرنے کے قابل ہیں؟
دنیا میں خوراک کی پیداوار گزشتہ کئی دہائیوں میں نمایاں طور پر بڑھی ہے۔ FAO کے مطابق 2022ءمیں دنیا بھرمیں بنیادی فصلوں کی پیداوار تقریباً 9.6 ارب ٹن تھی،جب کہ 2024ء میں صرف اناج کی پیداوار تقریباً 3.1ارب ٹن تک پہنچ گئی۔ 2024ء میں گوشت کی پیداوار 374ملین ٹن، دودھ، 985ملین ٹن اور انڈوں کی پیداوار تقریباً 100ملین ٹن رہی۔ اِن اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ دنیا میں بھوک اور افلاس کی وجہ خوراک کی کمی نہیں، بلکہ اس کی ناقص تقسیم، گرانی اور رسائی کا نہ ہونا ہے۔
نیز، جنگ و جدل، موسمیاتی تبدیلیاں، کم زور انفرااسٹرکچر، ذخیرہ اندوزی اور خوراک کا زیاں اس عالمی بحران کے اصل محرکات ہیں۔FAO کی 2025ءکی رپورٹ کے مطابق، 2024ء میں دنیا بھر میں تقریباً 673 ملین افراد بھوک کا سامنا کر رہے تھے، یعنی دنیا کی آبادی کا تقریباً 8.2فی صد۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق افریقا اور مغربی ایشیا کے کئی خطوں میں صورتِ حال انتہائی مخدوش ہوچکی ہے۔ ایک طرف 8.3 ارب آبادی پر مشتمل ترقی یافتہ دنیا ہے، تو دوسری طرف کروڑوں انسان ایسے ہیں، جو روزانہ پیٹ بھرنے سے قاصر ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ جہاں عالمی سطح پر کروڑوں لوگ شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، وہیں روزانہ ٹنوں کے حساب سے خوراک ضائع ہورہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام UNEP کے Food Waste Index Report 2024 کے مطابق صرف 2022ء میں دنیا بھر میں تقریباً 1.05 ارب ٹن خوراک ضائع ہوئی۔ یہ مقدار صارفین کے لیے دست یاب خوراک کا تقریباً19فی صد بنتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں اوسطاً تقریباً 132 کلوگرام خوراک فی شخص سالانہ ضائع ہوئی۔1.05 ارب ٹن کو سال کے 365 دنوں پر تقسیم کیا جائے تو دنیا میں اوسطاً تقریباً 28.8 لاکھ ٹن خوراک روزانہ ضائع ہونے کے برابر بنتی ہے۔
ہمارے یہاں بڑی بڑی تقریبات، شادی بیاہ، سرکاری و نجی دعوتیں اور ہوٹلز خوراک کے زیاں کے سب سے بڑے مراکز بن چکے ہیں۔ ان تقریبات میں اکثر ضرورت سے زیادہ کھانا تیار کیا جاتا ہے، جب کہ مہمانوں کی تعداد کا درست تخمینہ نہ ہونا اور پلیٹوں میں ضرورت سے زیادہ کھانا ڈالنا اس زیاں کی بڑی وجوہ ہیں۔
مزید برآں، بچ جانے والی خوراک محفوظ کرنے یا اسے مستحق افراد تک پہنچانے کا کوئی مؤثر اور منظّم نظام بھی موجود نہیں ہے۔ خوراک کا یہ نقصان صرف پلیٹوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کا آغاز کھیتوں ہی سے ہو جاتا ہے۔
فصل کی کٹائی کے دوران روایتی اور غلط طریقۂ کار، نامناسب وقت، ناموافق موسمی حالات، کیڑے مکوڑوں، بیماریوں کا حملہ، مزدوروں کی قلّت اور مارکیٹ تک رسائی کی عدم دست یابی جیسے عوامل فصل کی تیاری سے سپلائی چین تک بڑے پیمانے پر نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔ اسی طرح مناسب گودام، درجۂ حرارت، نمی اور کولڈ چین کی عدم سہولت کے سبب پھل، سبزیاں، دودھ، گوشت اور دیگر اشیاء خراب ہوجاتی ہیں، جب کہ نقل و حرکت کے دوران بھی جیسا کہ خراب سڑکیں، ناقص پیکیجنگ، طویل فاصلہ اور مناسب درجہ حرارت برقرار نہ رہنا خوراک کے نقصان کا سبب بنتا ہے۔
مارکیٹ اور ریٹیل میں ایسی سبزیاں اور پھل جو شکل، رنگ یا جسامت کے مقررہ معیار پر پورے نہ اتریں، بعض اوقات فروخت نہیں کیے جاتے، حالاں کہ وہ کھانے کے قابل ہوتے ہیں۔نیز، گھروں میں ضرورت سے زیادہ اشیاء کی خریداری، کھانے کی غلط منصوبہ بندی، بڑی مقدار میں کھانا پکانا، مناسب ذخیرہ نہ کرنا اور تاریخوں کو غلط سمجھنا خوراک کے زیاں کی بڑی وجوہ ہیں۔
عالمی سطح پر خوراک کا زیاں روکنے کے لیے حکومتیں، کاروباری ادارے، سپر مارکیٹس، کسان اور فلاحی تنظیمیں سپلائی چین کی بہتری، کمپوسٹنگ اور اضافی خوراک کے عطیات جیسے اقدامات کر رہی ہیں۔ تاہم، اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے مطابق یہ پیش رفت اب بھی سُست روی کا شکار ہے، کیوں کہ 2022ءتک صرف 21مُمالک نے خوراک کے زیاں کی روک تھام کو اپنے قومی ماحولیاتی منصوبوں کا حصّہ بنایا تھا، حالاں کہ اس منصوبے کا آغاز ہر گھر، ہر باورچی خانے، دکان، ریستوران، شادی ہال اور ہر فرد سے ہو سکتا ہے۔ہمیں چاہیے کہ ضرورت کے مطابق خریداری کریں۔
بغیر منصوبہ بندی کے بڑی مقدار میں خوراک خریدنے سے احتراز کریں۔ضرورت کے مطابق کھانا پکائیں۔ مہمانوں کی تعداد، گھر کے افراد اور ان کی ضرورت مدِّنظر رکھتے ہوئے مقدار مقرر کریں۔پلیٹ میں اُتنا ہی کھانا لیں، جتنا کھا سکیں۔بچا ہوا کھانا پلیٹ میں چھوڑنے کے بجائے ضرورت کے مطابق لینا ایک سادہ مگر اہم قدم ہے۔ بچی ہوئی صاف اور محفوظ خوراک ضائع نہ کریں۔ اگر خوراک محفوظ حالت میں ہے، تو اُسے مناسب طریقے سے محفوظ کر کے بعد میں استعمال کیا جا سکتا ہے یا مستحق افراد تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
شادیوں اور تقریبات میں فوڈ مینجمنٹ کا نظام بنایا جائے۔ کیٹرنگ کمپنیوں اور منتظمین کو مہمانوں کی متوقع تعداد کے مطابق کھانے کی مقدار، اضافی خوراک کی پیکنگ اور مستحق افراد تک ترسیل کا منصوبہ بنانا چاہیے۔ ریستوران اور ہوٹل ’’Takeaway‘‘ اور’’ Food Donation‘‘کے نظام کو فروغ دیں۔ جو خوراک محفوظ اور انسانی استعمال کے قابل ہو، اسے فوڈ سیفٹی اصولوں کے تحت مستحق افراد تک پہنچایا جا سکتا ہے۔مارکیٹ میں ظاہری شکل کے بجائے خوراک کی افادیت کو اہمیت دیں۔ صرف اس وجہ سے پھل یا سبزی ضائع نہ کی جائے کہ وہ خُوب صُورت شکل یا مطلوبہ سائز کی نہیں۔
کسانوں کو بہتر ذخیرہ اندوزی اور کولڈ چین کی سہولتیں فراہم کی جائیں۔خاص طور پر ترقی پزیر ممالک میں فصل کے بعد ہونے والے نقصانات کم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اسکولز میں بچّوں کو خوراک کی قدر سکھائی جائے۔ بچپن سے یہ شعور پیدا کیا جائے کہ خوراک اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، جب کہ پاکستان جیسے مُلک میں یہ مسئلہ مزید اہمیت رکھتا ہے، جہاں ایک طرف غربت، منہگائی اور غذائی عدم تحفّظ موجود ہے، تو دوسری طرف گھروں اور ہوٹلز میں منعقد ہونے والی مختلف تقریبات میں بڑی مقدار میں خوراک ضائع ہونے کے واقعات عام ہیں۔
ہمیں اس سنگین مسئلے کو صرف ’’کھانا ضائع نہ کریں‘‘ کے اخلاقی پیغام تک محدود نہیں کرنا چاہیے، بلکہ Food Recovery، Food Donation بہتر اسٹوریج، فوڈ بینکس، ذمّےدارانہ کیٹرنگ، ریسٹورنٹس کی پالیسیز اور عوامی آگاہی کوبھی عملی نظام کا حصّہ بنانا چاہیے۔ خصوصاً فلاحی ادارے اس ضمن میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اضافی مگر محفوظ خوراک مناسب طریقے سے جمع کر کے مستحق خاندانوں، یتیم بچّوں، مزدوروں اور بے گھر افراد تک پہنچانے کا منظّم نظام ایک طرف خوراک کے زیاں کم کرسکتا ہے، دوسری طرف بھوک کے مسئلے سے نمٹنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔
تو آئیے، آج ہی سے عہد کریں کہ ہم خوراک اپنی ضرورت کے مطابق خریدیں اور ضرورت کے مطابق ہی پکائیں گے، پلیٹ میں زیادہ کھانا ڈال کر ضائع نہیں کریں گے۔ اضافی اور محفوظ خوراک مستحق افراد تک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔
گھروں، کاروباری مراکز اور دیگر اداروں میں ’’خوراک کا احترام، زیاں سے اجتناب اور مستحق تک رسائی‘‘ کے کلچر کو فروغ دیں گے، کیوں کہ ایک ایسے معاشرے میں، جہاں ایک بڑی آبادی بھوک و افلاس کا شکار ہو، وہاں قابلِ استعمال خوراک کا کوڑے دان میں جانا اجتماعی رویّوں پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔