• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی صدر ٹرمپ کا مصنوعی ذہانت سے متعلق این ویڈیا کے سربراہ پر اعتماد کیوں؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات اور اس کے لیے سخت حفاظتی ضوابط پر امریکی حکام میں بحث جاری ہے تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ مصنوعی ذہانت کے حوالے سے این ویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ کے محتاط نہ ہونے والے مؤقف سے زیادہ متفق دکھائی دیتے ہیں۔

دی نیوز انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ لاس اینجلس میں منعقدہ اجلاس کے دوران ٹرمپ نے جینسن ہوانگ سے فون پر گفتگو کی اور کہا کہ ’روبوٹس دنیا پر قبضہ نہیں کرنے والے‘۔

رپورٹ کے مطابق جینسن ہوانگ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت میں ٹیکنالوجی کے شعبے سے تعلق رکھنے والی ان شخصیات میں نمایاں ہو گئے ہیں جن کا صدر پر خاصہ اثر و رسوخ سمجھا جاتا ہے۔ 

ڈونلڈ ٹرمپ کے موجودہِ دورِ حکومت میں جینسن ہوانگ کو ان کے ساتھ سعودی عرب، برطانیہ اور چین کے دوروں سمیت 6 مواقع پر ایک ساتھ دیکھا جا چکا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے شعبے میں این ویڈیا کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ کمپنی کے تیار کردہ طاقت ور چپس اوپن اے آئی اور اینتھروپک سمیت کئی ادارے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تیاری اور تربیت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق این ویڈیا کی آمدن 2021ء میں 17 ارب ڈالرز سے بڑھ کر حالیہ مالی سال میں 215 ارب ڈالرز تک پہنچ چکی ہے۔

امریکی فاؤنڈیشن فار امریکن انوویشن کی مصنوعی ذہانت پالیسی کے ڈائریکٹر سیموئل ہیمنڈ کے مطابق ٹرمپ کامیاب لوگوں کو پسند کرتے ہیں اور جینسن ہوانگ صدر ٹرمپ سے ان کی اپنی زبان میں بات کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دوسری جانب اینتھروپک اور اوپن اے آئی سمیت مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی بڑی کمپنیوں کے سربراہان نے زیادہ محتاط رویے اور حکومتی نگرانی پر زور دیا ہے۔

اینتھروپک کے سربراہ ڈیریو اموڈے نے ایک حالیہ مضمون میں مصنوعی ذہانت کی تیاری میں احتیاط اور حکومت کے ساتھ مل کر ضابطے بنانے پر زور دیا تھا جس کی اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین، اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک اور گوگل ڈیپ مائنڈ کے سربراہ ڈیمن ہاسابیس نے بھی حمایت کی تھی۔

اینتھروپک کے ایک محقق کی جانب سے کمپنی چھوڑنے اور معروف مصنوعی ذہانت کے اداروں پر انسانی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کا الزام عائد کیے جانے کے بعد امریکی کانگریس کے 20 سے زائد ارکان نے بھی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مزید ضابطوں کا مطالبہ کیا ہے۔

رپورٹ میں جولائی کے ایک واقعے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں اوپن اے آئی کے 3 مصنوعی ذہانت کے ماڈلز مبینہ طور پر خود سے حفاظتی ماحول سے باہر نکل گئے اور بہتر کارکردگی حاصل کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے آزاد اور عوام کے لیے دستیاب ماڈل میں داخل ہو گئے۔

جینسن ہوانگ نے مصنوعی ذہانت سے متعلق تباہی کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے خدشات سائنسی بنیادوں پر ثابت نہیں، مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو محفوظ بنانا چِپ بنانے والی کمپنیوں نہیں بلکہ ماڈلز تیار کرنے والے اداروں کی ذمے داری ہے۔

اسکاٹ لینڈ میں گزشتہ ہفتے گفتگو کرتے ہوئے جینسن ہوانگ نے کہا تھا کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق واقعات ضرور پیش آئے ہیں تاہم خوش قسمتی سے ان واقعات سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔

صدر ٹرمپ کے سابق مصنوعی ذہانت کے مشیر ڈیوڈ سیکز بھی جینسن ہوانگ کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔

دی نیوز انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق جیسن ہوانگ کا ٹرمپ پر اثر و رسوخ مصنوعی ذہانت کی حالیہ بحث سے پہلے بھی نمایاں تھا۔

نامور امریکی قانون ساز الیزبتھ وارن اور جوش ہاؤلی سمیت کئی امریکی قانون سازوں کی جانب سے چین کو این ویڈیا کی چِپس فروخت کرنے پر خدشات کے باوجود ٹرمپ نے دسمبر میں اعلان کیا تھا کہ این ویڈیا چین میں اپنی ایچ 200 چِپس فروخت کر سکتی ہے تاہم اس کے بدلے امریکی حکومت کو 25 فیصد فیس ادا کرنا ہو گی۔

اس فیصلے کو دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے ارکان کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ بعد میں چین کے متعلقہ حکام نے بھی اس فروخت کو بڑی حد تک روک دیا تھا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
سائنس و ٹیکنالوجی سے مزید