چودہ اگست میرا جنم دن تھا جو تم سب نے اس طرح منایا کہ کسی نے میرے سر کے بال کھینچے تو کسی نے میرے باز و ہاتھ پاؤں اور جسم کو کاٹنے کی کوشش کرتے ہوئے میرا وجو دلہولہان کر دیا ۔ کسی بھی ماں کا اس قسم کا جنم دن شائد ہی منایا گیا ہو جیسا میرے بچوں نے منا کر دنیا بھر کو دکھایا ہے اس کے باوجود میں چاہتی ہوں کہ کچھ باتیں کروں ایک طرح سے آپ سب اسے میرا شکوہ سمجھنا بس آج دل بوجھ ہلکا کرنا چاہتی ہوں ان سے بھی جنہیں میں اچھی نہیں لگتی اور ان سے بھی جنہیں میر اوجود اب بوجھ لگنے لگا ہے۔ تمہاری ماں جسے شاعر اور ادیب مادر وطن کہتے ہیں اس ماں کے وجود میں جھانک کر اپنی حقیقت جاننے کی کوشش کرو جس کے بغیر تم میری محبت میرے وجود کی سلامتی اور اس کے تحفظ کا حق ادا نہیں کر سکتے تمہیں بے فکر دیکھ کر خوشی بھی ہوتی ہے اور فکر سے خالی دیکھ کر رنج بھی ۔
ایسا لگ رہا ہے کہ اب تم مجھ سے صرف سرسری اور غیر شعوری سارشتہ رکھنے لگے ہو میں محسوس کر رہی ہوں کہ تمہاری بے حسی ، بے شعوری اور غفلت و کوتا ہی جو دن بدن بڑھتی جارہی ہے اس سے میرے بچے کھچے وجود کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں ۔ حالات و واقعات کی انہی سنگینیوں نے مجھے تم سے براہ راست مخاطب ہونے اور یہ پوچھنے پر مجبور کیا ہے کہ تم نے کبھی غور کیا ہے کہ مجھے مملکت خداداد پاکستان کیوں کہا جاتا ہے تم نے کبھی سوچا ہے کہ ماں سے فقط مفادات کا رشتہ رکھنے والی اولاد کبھی ماں کی محبت اور اس کی طویل مشقت اس کی قربانیوں اور اس کی امیدوں ، آرزوؤں اور تمناؤں کا حق ادا نہیں کر سکتی اور مجھے سب سے بڑا دکھ یہی ہے کہ تم نے مجھ سے اپنا رشتہ صرف مفاد اور اقتدار تک محدود رکھا ہے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر اپنے خدا کو گواہ بنا کر بتاؤ
تم اپنے اور اپنے بیوی بچوں کی خوشحالی اور خوشی کیلئے پر تعیش سامان زیست کی فراہمی کے بارے میں جتنا سوچتے ہو کیا کبھی اس کا عشر عشیر بھی میری صحت و سلامتی کے بارے میں سوچا ہے؟ نہیں ہرگز نہیں ! تمہارے اسی منفی رویے کی وجہ سے خود تمہاری عافیت و سلامتی کے بارے میں ہر وقت دھڑ کا سالگارہتا ہے تمہاری مجھ سے حد سے بڑھتی ہوئی بے اعتنائی اور لا پروائی سے اگر خدانخواستہ مجھے کچھ ہو گیا تو تمہارا اور تمہاری موجودہ اور آنے والی نسلوں کا کیا بنے گا ؟ ۔
میں دیکھ رہی ہوں کہ تم سب فرقہ واریت میں ڈوب چکے ہو تمہیں مال وزر کے پجاریوں نے ہوش و خرد سے بے گانہ کر کے ایک دوسرے کا دشمن بنا دیا ہے تم اپنے سے اختلاف رکھنے والے کو سنگسار کرنا افضل عبادت سمجھنے لگے ہو اللہ کی قرآن پاک میں دی گئی تعلیمات بھول کر تم مفادات میں جکڑے ہوئے بعض مذہبی پیشوائوں کی باتوں پر زیادہ یقین کرنے لگے ہو مجھے ڈر ہے کہ دشمن تمہیں آپس میں لڑا کر کچل دے گا۔
میں تمہارے چہروں کو دیکھ رہی ہوں تمہیں میری یہ باتیں اچھی نہیں لگ رہیں شائد تمہیں جانے کی جلدی ہے کسی فیشن شو میں یا کسی ٹی وی ٹاک میں لیکن کچھ دیر اور ٹھہر جاؤ اور مجھے غور سے سنو میری حقیقت میری روح کو سمجھنے کی کوشش کرو یا درکھو میری رگوں کو خاموش اور عیش و عشرت میںمدہوش تماشائی کی طرح کٹتے دیکھتے رہو گے تو پھر کہاں جاؤ گے کس کی شاخوں پر اپنا آشیانہ قائم رکھ سکو گے؟
تم بھول گئے ہو کہ پاکستان تمہارے لیے اللّٰہ کا ایسا ہی انعام ہے جیسا انعام اللّٰہ نے غزوہ بدر کے بعد ریاست مدینہ کی صورت میں اہل ایمان کو عطا کیا تھا اور اس کی اہمیت کا احساس دلاتے ہوئے انہیں قرآن پاک کی سورۃ الانفال میں بتایا تھا کہ ”یاد کرو وہ وقت جب تم تعداد میں تھوڑے تھے زمین پر تمہیں کمزور سمجھا جاتا تھا تم ڈرتے رہتے تھے کہیں لوگ تمہیں مٹا نہ دیں پھر اللّٰہ نے تمہیں جائے پناہ دے دی اور اپنی مدد سے تمہارے ہاتھ مضبوط کئے میرے بچو اس آیت مبارکہ کے ایک ایک لفظ پر ٹھہر ٹھہر کر پوری سنجیدگی اور دلجمعی سے غور کرو، کیا پوری اسلامی تاریخ میں ریاست مدینہ کے بعد ان کا اطلاق پاکستان اور اہل پاکستان کے سواکسی اور اسلامی ریاست پر ہوتا ہے؟
مجھے تو قرآن کی ان آیات کی تلاوت کے دوران یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اہل مدینہ کے بعد اللّٰہ تعالیٰ تم پاکستانیوں سے براہ راست مخاطب ہو۔ کبھی غور کرو تو تمہیں پتہ چلے گا کہ میرا وجود بھی قرارداد مقاصد کی منظوری سے تخلیق ہوا مگر جس طرح مدینہ میں عبداللّٰہ بن ابی کی منافقت سامنے آئی اور کچھ اہل ایمان اس کی زد میں آئے اسی طرح یہاں بھی کچھ منافقوں نے تم میں نفرت اور نفاق کا بیج بود یا اور پھر تمہاری بداعمالیوں اور جاہ پرستی سے دشمن نے تمہیں دو حصوں میں تقسیم کر دیا تم دیکھتے رہے اور میرے وجود کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ اور اس کی ذمہ داری تم سب پر ہے۔
میرے عزیز بیٹو اور بیٹیو ! ہجرت اور کفار مکہ کی شکست کے بعد ریاست مدینہ کی طرح ہجرت کے ساتھ ساتھ خون کے دریا عبور کرنے کے بعد پاکستان کی تشکیل میں تم میرا عکس جمیل دیکھتے تو میری حقیقت کو پاسکتے لیکن تم نے ایسا نہیں کیا اور مجھے داغدار کر دیا۔ میں دیکھ رہی ہوں کہ تمہیں میرا یہ انداز تخاطب پریشان کر رہا ہے تمہارا وہ تصور قومیت کہاں گیا ؟ تم جن عصبیتوں سے اوپر اٹھے تھے ان کی دلدل میں کیوں غرق ہوگئے؟
تمہارے اندرا خوت ایثار اور اتحاد کے جو رشتے قائم ہوئے تھے وہ برادر کشی، اغراض، نفس پرستی اور انتشار کی کیفیت سے کیوں دو چار ہو گئے ہیں؟ ۔ معاشرتی عدل کے خواب کیوں پورے نہیں ہوئے ، معاشی نا انصافی کی خلیج اس قدر وسیع کیوں کر رہے ہو تمہارے اندر خوشحالی کے جزیرے اور افلاس کے سمندر کیوں نمودار ہو رہے ہیں؟
تم سب کے دلوں میں بسنے والے یہ سیاہ داغ ہی تو ہیں جو مجھے بے چین کئے ہوئے ہیں مگر تم میری بے چینی اور اضطراب سے بالکل بے نیاز ہو چکے ہو کسی دن میری طرف غور سے دیکھو کہ میں کیا تھی اور اب تم نے کیا کر دیا ہے ۔۔!!