• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتِ حال اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے نے پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک کیلئے معاشی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں معمولی سا اضافہ بھی پاکستان میں براہِ راست عوامی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے، کیونکہ پٹرول کی قیمت صرف گاڑی چلانے کے اخراجات تک محدود نہیں رہتی بلکہ اشیائے ضروریہ، ٹرانسپورٹ، کاروبار اور روزمرہ زندگی کے مجموعی اخراجات کو متاثر کرتی ہے۔ اس صورتِ حال میں سب سے زیادہ دباؤ کم اور متوسط آمدن والے اس طبقے پر پڑتا ہے جس کا روزگار براہِ راست موٹر سائیکل، رکشہ، چنگ چی یا چھوٹی گاڑی سے وابستہ ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے وزیراعظم خصوصی پیٹرول ریلیف ا سکیم اسی معاشی دباؤ کو کم کرنے کے لیے ایک ٹارگٹڈ اقدام کے طور پر سامنے آئی۔ اس اسکیم کی اہمیت صرف اس مالی رعایت میں نہیں جو مستحق شہریوں کو پٹرول پر دی جا رہی ہے بلکہ اس امر میں بھی ہے کہ حکومت نے عوامی فیڈ بیک کو اسکیم کے عملی نفاذ کا مستقل حصہ بنایا۔ ملک بھر سے جب شہریوں نے رجسٹریشن، اہلیت، پٹرول کی مقدار اور پرانی گاڑیوں سے متعلق مشکلات اور تجاویز سامنے رکھیں تو وزیراعظم نے ان شکایات اور آرا کا نوٹس لیتے ہوئے اسکیم میں فوری تبدیلیوں کی ہدایات جاری کیں۔ یہی طرزِ حکمرانی کسی بھی عوامی فلاحی پروگرام کی کامیابی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

وزیراعظم خصوصی ریلیف اسکیم کے تحت ایسے شہریوں کو ہدف بنا کر ریلیف دینے کی کوشش کی گئی ہے جن کی روزمرہ زندگی اور آمدن کا انحصار سستی اور قابلِ رسائی سفری سہولت پر ہے۔ ابتدائی طور پر مقررہ مقدار میں پٹرول خریدنے کی شرط بعض شہریوں کے لیے عملی مشکل بن رہی تھی۔ عوامی فیڈ بیک کے بعد وزیراعظم نے موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگ چی کے لیے پانچ لیٹر پٹرول خریدنے کی شرط ختم کرنے کی ہدایت کی۔ اب پانچ لیٹر سے کم مقدار میں پٹرول خریدنے والا اہل محنت کش بھی سکیم سے فائدہ اٹھا سکے گا اور ہفتہ وار ٹوکن کے ذریعے 500 روپے کی رعایت حاصل کرسکے گا۔ بظاہر یہ ایک انتظامی تبدیلی ہے، لیکن اس کا تعلق براہِ راست ان شہریوں سے ہے جو ایک وقت میں زیادہ پٹرول خریدنے کی مالی استطاعت نہیں رکھتے۔

اسی طرح ملک بھر سے موصول ہونے والے فیڈ بیک کی بنیاد پر 20 سال پرانی موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چنگ چی کو بھی اسکیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اب یکم جنوری 2006 یا اس کے بعد رجسٹرڈ سواری بھی اہلیت کے دائرے میں آتی ہے۔ اس فیصلے سے ایسے محنت کش خاندانوں کو ریلیف ملنے کی گنجائش پیدا ہوئی ہے جو نئی گاڑی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے اور برسوں پرانی سواری کے ذریعے اپنے روزگار کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ فیصلہ اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ کم آمدن والے شہریوں کے لیے گاڑی کی عمر اکثر معاشی مجبوری ہوتی ہے، انتخاب نہیں۔

800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے بھی اسکیم میں ماہانہ 30لیٹر تک رعایت کا انتظام رکھا گیا ہے، جس کیلئے ہر دس روز بعد 10لیٹر کا ایک، یعنی ماہانہ تین ٹوکن جاری کیے جائینگے۔ اس طرح مختلف آمدن اور سواری کی ضروریات رکھنے والے شہریوں کیلئے ریلیف کا ایک منظم طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔

اس اسکیم کا ایک اہم پہلو اس کا ڈیجیٹل نظام ہے۔ وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ کی سربراہی میں وزارتِ آئی ٹی نے ایس ایم ایس رجسٹریشن، ڈیجیٹل ٹوکن اور پٹرول پمپ پر فوری تصدیق کا نظام تیار کیا ہے۔ شناختی کارڈ، رجسٹرڈ موبائل سم، گاڑی کی معلومات اور منفرد ٹوکن کو باہم منسلک کرنے کا مقصد دہری رجسٹریشن، جعلی دعوؤں اور ممکنہ غلط استعمال کے امکانات کو محدود کرنا ہے۔ رجسٹریشن کے ایس ایم ایس کو 9771 پر مکمل طور پر مفت کرنے کا فیصلہ بھی عوامی سہولت کیلئے اہم قدم ہے، کیونکہ کسی شہری کو اسکیم میں شامل ہونے کے لیے رجسٹریشن فیس ادا نہیں کرنا پڑے گی۔

وزارتِ آئی ٹی کا چوبیس گھنٹے فعال کنٹرول روم ایس ایم ایس، ٹوکن، تصدیقی عمل اور شکایات کی نگرانی کر رہا ہے۔ شہری 9771پر REG کے ساتھ مطلوبہ معلومات بھیج کر رجسٹریشن کر سکتے ہیں اور تصدیقی پیغام موصول ہونے کے بعد TOK کے ذریعے پٹرول کا ٹوکن حاصل کرسکتے ہیں۔ اس پورے عمل کو ڈیجیٹل بنانے کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ریلیف براہِ راست مستحق شہری تک پہنچے اور انسانی مداخلت کم سے کم ہو۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی قیادت میں وزارتِ اطلاعات و نشریات نے اسکیم کے آغاز کے ساتھ ملک گیر آگاہی مہم شروع کی۔ ٹیلی ویژن، ریڈیو، اخبارات اور ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے شہریوں کو اہلیت، رجسٹریشن، ٹوکن اور رعایتی پٹرول کے حصول کا طریقہ سمجھایا گیا۔ اسی دوران ملک بھر سے مسلم لیگ ن کے کارکنوں اور دیگر یوتھ ٹیموں کوا سکیم کے بارے میں بریفنگ دی گئی اور انہیں پٹرول پمپوں تک بھیجا گیا تاکہ وہ نظام کو عملی طور پر دیکھ سکیں، شہریوں اور پمپ مالکان سے براہِ راست فیڈ بیک حاصل کریں اور سامنے آنے والے مسائل متعلقہ اداروں تک پہنچائیں۔

یہ پہلو اس لیے بھی اہم ہے کہ کسی بھی ڈیجیٹل اسکیم کی کامیابی صرف اس کے سافٹ ویئر یا تکنیکی نظام سے نہیں ہوتی۔ اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب عام شہری پٹرول پمپ پر ٹوکن لے کر پہنچتا ہے۔ اگر وہاں شناخت کی تصدیق، ٹوکن یا رعایت کے حصول میں مشکل پیش آئے تو فوری اصلاح ضروری ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی فیڈ بیک کو اسکیم کے مسلسل جائزے کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔

وزارتِ خزانہ، پٹرولیم ڈویژن، اوگرا، پی ٹی اے، اسٹیٹ بینک، نادرا، این آئی ٹی بی، ضلعی انتظامیہ اور ٹیلی کام آپریٹرز سمیت مختلف اداروں کا باہمی تعاون اس سکیم کے ملک گیر نفاذ کے لیے ضروری ہے۔ مختلف اداروں کے درمیان اس رابطے کا مقصد ایک ایسا نظام قائم کرنا ہے جس میں شہری کی شناخت، گاڑی کی اہلیت، ٹوکن اور پٹرول کی فراہمی ایک مربوط طریقے سے مکمل ہو۔

اس اسکیم کا ایک وسیع تر پہلو مستقبل کی معاشی پالیسی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اگر ذاتی معلومات کے تحفظ کے اصولوں کے ساتھ ڈیجیٹل ریکارڈ محفوظ اور درست انداز میں مرتب کیا جائے تو حکومت کے پاس کم اور متوسط آمدن والے شہریوں کی ضروریات کو سمجھنے کے لیے بہتر ڈیٹا موجود ہوگا۔ مستقبل میں کسی معاشی بحران، توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے یا کسی اور ہنگامی صورتِ حال میں ایسے شہریوں تک براہِ راست، ٹارگٹڈ اور شفاف امداد پہنچانے میں یہ نظام مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

وزیراعظم خصوصی پیٹرول ریلیف اسکیم کا موجودہ تجربہ اس لحاظ سے قابلِ توجہ ہے کہ اس میں عوامی فیڈ بیک کو محض شکایت نہیں بلکہ پالیسی میں بہتری کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ پانچ لیٹر کی شرط ختم کرنا، پرانی گاڑیوں کو شامل کرنا، مفت ایس ایم ایس رجسٹریشن اور شکایات کی مسلسل نگرانی جیسے فیصلے اسی عمل کا حصہ ہیں۔ معاشی بحران کے دور میں ہر حکومتی اقدام کی اصل آزمائش یہی ہوتی ہے کہ اس کا فائدہ کاغذ پر موجود اعدادوشمار سے نکل کر عام آدمی تک کتنی آسانی اور شفافیت کے ساتھ پہنچتا ہے۔ اگر عوامی رائے، ڈیجیٹل شفافیت اور ادارہ جاتی تعاون کا یہ سلسلہ برقرار رہتا ہے تو یہ اسکیم موجودہ پٹرول قیمتوں کے دباؤ کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے ٹارگٹڈ ریلیف نظام کے لیے بھی ایک عملی بنیاد فراہم کرسکتی ہے۔

تازہ ترین