سعودی عرب کا قومی دن صرف ایک قومی جشن نہیں بلکہ 1932ء میں مملکت کے اتحاد سے شروع ہونیوالے ایک ایسے سفر کی یاد دہانی بھی ہے جس میں ریاست نے اپنی سیاسی، معاشی اور سماجی ترجیحات کو وقت کے تقاضوں کے مطابق مسلسل تبدیل کیا۔ 23ستمبر 2026ء کو سعودی عرب اپنا 96واں قومی دن منا رہا ہے۔ اس موقع پر مملکت کی موجودہ سمت کا جائزہ لیا جائے تو قیادت، معاشی تنوع، ٹیکنالوجی، سیاحت، سرمایہ کاری اور عالمی سفارتکاری نمایاں شعبے کے طور پر سامنے آتے ہیں۔
سعودی عرب کی موجودہ اقتصادی حکمت عملی کا مرکزی ستون سعودی وژن 2030ء ہے، جسکا بنیادی مقصد تیل پر انحصار کم کرتے ہوئے ایک متنوع اور مسابقتی معیشت تشکیل دینا ہے۔سعودی جنرل اتھارٹی فار اسٹیٹسٹکس کے مطابق 2025ء میں سعودی معیشت کی حقیقی شرح نمو 4.5 فیصد رہی۔ اسی سال موجودہ قیمتوں پر مجموعی قومی پیداوار تقریباً 4789ارب سعودی ریال تک پہنچ گئی۔ غیر تیل سرگرمیوں میں بھی 4.9فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو معاشی تنوع کی سمت میں پیش رفت کی اہم علامت ہے۔وژن 2030ء کی 2025ء کی سالانہ رپورٹ کے مطابق حقیقی غیر تیل GDP بڑھ کر تقریباً 892 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ GDP میں نجی شعبے کا حصہ 51فیصد ہو گیا، جو 2030ء کے 65فیصد ہدف کی جانب نمایاں پیشرفت ہے۔یہ اعداد اس تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ سعودی معیشت اب صرف تیل اور توانائی کے شعبے تک محدود نہیں رہی بلکہ تعمیرات، سیاحت، ٹیکنالوجی، مالیاتی خدمات، لاجسٹکس، تفریح، صنعت اور ڈیجیٹل معیشت بھی اقتصادی سرگرمیوں کے اہم مراکز بن رہے ہیں۔
روزگار اور انسانی سرمایہ: معاشی ترقی کا اصل امتحان روزگار کے مواقع اور انسانی صلاحیتوں میں اضافے سے ہوتا ہے۔ سعودی لیبر مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 2025ء کی پہلی سہ ماہی میں سعودی شہریوں میں بے روزگاری کی شرح 6.3 فیصد تک آگئی، جو تاریخی کی کم ترین سطح تھی۔ اسی عرصے میں سعودی خواتین کی لیبر فورس میں شرکت 36.3فیصد تک پہنچ گئی۔
سیاحت:سیاحت سعودی عرب کی معاشی تبدیلی کی نمایاں مثال بن چکی ہے۔ 2025ء کے وژن 2030ء جائزے کے مطابق بین الاقوامی سیاحتی آمدنی 2019ء کے مقابلے میں 148فیصد بڑھ چکی تھی، جبکہ 2025ء کی پہلی سہ ماہی میں بین الاقوامی سیاحوں کے اخراجات تقریباً 49.4ارب ریال رہے۔ اسی عرصے میں سفر کے شعبے کے توازن میں 26.8ارب ریال کا فاضل ریکارڈ کیا گیا۔مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی زیارت، عمرہ و حج، ثقافتی سرگرمیوں، تفریحی منصوبوں، تاریخی مقامات اور جدید سیاحتی مراکز نے سعودی عرب کو عالمی سیاحتی نقشے پر ایک نئے انداز میں نمایاں کیا ہے۔
سرمایہ کاری اور عالمی کاروباری مرکز:وژن 2030ء کی 2025ء کی رپورٹ کے مطابق 660بین الاقوامی کمپنیوں نے مملکت میں اپنے علاقائی ہیڈ کوارٹر قائم کرنیکا انتخاب کیا، جبکہ نجی شعبے کی GDP میں شراکت 51فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ پالیسی صرف بڑے منصوبوں تک محدود نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، مالیاتی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، صنعت اور جدید کاروباری ماڈلز کو بھی سعودی معیشت کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت :موجودہ سعودی حکمت عملی میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تبدیلی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ 2025ء میں سعودی عرب نے HUMAIN کے نام سے عالمی سطح کی مصنوعی ذہانت کی کمپنی کا آغاز کیا۔ اسی سال آکسفورڈ انسائٹس کے گورنمنٹ AI ریڈی نیس انڈیکس میں سعودی عرب مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں پہلے نمبر پر رہا، جبکہ عالمی سائبر سیکورٹی انڈیکس 2025ء میں مملکت نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ یہ پیشرفت اس بات کی علامت ہے کہ سعودی عرب اپنی معیشت کے مستقبل کو صرف قدرتی وسائل سے نہیں بلکہ علم، ڈیٹا، مصنوعی ذہانت اور انسانی صلاحیتوں سے بھی جوڑ رہا ہے۔
سفارتکاری :سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں بھی حالیہ برسوں کے دوران فعال سفارتکاری نمایاں ہوئی ہے۔ 2025ء میں ریاض نے روس اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی، جبکہ جدہ میں امریکہ اور یوکرین کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے۔ یہ سرگرمیاں روس۔یوکرین تنازع کے حل کیلئے سفارتی کوششوں کے وسیع تر سلسلے کا حصہ تھیں۔اسی سال ریاض میں سعودی امریکی سربراہی اجلاس اور خلیجی امریکی سربراہی اجلاس منعقد ہوئے۔ سعودی عرب نے فرانس کے ساتھ مل کر فلسطین کے مسئلے کے پرامن حل اور دو ریاستی فارمولے کے حوالے سے بین الاقوامی سفارتی کوششوں میں بھی کردار ادا کیا۔2026ء میں بھی مملکت کی بین الاقوامی مصروفیات جاری رہیں۔ اگست 2026ء میں بیورو انٹرنیشنل ڈیس ایکسپوزیشنز اور سعودی عرب کے درمیان Expo 2030 Riyadh کے حوالے سے معاہدہ طے پایا۔ بی آئی ای کے مطابق 135 سے زیادہ ممالک پہلے ہی ایکسپو میں شرکت کی تصدیق کر چکے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 200سے زائد سرکاری شرکا متوقع ہیں۔ مضبوط بنیاد اور اگلا مرحلہ :2026ء کی آئی ایم ایف آرٹیکل IV رپورٹ کے مطابق سعودی معیشت نے 2025ء میں 4.6فیصد توسیع کی اور مملکت کی معیشت نے علاقائی جغرافیائی سیاسی دباؤ کے باوجود لچک کا مظاہرہ کیا۔ سعودی وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف نے بنیادی ڈھانچے، مالی گنجائش، ذخائر اور خودمختار اثاثوں کو بھی سعودی معیشت کی مضبوط بنیادوں میں شمار کیا۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ بڑے منصوبوں اور بلند معاشی اہداف کیساتھ ان منصوبوں کی مالی پائیداری، نجی شعبے کی حقیقی شمولیت، روزگار کے معیار، انسانی سرمایہ، ماحولیاتی پائیداری اور طویل المدت پیداواری صلاحیت بھی مستقبل کے اہم امتحانات ہوں گے۔
سعودی قومی دن ماضی کی کامیابیوں کو یاد کرنے کیساتھ مستقبل کی ذمہ داریوں کا بھی احساس دلاتا ہے۔ آج کا سعودی عرب ایک ایسی معیشت کی تشکیل کی کوشش کر رہا ہے جس میں تیل کے ساتھ صنعت، سیاحت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ثقافت اور انسانی سرمایہ بھی مرکزی کردار ادا کریں۔قیادت کی پالیسی سمت، وژن 2030ء کے اہداف اور دستیاب اعداد و شمار یہ دکھاتے ہیں کہ مملکت نے گزشتہ برسوں میں کئی شعبوں میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے۔ آنیوالے برسوں میں اس سفر کی کامیابی کا پیمانہ یہ ہوگا کہ یہ ترقی کس حد تک پائیدار، متوازن، روزگار پیدا کرنیوالی اور عالمی سطح پر مسابقتی معیشت میں تبدیل ہوتی ہے۔قومی دن اسی مسلسل سفر، قومی یکجہتی اور مستقبل کی تعمیر کے عزم کی علامت ہے۔