قیامت کب آئے گی، یہ تو کوئی نہیں جانتا، لیکن آسمانی صحائف میں اس کے آنے کی نشانیاں بتادی گئی ہیں۔ یہ کرہ ارض پر انسانی زندگی کا آخری دن ہوگا۔ عالم امکانات میں اس وقت جو کچھ ہورہا ہے، اس سے ظاہر بین نظر دیکھ رہی ہے کہ شاید یہ دن زیادہ دور بھی نہیں۔ خلا میں ہتھیاروں کی تنصیب، مصنوعی ذہانت جس نے انسان کو خود سوچنے کی زحمت اٹھانے سے بے نیاز کردیا ہے اور اس طرح کی دوسری ایجادات بنی نوع انسان کی فلاح کی بجائے اسے تباہی کے گڑھے کی طرف دھکیلنے کا پتہ دے رہی ہیں، خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ تو ایک عرصہ سے جاری ہے لیکن تشویش ناک بات یہ ہے کہ امن کے نوبل انعام کیلئے جنگیں چھیڑنے والے امریکہ نے چاند پر قبضےکیلئے جنگ کی باقاعدہ تیاری شروع کردی ہے۔ واشنگٹن میں ایک دفاعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکا کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے، جو صدر ٹرمپ کے اعلیٰ فوجی مشیر بھی ہیں، کہا ہے کہ امریکی فوج کو چاند کے گرد ممکنہ جنگ کیلئے ابھی سے تیاری شروع کردینی چاہیے۔ امریکی فوج کو زمین کے مدار کے ساتھ چاند کے گرد خلا میں جنگ لڑنے، اس کا دبائو برداشت کرنے اور فتح حاصل کرنے کی تیاری پکڑنی چاہیے۔ فوج کو سمندر کی تہ سے چاند کے گرد خلا تک ہر محاذکیلئے تیار رہنا ہوگا۔
سائنس اور ٹیکنالوجی میں ابتدائی تجربات تو صدیوں پہلے مسلمان سائنس دانوں اور مفکرین نے کیے، لیکن انہیں آگے بڑھانے میں جو کردار مغربی مفکرین نے ادا کیا ان کا سرخیل امریکا ہے، یہ امریکا ہی تھا جس نے جاپان پر ایٹم بم گراکر کروڑوں انسانوں کو آناً فاناً موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس سے دنیا پر اس کی دھاک بیٹھ گئی اور وہ برطانیہ عظمیٰ کو پیچھے چھوڑ کر خود سپر پاور بن گیا۔ دنیا کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کیلئے وہ اب بھی تباہ کن ہتھیار بنارہا ہے اور اس پر فخر بھی کرتا ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں پر اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کیلئے وہ دوسرے ملکوں کو ایسے ہتھیار بنانے نہیں دیتا، پھر بھی پاکستان سمیت بہت سے ممالک جوہری ہتھیار بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ ایران پر حملہ بھی اس نے ایٹمی ہتھیاروں کے خطرے سے دنیا کو ’’بچانے‘‘ کیلئےکیا۔ ایران بھلے بار بار کہتا رہا کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنانا چاہتا، مگر امریکی صدر سنی ان سنی کرتے ہوئے یہ دعویٰ مسلسل دہرا رہے ہیں کہ ایران ایٹم بم بنارہا ہے، اگر امریکا نے روکا نہ ہوتا تو وہ اب تک دنیا کو تباہ کرچکا ہوتا۔ دنیا کو تو خیر ایران کے ایٹم بم سے کوئی خطرہ نہیں تھا، البتہ فلسطینیوں کی نسل کشی میں مصروف اسرائیل کو ضرور خوف لاحق تھا۔ صدر ٹرمپ کی صورت میںا سے ایک مددگار مل گیا، اور امریکا اور اسرائیل نے مل کر ایران پر حملہ کردیا۔ اب امریکا اکیلا ایران سے لڑ رہا ہے اور اسرائیل غزہ میں بچے کچھے فلسطینی مسلمانوں کا صفایا کرنے میں مصروف ہے۔ ساتھ ہی لبنان اور شام کے مسلمانوں کی خبر بھی لے رہا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب وہاں درجنوں مسلمانوں کا لہو نہ بہایا جاتا ہو۔ دنیا بھر کے دو ارب سے زائد مسلمانوں کے 57 ممالک یہ تماشا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ان میں ایک بھی صلاح الدین ایوبی نہیں جو اس کو روک سکے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ بعض اسلامی ممالک خود امریکہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ البتہ اتمام حجت کیلئےفلسطینیوں سے ہمدردی کے دو بول ضرور بول لیتے ہیں۔ امریکا اس دوران فلسطینیوں کے قتل عام کیلئے اسرائیل کو اربوں ڈالر کے تباہ کن ہتھیار دیے جارہا ہے۔ کسی بھی اسلامی ملک نے اس کی مذمت تک نہیں کی۔
امریکا نے ایران سے اپنی جارحانہ جنگ میں کھربوں ڈالر کا نقصان اٹھایا، جسکی تصدیق خود امریکی محکمہ دفاع نے اپنی رپورٹ میں کی ہے۔ ایران سے جنگ میں ہونے والے مجموعی امریکی اخراجات کا پاکستانی کرنسی میں اب تک تخمینہ 92 کھرب 55 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ اس کے گولہ بارود، میزائل اور ڈرونز کے ذخائر میں تشویش ناک حد تک کمی آئی، جسے پورا کرنے کیلئے وہ جنگ میں ذرا وقفہ کرتا ہے اور مزید ہتھیار بناکرپھر ہلہ بول دیتا ہے۔ اس ’’کارخیر‘‘ میں یورپ اور برطانیہ پوری طرح اس کے ساتھ ہیں۔ البتہ کبھی کبھار اس جنگ کی زبانی مخالفت بھی کردیتے ہیں۔ ایران اکیلے ان سب کا مقابلہ کررہا ہے۔ امریکا انسانیت کو تباہ کرنے کے مشن میں پوری طرح فعال ہے۔ مصنوعی ذہانت بھی اسی کے سائنس دانوں کی تخلیق ہے۔ مصنوعی ذہانت کی ایک ’’خبر‘‘ کی حقیقت کا بروقت پتہ چل گیا، ورنہ اس کے نتیجے میں امریکا اور چین میں خوفناک جنگ شروع ہوجاتی اور قیامت سے پہلے قیامت آجاتی، خود دس فیصد امریکی سائنس دانوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ نئی سائنسی دریافت انسانیت کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔ امریکا میں اس سے امیر اور غریب میں فرق بڑھ چکا ہے۔ اس کے کچھ فوائد بھی ہوں گے، مگر سائنس دانوں ہی کا کہنا ہے کہ اس نے بچوں میں سیکھنے کی صلاحیت ختم کردی ہے۔ انہیں شعور اور احساس سے محروم کررہی ہے، شعور اور احساس ہی تو نوع انسانی کی اصل پہچان ہے۔ یہ ختم ہوجائے تو موت کے سوا پیچھے کیا رہ جاتا ہے؟
ایران سے جنگ میں امریکا نے اس کے شہری ٹھکانوں، اسکولوں اور اسپتالوں پر جو آگ برسائی اس پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی نے اسے جنگی مجرم قرار دیا ہے، لیکن امریکا نے یہ کہہ کر اسے رد کردیا کہ ہم اس کمیٹی سے الگ ہوچکے ہیں۔ خود اقوام متحدہ سے بھی اس کا تعلق بس اتنا رہ گیا ہے کہ اپنے مطلب کیلئے ضرورت پڑے تو ویٹو استعمال کرلے، ورنہ یہ عالمی تنظیم تو ایران سے جنگ کی برملا مخالف ہے، جسکی نہ امریکا سنتا ہے نہ عالمی امن کے دوسرے دعویدار، امریکی اخبارات اس جنگ میں امریکی نقصانات کا بھانڈا پھوڑ رہے ہیں، جس سے ناراض ہوکر صدر ٹرمپ نے سی این این سمیت بعض اخبارات اور ٹی وی چینلز کے صحافیوں کا وائٹ ہائوس میںد اخلہ ہی ممنوعہ قرار دے دیا ہے، خود صدر نے خفیہ معلومات افشا کرنے پر اپنی انتظامیہ کو گندہ قرار دیا ہے، دنیا کی سپر پاور جسے امن عامہ کی نقیب ہونا چاہئے، خود اس کی تباہی کے بیج بو رہی ہے۔