سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے عالم اسلام کیلئے شدید تحفظات اور خطرات پیدا کرنے کا باعث بن رہے ہیںیہ اشتعال انگیزی ایک سنجیدہ جواب کی متقاضی ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اشتعال انگیز فوجی کارروائیاں فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سلامتی کونسل کے ارکان نے سعودی عرب سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون کے تحت اس کے حقِ دفاع کی بھی توثیق کی ہے ۔پاکستان نے بھی باب المندب میں حوثیوں کی جانب سے تجارتی جہازوں اور انکے عملے پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال کو پہلے ہی انتہائی تشویش ناک بنا دیا تھا۔ اب سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں نے اس تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ حوثیوں کی عسکری صلاحیت میں حالیہ عرصے میں ہونے والے اضافے کی نوعیت کیا ہے، انہیں جدید اور مہلک ہتھیار اور ٹیکنالوجی کہاں سے حاصل ہو رہی ہے؟ اس پورے معاملے کو سمجھنےکیلئے ہتھیاروں کی فراہمی، تکنیکی معاونت اور علاقائی عسکری نیٹ ورکس سے متعلق شواہد اور بین الاقوامی تحقیقات کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔
پاکستان بار بار کہہ رہا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے سعودی عرب کی سکیورٹی کیلئے پاکستان کا عزم غیر مشروط ہے۔ یہ دونوں ممالک کے عوام، افواج اور سیاسی قیادت کے درمیان ایک نہ ٹوٹنے والا تاریخی رشتہ ہے ۔پاکستان سعودی عرب مشترکہ معاہدہ ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ اس فورم کی تشکیل کی سب سے پہلی کوشش جنرل محمد ضیاء الحق شہید کے دور میں ہوئی تھی۔ انہوں نے ایران عراق جنگ کے دوران علاقائی خطرات کے مقابلے کیلئے 1982 کے فوجی ڈیپوٹیشن/پروٹوکول معاہدے کے ذریعے پاکستان سعودی دفاعی تعاون کی ایک نئی بنیاد رکھی تھی جسکے نتیجے میں اس معاہدے کی رو سے سعودی عرب میں پاکستانی فوجی ٹرینرز، مشیروں اور جنگی دستوں کی تعیناتی کو باقاعدہ بنایا گیا تھا اس فریم ورک کے تحت 1980 کی دہائی کے دوران، پاکستان نے سعودی عرب کی سرحدی اور سفارتی ڈھانچے کی حفاظت میں مدد کیلئے ایک ڈویژن کے لحاظ سے مضبوط دستہ (اور بعض اوقات ہزاروں لڑاکا اور فضائیہ کے اہلکار) مملکت کے اندر تعینات کیے تھے۔ جنرل ضیاء الحق اور سعودی شاہی خاندان کے درمیان قریبی ذاتی اور نظریاتی تعلق نے ایک یک طرفہ سلامتی کی ضمانت دی جہاں پاکستان نے مملکت کیلئے دفاعی وعدے کیے تھے اس کے بعد گزشتہ سال اسی معاہدے کا جدید ارتقاء ہوا جب پاکستان اور سعودی عرب نے ایک باضابطہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے،اب اس میں ترکیہ بھی شامل ہوچکا ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 ءکو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس سے ایک سہ فریقی اجتماعی ڈیٹرنس آرکیٹیکچر تشکیل دیا گیا، یہ مشترکہ معاہدہ اپنے اثرات ضرور دکھائے گا۔ سب جانتے ہیںکہ امریکہ کے ایران پر حملوں کے باعث خطے کی صورتحال پہلے ہی مخدوش ہے اور اب حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں نے ایک چیلنج پیدا کر دیا ہے۔یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ امریکہ اور حوثی قیادت کے درمیان باقاعدہ ملاقاتیں ہوئی ہیں یہ صورتحال نہایت حیران کن اور تشویش ناک ہے۔ میڈیا میں یہ رپورٹس بھی سامنے آ چکی ہیں کہ امریکہ نے حوثیوں کیخلاف حملے کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس کا مطالبہ سعودی عرب کی جانب سے کیا گیا تھا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ سعودی عرب پر دباؤ ڈال کر اسے ابراہم معاہدےکا حصہ بنانا چاہتا ہے؟ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب پر ابراہم معاہدے میں شامل ہونے کیلئے بارہا زور دیا گیا ہے۔ تاہم، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے واضح موقف اختیار کیا ہے کہ فلسطین کے مسئلے کا دو ریاستی حل ہی امن کی ضمانت ہے ۔
حرمین شریفین کی حرمت و تقدس ہمارے لیے ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ پاکستان اپنی اس ذمہ داری کو ادا کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے۔جن ممالک کا اثر و رسوخ حوثی گروہ پر ہے، انہیں چاہیے کہ وہ اللّٰہ کے مقدس گھر اور رسول اللّٰہ ﷺ کے شہر کی حرمت کا پاس رکھتے ہوئے حوثیوں کو مسلم دنیا میں بدامنی، انتشار اور شر پھیلانے سے باز رکھنے کیلئے اپنا کردار اداکریں۔گزشتہ دنوں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دورہ چین کے دوران چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا جس میں خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا دونوں رہنماؤں نے علاقائی پیش رفت پر مشاورت کی اور خطے میں جاری کشیدگی اور حوثیوں کے حملوں سمیت امن و استحکام کی کوششوں پر بھی بات چیت ہوئی۔ دوسری جانب، سعودی عرب کی ایما پر چین نے ایران سے یمن کے حوثیوں کو سعودی عرب اور خطے میں حملے روکنے کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کی درخواست کی ہے۔ بیجنگ نے نجی طور پر بھی تہران سے حوثیوں کو قابو کرنے میں مدد دینے کی درخواست کی ہے کیونکہ بحیرہ احمر اور باب المندب کے اطراف کشیدگی سے تیل کی ترسیل اور عالمی تجارت متاثر ہورہی ہے۔ ایران امریکا محاذ ابھی سنبھل نہیں رہا تھا کہ حوثیوں نے نئی جنگ چھیڑ دی حیران کن امر یہ ہے کہ حوثیوں کی نسبتاً محدود فوجی طاقت اچانک سعودی عرب پر اتنے بڑے حملے کرنے کی پوزیشن میں کیسے آ گئی کہ طائف تک ڈرون پہنچا دیا گیا ۔سوال یہ ہے کہ ایسی جدید ٹیکنالوجی اچانک حوثیوں کے پاس کہاں سے آ گئی؟ حوثیوں کے پیچھے کسی نہ کسی کا ہاتھ ضرور ہے ایسی رپورٹس بھی سامنے آ چکی ہیں کہ حوثیوں کیساتھ امریکی وفد کے خفیہ مذاکرات ہوئے۔ حیرت ہے کہ حوثی اسرائیل پر حملے نہیں کر رہے جبکہ اس نے فلسطین کے نہتے لوگوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ ایسی بھی اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ حوثی امریکا اور اسرائیل کے مفادات کو نقصان نہیں پہنچائیں گے اور اس کے بدلے امریکا حوثیوں پر حملے نہیں کرے گا۔
سعودی عرب پر حملے عالم اسلام کیلئے ایک چیلنج ہیں، عالم اسلام میں یہ سوچ پختہ ہوتی نظر آرہی ہے کہ بدترین دشمن کی پشت پناہی حاصل کرنیوالا بدترین دشمن ہی کی صف میں شمار ہوتا ہے۔ پاکستان سعودی عرب ترکیہ کیساتھ ایک مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہے سعودی عرب پر حملے بند نہ ہوئے تو پاکستان اور ترکیہ دونوں کیلئے خاموش بیٹھے رہنا ممکن نہیں رہے گا۔مکہ دفاعی معاہدے میں واضح کیا گیا ہے کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک پر ہونیوالے حملے کو باقی دو ممالک اپنے خلاف حملہ تصور کریں گے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس معاہدے کا بنیادی مقصد باہمی دفاع اور سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ معاہدہ صرف اپنے دفاع کیلئےہے تینوں اسلامی ممالک کی قیادت اس تاریخی دفاعی اتحاد کی حساسیت سے بخوبی آگاہ ہے ،مکہ معاہدہ آگے چل کر ایک مضبوط مسلم دفاعی تعاون کے پلیٹ فارم کی شکل اختیار کر سکتا ہے جسے خطے میں مسلم دفاعی بلاک سے تعبیر کیا جا سکے گا۔ خطے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا ایک مشترکہ دفاعی فریم ورک کے تحت آنا مسلم دنیا کے درمیان تعاون کو نئی سمت دے سکتا ہے۔۔ مکہ معاہدہ خطے کے امن و سلامتی کی ضمانت بننے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جبکہ مسلم دنیا کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر متحد ہونا خطے میں طاقت کے توازن اور اجتماعی سلامتی کے لیے بھی اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔