سعودی عرب ہر سال 23؍ستمبر کو اپنا قومی دن مناتا ہےگزشتہ دنوں بھی یہ دن منایا گیا۔ یہ دن سعودی ریاست کے قیام، اتحاد اور استحکام کی اس تاریخ کی یاد دلاتا ہے جب 1932ء میں شاہ عبدالعزیز آل سعود رحمہ اللہ نے مختلف علاقوں اور قبائل کو یکجا کرکے مملکت سعودی عرب کی بنیاد رکھی۔ ایک منتشر جغرافیے کو ایک متحد ریاست میں تبدیل کرنا یقیناً ایک بڑا تاریخی کارنامہ تھا، جسکے اثرات آج بھی سعودی عرب کی سیاسی، معاشی اور سماجی زندگی میں نمایاں ہیں۔گزشتہ کئی دہائیوں میں سعودی عرب نے ترقی اور جدیدیت کے میدان میں غیر معمولی پیش رفت کی ہے۔
قدرتی وسائل خصوصاً تیل نے ملکی معیشت کو مضبوط بنیاد فراہم کی، لیکن سعودی عرب کی اہمیت صرف اس کی اقتصادی قوت تک محدود نہیں۔ اس ملک کو دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں جو منفرد مقام حاصل ہے، اس کی بنیادی وجہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی موجودگی ہے۔ یہی روحانی نسبت سعودی عرب کو دیگر ممالک سے ممتاز کرتی ہے۔مکہ مکرمہ وہ مقدس شہر ہے جس کی طرف دنیا بھر کے مسلمان نماز کے وقت رخ کرتے ہیں۔ خانہ کعبہ مسلمانوں کی وحدت کی سب سے بڑی علامت ہے اور ہر سال دنیا کے مختلف حصوں سے لاکھوں مسلمان حج اور عمرہ کی ادائیگی کیلئے یہاں پہنچتے ہیں۔ مدینہ منورہ وہ مقدس شہر ہے جہاں رسول اکرم ﷺ نے اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی اور جہاں مسجد نبوی ﷺ موجود ہے۔ روضۂ رسول ﷺ اور مدینہ منورہ سے وابستہ اسلامی تاریخ مسلمانوں کیلئے بے مثال عقیدت اور محبت کا سرچشمہ ہے۔
اسی وجہ سے پاکستان اور سعودی عرب کا تعلق صرف سفارتی تعلقات یا حکومتی روابط کا نام نہیں۔پاکستانی قوم کے سعودی عرب سے رشتے میںمذہبی عقیدت،اسلامی اخوت، تاریخی قربت اور عوامی محبت سب شامل ہیں۔ پاکستان کے قیام کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مسلسل مضبوط ہوتے گئے۔ سعودی عرب نے پاکستان کو ایک برادر ملک کے طور پر ہمیشہ اہمیت دی، جبکہ پاکستانی عوام نے بھی سعودی عرب کو اپنے مذہبی جذبات اور اسلامی وابستگی کا ایک اہم مرکز سمجھا۔ہر سال بڑی تعداد میں پاکستانی شہری حج اور عمرہ کی سعادت کیلئے سعودی عرب جاتے ہیں، جبکہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی تارکین وطن دونوں ممالک کے معاشی تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی ایک اہم بنیاد دفاعی تعاون بھی ہے۔
خطے میں جب بھی سعودی عرب کو کسی مشکل صورتحال کا سامنا ہوا، پاکستان نے اپنی صلاحیت کے مطابق تعاون کا مظاہرہ کیا۔ اسی طرح سعودی عرب نے بھی مختلف مشکل ادوار میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا عملی ثبوت دیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تربیت، فوجی مشقوں، دفاعی تعاون اور سیکیورٹی کے شعبوں میں طویل عرصے سے روابط موجود ہیں۔
1998ء میں پاکستان کے ایٹمی تجربات کے بعد عالمی پابندیوں کے باعث پیدا ہونے والی معاشی مشکلات کے دوران سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے ساتھ تعاون بھی دونوں ممالک کی دوستی کی ایک نمایاں مثال ہے۔ اسی طرح پاکستانی فوجی اہلکاروں کی سعودی عرب میں موجودگی اور تربیتی تعاون نے دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنیاد فراہم کی۔آج دنیا کا سیاسی اور سلامتی کا منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، دہشت گردی، ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی کا پھیلاؤ، بحیرہ احمر کی حساس صورتحال اور عالمی طاقتوں کی نئی صف بندی نے مسلم ممالک کیلئے بھی اپنے دفاعی اور سفارتی تعاون کو نئے انداز میں منظم کرنے کی ضرورت پیدا کردی ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات ایک نئی سطح پر پہنچے ہیں۔17 ستمبر 2025ء کو پاکستان اور سعودی عرب نے اسٹرٹیجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید منظم اور مضبوط بنانا اور کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ بازدار صلاحیت کو تقویت دینا ہے۔ معاہدے میں واضح کیا گیا کہ کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائیگا۔
اس سلسلے میں اگست 2026ء میں مکہ مکرمہ میں ہونے والی ایک اور اہم پیش رفت نے اسلامی دنیا کی توجہ حاصل کی۔ 7 اگست 2026ء کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان اجتماعی دفاع، دفاعی تعاون اور بیرونی جارحیت کے خلاف مشترکہ بازدار صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے کے مطابق تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائیگا۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مکہ معاہدے کی سرکاری وضاحت کے مطابق اس کا بنیادی مزاج دفاعی ہے اور اسے کسی ملک کے خلاف جارحانہ اقدام کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ اس کا مقصد بیرونی جارحیت کے خلاف اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کرنا اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔آج جب دنیا میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہورہا ہے، مسلم ممالک کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو کم کرکے مشترکہ مفادات کیلئے تعاون کے نئے راستے تلاش کریں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک شراکت داری اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ اس تعاون کا مقصد کسی نئی کشیدگی کو جنم دینا نہیں بلکہ اپنی سلامتی کو مضبوط بناتے ہوئے امن کیلئے بہتر ماحول پیدا کرنا ہے۔
اسی مناسبت سے سعودی عرب کا قومی دن پاکستان کیلئے بھی خوشی اور عقیدت کا موقع ہے۔ پاکستانی قوم سعودی عوام کی ترقی، خوشحالی اور سلامتی کیلئے دعا گو ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے وابستہ ہماری روحانی نسبت دونوں ممالک کے تعلق کو ایک ایسی گہرائی عطا کرتی ہے جسے محض سفارتی زبان میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات وقت کے ساتھ مسلسل نئے مراحل میں داخل ہورہے ہیں۔ گزشتہ برس کا اسٹرٹیجک باہمی دفاعی معاہدہ اور رواں برس مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ اس بات کی علامت ہیں کہ دونوں ممالک اپنے تعلقات کو محض روایتی دوستی تک محدود نہیں رکھنا چاہتے بلکہ انہیں ایک مضبوط، منظم اور مستقبل پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کررہے ہیں۔