• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا کا مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں سے برطانیہ کو نئے ماڈلز کی فراہمی روکنے کا مطالبہ

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

وائٹ ہاؤس نے مصنوعی ذہانت ماڈلز تیار کرنے والی کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے نئے اور جدید ترین ماڈلز برطانوی حکومتی ادارے کو فراہم کرنے سے قبل امریکی حکومت سے ان ماڈلز کی سیکیورٹی جانچ مکمل کروائیں۔

مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں سے یہ درخواست امریکی نیشنل سائبر ڈائریکٹر کے دفتر کی جانب سے کی گئی ہے۔

دی نیوز انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام کے نتیجے میں اوپن اے آئی اور اینتھروپک کو امریکی حکومت کی جانچ اور برطانیہ کے مصنوعی ذہانت کے سیکیورٹی ادارے کو ابتدائی رسائی دینے کے درمیان انتخاب کرنا پڑ سکتا ہے۔

برطانیہ کا یہ ادارہ جدید مصنوعی ذہانت ماڈلز کی آزادانہ سیکیورٹی جانچ کرنے والے اہم حکومتی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ جدید مصنوعی ذہانت کے نئے ماڈلز کو دوسرے ممالک کے ساتھ شیئر کرنے سے پہلے امریکی نظام کی سیکیورٹی یقینی بنانا ضروری ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بعض مصنوعی ذہانت کے نظام جانچ کے دوران حقیقی کمپیوٹر کے نظام تک غیر مجاز رسائی حاصل کر چکے ہیں، حال ہی میں ایک مصنوعی ذہانت کے نظام نے آسٹریلیا کے ایک سرکاری صحت کے اعداد و شمار کے نظام تک بھی غیر مجاز رسائی حاصل کی تھی۔

امریکی کانگریس اور وائٹ ہاؤس مصنوعی ذہانت کے معیارات اور جدت کے مرکز کے لیے مزید وسائل کی حمایت کر رہے ہیں تاہم اس ادارے کے پاس جدید ماڈلز کی جانچ کے لیے صرف چند درجن تکنیکی ماہرین ہیں اور مستقل سربراہ بھی موجود نہیں۔

ادھر اوپن اے آئی اور اینتھروپک نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھی خبردار کیا ہے کہ طاقتور مصنوعی ذہانت کے متعدد نظام سائبر سیکیورٹی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں لہٰذا ممالک کو ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال اور نگرانی کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
سائنس و ٹیکنالوجی سے مزید