• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اس سال یوم قائداعظم کے موقع پر تہران کی سڑکیں ایک خوبصورت پوسٹر سے مزین کی گئیں جسے فارسی میں بل بورڈ کہا جاتا ہے۔ اس پوسٹر پر قائداعظم کی خوب صورت شبیہ کے عقب میں مینار پاکستان اور مزار قائد کی تصاویر اور پاکستان اور ایران کے پرچم دکھائے گئے، پاکستان کی سرسبزی اورشادابی کی رعایت سے پوسٹر میںسبزرنگ اور لہلہاتی فصلوں کا غلبہ دکھایاگیا اورپورے پوسٹر کو پاکستان کے پرانے کرنسی نوٹوں کی وضع پر ڈیزائن کیاگیااس پوسٹر کی سب سے اہم بات اس پر درج قائداعظم کے ایک ارشاد کا وہ اقتباس تھا جو اس پرفارسی اور اردوزبانوں میں درج کیا گیا ’’پاکستان اسرائیل کوایک ناجائزریاست سمجھتاہے جوکہ عرب دنیاکے قلب میں ایک زبردستی ٹھونسا گیا نوآبادیاتی نیزہ ہے‘‘ یہ محض ایک اقتباس نہیں بلکہ اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کے موقف کا اظہار اور اسکی پالیسی کا اعلان ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا پاسپورٹ دنیاکے تمام ممالک کیلئے کارآمد ہے لیکن اس پر واضح طور پریہ لکھاجاتاہے کہ یہ پاسپورٹ اسرائیل کیلئے کارآمد نہیں ہے۔ اسرائیل کے بارے میں پاکستان کی یہ دوٹوک پالیسی پاکستان اور ایران کو ایک دوسرے کے مزیدقریب لے آتی ہے دورحاضر میں ایران وہ ملک ہے جس نے فلسطینی حریت پسندوں کی غیرمتزلزل حمایت اور اعانت کی ہے اور اسکی قیمت کے طورپر اپنی لیڈر شپ سے لے کر نہایت قیمتی قومی املاک کے نقصان تک گواراکیے ہیں۔

ایران میں تعطیلات کے بعد ایرانی تقویم کے مطابق یکم شہریورکو تعلیمی ادارے کھل گئے ۔ہم نے اس موقع پر شہرکی مختلف سڑکوں اور علاقوں کادورہ کرکے دیکھا تو یوں لگاجیسے جنگ کے بعد زندگی کی بہاریں لوٹ آئی ہوں، پھولوں جیسے بچوں کیلئے انکے اسکولوں کے دروازے کھل گئے اس واپسی پر بچے بھی بہت خوش تھے۔ ٹیلیویژن پر طویل چھٹیاں گزار کر اسکولوں میں آنیوالے بچوں کے انٹرویو دکھائے جارہے تھے، جن میں وہ بچے اپنے قومی مسائل سے آگاہ اور ایرانی قوم کی سربلندی کے جذبے سے سرشار دکھائی دے رہے تھے۔ اس موقع پر اسکولوں کو بھی بہت اہتمام سے سجایاگیا۔تہران میں ہماری رہائشگاہ کے قریب واقع ایک اسکول میں یوں لگ رہاتھا جیسے جشن کا سماں ہو،آرائش وزیبائش میں تو ایرانیوں کا ذوق ویسے ہی لاجواب ہے، بچوں اور بچیوں کے اسکولوں میں تو نوخیزکلیوں جیسے بچوں کے آجانے سے ویسے ہی بہار آجاتی ہے اس پر مستزاد ایرانی ذوق کے مطابق آرائش وزیبائش کا اہتمام بھی تھا،جو ہم نے دیکھا، یوں لگ رہاتھاجیسے کوئی نہایت اہم تقریب ہونے جارہی ہے یاکوئی جشن منایا جا رہا ہے۔ تعلیمی اداروں میں تدریسی سلسلوں کی بحالی سے بڑھ کر تقریب اور کیا ہوسکتی ہے لیکن مین اب اسکول کے بچوں کی یاد نے اسے افسردگی کا دن بھی بنادیا۔ مین اب اسکول کے ایک بچے نے امریکی اسکولوں کے بچوں کے نام ایک دردناک اور فکرانگیز خط لکھ کر یہ سوال اٹھایا کہ کیا تعلیمی اداروں کو محفوظ جگہ نہیں ہوناچاہیے ؟۔ یکم شہریورکا دن صرف اس اعتبارہی سے یادگارنہیں ہوگیاکہ اس روز ایران میں تعلیمی ادارے کھل گئے اور سڑکیں ٹریفک کے ہجوم سے بھرگئیں بلکہ اس اعتبارسے بھی یادگار قرارپایاکہ اس روز ایرانی صدرڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کیا ۔یہ ایک تاریخی خطاب تھا جسکا ملک بھرمیں استقبال کیاگیا، صدرپزشکیان کا خطاب ایک زندہ اوربیدارقوم کے راہ نماکا خطاب تھاجس کے اعتمادکا پہلا اظہار تو اس خطاب کی زبان ہی سے ہورہاتھا کہ انھوں نے عالمی راہ نمائوں سے خطاب کیلئے کسی غیرملکی زبان کا سہارالینے کے بجائے اپنی زبان یعنی فارسی کو اختیار کیا۔ جس طرح کوئی بھی شخص خواب ہمیشہ اپنی زبان میں دیکھتاہے اسی طرح غیرملکی زبان میں جس قدر بھی مہارت ہو، جذبات واحساسات کے سچے اظہار کیلئے اپنی زبان سے بڑھ کرکوئی زبان ممدو معاون نہیں ہوسکتی اور یہ بات ایرانی صدرکے خطاب کے ایک ایک جملے سے واضح ہورہی تھی۔ وہ جب اپنی لیڈر شپ, سائنس دانوں, عوام اور بچوں کو شہیدکیے جانے ،مین اب اسکول کے معصوم بچوں اور لامرد کے جمنازیم میں کھیلنے میں مشغول بچوں پر کلسٹر بموں کے برسائے جانے کا ذکر کر رہے تھے تو انکے جذبات انکے الفاظ اور ان کے لہجے سے پوری طرح عیاں تھے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکاسی ویں اجلاس کا موضوع’’ اعتمادکی بحالی‘‘ قرار دیا گیا تھا۔ ایرانی صدرنے اس موضوع کی جانب عالمی راہنمائوں کی توجہ مبذول کرواتے ہوئے بجا طور پر کہا کہ اعتماد صرف باتوں سے قائم نہیں ہوتا۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ ہم دوہرے معیار سے گریز کریں۔ایک جانب غزہ میں سترہزار نفوس کو قتل کرنے کی طاقت تھی اور دوسری جانب مذاکرات کی میز پر بیٹھا ہوا ایران اسکو تو مذاکرات کی میزپر بیٹھے ہوئے بمباری کا نشانہ بنایاگیا۔ یہ کونسا انصاف ہے؟ ایرانی صدر نے عالمی ضمیر کو جھنجوڑتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کے نفاذمیں طاقتور اور کمزور کیلئے الگ معیاروں پر تنقیدکی۔ ان کا کہنا تھاکہ اگر اپنی حفاظت کیلئے صرف طاقت ہی کو معیار بنا لیا گیا تو اس طرح ہم سب ایک زیادہ خطرناک دنیا کی شروعات کرنیوالے ہونگے۔ انکی تقریرکا ’بیت الغزل‘ کہلانے والاحصہ وہ تھا جس میں انہوں نے دنیا بھر کے سنجیدہ عناصر کی جانب روئے سخن کیا انکا کہناتھا ’’ہمیں اکیسویں صدی میں طاقت کی سیاست اور طاقتور حکمرانوں کی بالادستی کی طرف واپسی کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ ہمیں ایسی دنیا تعمیر نہیں کرنی چاہئے جس میں فوجی طاقت، قانونی حیثیت کی جگہ لے لے، پابندیاں سفارت کاری کی جگہ لے لیں، ٹارگٹ کلنگ سیاست کی جگہ لے لے اور جنگ مکالمے کی جگہ لے لے۔‘‘ صدرپزشکیان نے اس بات پر زور دیا کہ ’’ہم ایک ایسے مستقبل کی تعمیر کے خواہاں ہیں جس میں سلامتی، انصاف اور انسانی وقار تمام اقوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق ہوں۔ ایک ایسا مستقبل جس میں کسی قوم کو پسماندہ نہ رکھا جائے، طاقت کے شور و غل میں کسی کی آواز دبائی نہ جائے، اور کسی بھی طاقت کو یہ حق حاصل نہ ہو کہ وہ دوسروں کے مستقبل کا فیصلہ کرے۔ایک ایسا نظام جو بین الاقوامی کہلانے کا مستحق ہو، اسے اقوام کی برابری، انصاف، مساوات اور انسانیت کے اجتماعی عزم پر مبنی ہونا چاہئے۔ کیونکہ جو امن سب کیلئے نہ ہو وہ امن نہیں، اور جو انصاف سب تک نہ پہنچے وہ انصاف نہیں ہے۔

تازہ ترین