تاریخِ عالم کے وسیع و عریض سمندر میں اُترتے ہوئے محسوس ہوا کہ تاریخ بیان کرنے کا کام مؤرخ کا ہے۔ اس سمندر میں مچھلیاں پکڑنا شاید زیادہ مشکل نہیں لیکن یہ جاننا کہ جو مچھلی پکڑی گئی ہے، اُس کے مضرّات کیا ہیں اور وہ طبّی و طبعی طور پر کتنی مفید اور کتنی مضر ہے؟ اس تحقیق کا بوجھ ہم اپنے کندھوں پر اُٹھانے کی سکت نہیں رکھتے لیکن تاریخ کے آسمان سے جو بجلیاں گرتی اور تارے ٹوٹتے ہیں، عالمِ اسلام پر اُن کے گہرے اثرات مرتّب ہو رہے ہیں۔
حسّاس ہونا بھی ایک وبال ہے۔ ہماری تاریخ کے پچھلے صرف ایک سو سال اس قدر المیوں سے بَھرے ہوئے ہیں کہ ان میں سے صرف عثمانی خلافت کے سقوط کے المیے ہی کو یاد کریں، تو دِل مسوس کر رہ جاتا ہے، دماغ چٹختا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
مرحوم شاعر، شاہ دین ہمایوں نےگرچہ یہ پکار شعرائے قوم کے لیے بلند کی تھی، لیکن موقع و محل کے اعتبار سے اس میں اتنی وسعت ہے کہ یہ قوم کے ہر طبقے کے لیے بلند ہونے والی صدا لگتی ہے؎ اُٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی… دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا… اِک تم کہ جم گئے ہو جمادات کی طرح… اِک وہ کہ گویا تیر کمان سےنکل گیا۔
ایک طرف جمودہی جمود تھااوردوسری طرف حرکت ہی حرکت۔ دُنیا کے تین برّاعظموں پر اپنی فتح و کام رانی کے پرچم لہرانے والی عثمانی سلطنت پر تعطّل اور ضُعف طاری تھا۔ پہلی عالمی جنگ کے بادل گھٹائیں بن کر چھا رہے تھے۔ دُشمن جدید ترین اسلحے سے لیس ہو رہے تھے، جب کہ عثمانی سلطنت کی روایت پسندی کا یہ حال تھا کہ بحری جہاز کو سمندر میں اُتارنے کی تقریب میں بخاری شریف کا ختم کروایا جاتا تھا، جس پر کسی سیکیولر شخص نے یہ طنز کیا کہ ’’بحری جہاز بخاری سے نہیں بلکہ ’’بخار‘‘ یعنی بھاپ (اسٹیم انجن)سے چلتے ہیں۔‘‘
انیسویں صدی کے وسط میں فرانس اور برطانیہ وغیرہ عثمانی سلطنت کے خلاف جنگی تیاریوں میں مصروف تھے اور تُرک خلفاء انہی سے بھاری سُود پر کروڑوں کے حساب سے قرض لے رہے تھے۔ سلطان عبدالمجید اوّل نے 1843ء سے لے کر 1856ء تک کے عرصے میں اپنا شان دار محل تعمیر کروایا، جس پر 35 ٹن سونے کے سکّے یا5 ارب لیرا خرچ آیا تھا، جو3 بلین ڈالرز کے برابر تھے۔
اس محل کا نقشہ کار اور معمار امریکا سے طلب کیا گیا تھا اور یہ محل اب بھی ایک عجوبے کی صُورت موجود ہے۔ اسی طرح تُرک شہزادے اور شہزادیاں غیر مُلکی قرض کی رقم کو اپنے عیش وعشرت پر اُڑا رہے تھے اور یہ سب کچھ ان حالات میں ہو رہا تھا کہ جب جنگ کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔ بیرونی قرضوں کا یہ حال تھا کہ ان کی ادائی کے لیے سُود پر مزید قرض لیے جا رہے تھے اور معاشی حالت دِگرگوں ہونے کی وجہ سے تُرک سلطنت جنگ کی مناسب تیاری کرنے کے قابل نہیں تھی۔
یہ دُرست ہے کہ عثمانی تُرک کم و بیش چار سو سال سے جہاد اور دفاعِ اُمّت میں مشغول تھے، لیکن اس عرصے میں انہوں نے علوم وفنون اور تہذیب و ثقافت کے کوئی بڑے نمونے پیش نہیں کیے۔ تعمیرات کے شعبے میں بلاشُبہ بہت اعلیٰ مثالیں قائم کیں۔ دینی مدارس کے بھی جال بچھا دیے۔ شان دار کُتب خانوں کی روایت بھی تُرک حکومت اور وزراء نے قائم کی، لیکن سائنسی تعلیم پر بہت کم توجّہ دی گئی۔ یہاں دِل چسپ بات یہ ہے کہ سلطنتِ عثمانیہ میں برطانیہ اور امریکا نے ایسی جامعات قائم کیں کہ جو جدید مغربی افکار و نظریات پھیلا رہی تھیں۔
تُرک اور عرب قوم پرستی کے بُت انہی جامعات میں تراشے گئے، جب کہ تُرکوں پر جدید تعلیم کے علاوہ معاشی، تیکنیکی و تحقیقی جمود بھی طاری تھا۔ دُنیا کی باقی بڑی طاقتیں بحری تجارت و طاقت کے لحاظ سے بامِ عروج پر پہنچ رہی تھیں، جب کہ تُرک بارودی توپوں میں اُلجھے ہوئے تھے۔ جب تُرکی میں نیلی مسجد، ہندوستان میں تاج محل اور ایران میں میدانِ نقشِ جہاں (اصفہان) تعمیر ہو رہے تھے، تو یورپ اور امریکا میں اعلیٰ اور جدید تعلیمی اداروں کی بنیادیں رکھی جارہی تھیں۔
اس دوران ایران کی صفوی سلطنت کو برطانیہ نے عثمانی خلافت کے مقابلے میں ایک حریف کے طور پر لا کھڑا کیا تھا۔ چوں کہ صفوی سلطان کی ساری توجّہ علویت یا شیعیت کے فروغ پرتھی، تو اس مسلکی رقابت کے باعث سلطان عبدالحمید ثانی کےعہد میں تعلیم کے شُعبے میں زیادہ توجّہ حنفی مکتبِ فکر کے اداروں کے فروغ پر مرکوز رہی۔
رومن کیتھولک مِشنز اسلامی دُنیا میں تقریباً چار سو سال ( 1570عیسوی) سے سرگرم تھے۔ اُن کی توجّہ تعلیمی ادراروں اور اسپتالوں کےقیام پر تھی۔ ہر صُبح اسکولوں اور اسپتالوں میں سب سے پہلے بائبل کا درس دیا اور عیسائی لٹریچر تقسیم کیا جاتا تھا۔ ہم اپنے مضامین میں پہلے بھی ذکر کر چُکے ہیں کہ پروٹسٹنٹ عقیدہ اصل میں یہودی منصوبہ سازوں نے وضع کیا تھا اور پروٹسٹنٹ مِشنز نے رومن کیتھولک عیسائیت کے مقابلے میں تعلیم ہی کو تبلیغ کا پہلا ذریعہ بنایا۔
اس ضمن میں ’’دی امریکن بورڈ آف کمشنرز فار مِشنز‘‘ کا کردار قابلِ ذکر ہے۔ چوں کہ وہ کالجز کا زمانہ تھا، تو پروٹسٹنٹ مِشنز اسی میدان میں متحرک ہوئے اور امریکا سے باہر پہلا امریکی ادارہ، ’’رابرٹ کالج‘‘ استنبول میں 1863ء میں قائم کیا۔ اس سے قبل کچھ جدید ٹیکنیکل کالجز سرکاری طور پر تعمیر کیےجا چُکے تھے اور انہی مقاصد کے تحت ’’امریکن یونی ورسٹی، شام‘‘ کی بنیاد رکھی گئی، جو بعدازاں ’’امریکن یونی ورسٹی، بیروت‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی اورآج بھی قائم ہے۔
عثمانی سلطنت نے رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ مِشنز پر سوائے مذہب تبدیل کروانے کے اور کوئی بڑی پابندی عائد نہیں کی تھی۔ اس دوران عثمانی سلطنت پر فرانس کے اثرات کی وجہ یہ تھی کہ سولھویں صدی میں سلطان سلیم اور فرانسیسی بادشاہ، فرانسس کےدَورمیں دونوں ممالک میں ایک معاہدہ ہوا تھا اور اس بناء پر تُرکوں پر برطانیہ کے مقابلے میں فرانس کے اثرات غالب تھے لیکن فرانس نے یہاں کوئی مذہبی مِشنز متعین نہیں کیے تھے اور یہ کام برطانوی اور اس کے بعد امریکی پروٹسٹنٹ حلقوں نے کیے۔
یاد رہے، قومیں صرف اسلحے، ہتھیاروں سے تسخیر نہیں ہوتیں۔ تعلیم و تعلّم، عقائد، نظریات و افکار ان کو پہلے فتح کرتے ہیں اور فوج بعد میں آتی اور اپنا تسلّط قائم کرتی ہے۔ عثمانی خلافت مغرب کی استبدادی قوّتوں کی نظر میں کانٹے کی طرح کھٹکتی تھی، جب کہ سلطنتِ عثمانیہ فقط ’’اللہ ہُو،اللہ ہُو‘‘ میں مشغول رہی۔
وہ مغربی فکری اور نظریاتی یلغار کا ادراک کر سکی اور نہ ہی اس کے آگے کوئی بند باندھ سکی۔ انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے ابتدائی دو تین عشروں تک عثمانی سلطنت میں مغربی استعماری قوّتوں نے چار سو سے چھے سو پچھتّر تک کی تعداد میں تو صرف The American Board of Commissioners for Foreign Missions کے زیرِ اہتمام تعلیمی ادارے قائم کیے تھے، جب کہ کم و بیش دس اعلیٰ و جدید اور سیکیولر تعلیمی ادارے مختلف یورپی ممالک کے زیرِاہتمام عثمانی خلافت میں قائم کیے گئے تھے۔
یہ ادارے مذہب (خاص طور پر اسلام) کے خلاف ذہن سازی اور تُرک خلافت کے بارے میں شکوک اور بے چینی پھیلاتے تھے۔ ان اداروں نے نئی تُرک نسل میں عرب اور تُرک قوم پرستی کے بیج بوئے، اسلام کے بطورِ عقیدہ و نظامِ حیات ہونے سے متعلق شکوک و شُبہات پھیلائے اور تُرک سلاطین کی کردارکُشی کی۔ تب سلطنتِ عثمانیہ میں تعلیم کی عام تعریف وہی تھی، جو ہمارے ہاں بھی رائج ہے۔
یعنی دینی مدارس کی تعلیم، جس میں ذہنوں کو جِلا ملتی، نہ فکر کو بلندی نصیب ہوتی اور نہ ہی تحقیق و تجسّس کی کوئی تحریک پیدا ہوتی تھی۔ علماء قانون کےمعلّم بھی تھے اور جج کے منصب پر بھی فائز ہوتے تھے، لیکن مغربی نظامِ عدل سے موازنہ تو درکنار، خود اپنے چاروں فقہی مکاتبِ فکر پر علمی عبور کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے تھے۔
اس عرصے میں ممتاز اسکالر، احمد جودت پاشا ایک ہمہ جہتی شخصیت بن کر اُبھرے اوربہت سےسرکاری عُہدوں پرفائز رہے، لیکن وہ خلافتِ عثمانیہ کے تعلیمی نظام کی پیداوار نہیں تھے۔ وہ 1822ء میں عثمانی سلطنت میں شامل، بلغاریہ کے شہر، لوفجہ میں پیدا ہوئے تھے اور ابتدائی و ثانوی تعلیم انہوں نے وہیں سےحاصل کی تھی۔
یورپی اقوام، جرمنی، فرانس اور برطانیہ سے عثمانی سلطنت کا تعامل و تعلق سلطان عبدالحمید ثانی کے دَورِ خلافت میں قائم ہوا تھا۔ گرچہ انہوں نےبیرونِ مُلک موجود اپنےسفارتی اور مذاکراتی نمائندوں کو کوٹ، پتلون پہننے کا حُکم دے دیا تھا، لیکن سَر پر وہی سُرخ گول ٹوپی پہنی جاتی، جو عثمانی سلطنت کی علامت تھی۔ ان اقوام خاص طور پر برطانیہ اور امریکا کے عیسائی مِشنز نے، جو تعلیمی ادارے قائم کیے تھے، اُن کا اصل ہدف نظامِ خلافت کے خلاف ذہن سازی تھا اور خلیفہ کی ذات بھی معاندانہ فکری یلغار کا ہدف تھی۔
تُرک خلافت ان مِشنری اداروں اور ان کے سرپرستوں کے عزائم اچّھی طرح سمجھتی تھی اور تُرکی کے مقتدر ادارے بھی اچّھی طرح جانتے تھے کہ رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ عقیدے کے حامل مِشنری ادارے اور ان کے زیرِ اہتمام اسکولز، کالجز اور جامعات عثمانی سلطنت اور اسلام کے خلاف سوچ اور جذبات اُبھارتے ہیں۔
یہ مِشنز اور ادارے آرمینیا، یونان اورعرب باشندوں میں قوم پرستی اور تُرک خلافت کے خلاف نفرت انگیز مُہم چلا رہے تھے، لیکن ان اقوام، مِشنز اور تعلیمی اداروں نے تُرک انتظامیہ سے قانونی تحفّظ اور تحمّل کی یقین دہانی حاصل کر رکھی تھی اور تُرک خلافت تحفّظ کی ان ضمانتوں کی خلاف ورزی نہیں کرنا چاہتی تھی، البتہ اُن کے اثرات کو’’کاؤنٹر‘‘ کرنے کے لیے خلافتِ عثمانیہ نے اپنے فرسودہ تعلیمی نظام میں اصلاحات لا کر جدید طرز کے تعلیمی ادارے قائم کرنا شروع کر دیے تھے۔
گرچہ سلطان عبدالحمید ثانی کے عہد میں ثانوی اور اعلیٰ ثانوی درجات تک غیر مذہبی مزاج کے جدید تعلیمی ادارے قائم کرنا شروع کر دیے گئے تھے، لیکن ان اداروں میں تعلیم و تدریس کے لیے تُرکی کے پاس اساتذہ موجود نہیں تھے، چناں چہ سائنس، ریاضی، جدید طِب اور تیکنیکی مضامین کے لیے اساتذہ یا تو یورپ سے لائے جاتےیا عیسائی مِشنری اداروں سے لیے جاتے تھے۔
یہ اساتذہ جدید تعلیمی اداروں میں تُرک طلبہ کے اندر خلافتِ عثمانیہ اور سلطان عبدالحمید ثانی کے خلاف منافرت پھیلاتے تھے۔ اس سے بھی بڑا المیہ یہ تھا کہ تُرکی کے سرکاری اسکولز اور کالجز کے اساتذہ بھی اپنے مُلک کی شان دار تاریخ سے بہت کم آگہی رکھتے تھے۔ یعنی جدید تُرک تعلیمی ادارے بھی اتنے ہی سیکولر تھے، جتنا کہ عیسائی مِشنری تعلیمی ادارے۔
واضح رہے کہ ’’Young Turks‘‘ نامی تنظیم میں، جس نے تُرک خلافت کا خاتمہ کیا، شامل زیادہ تر نوجوان اپنے مُلک کے اِسی تعلیمی نظام کی پیداوار تھے۔ دوسری جانب دینی مدارس کے اساتذہ کو گرچہ حالات سے کچھ آگہی تھی بھی، تو ان کے لیے سیاست پر بات کرنا ممنوع تھا۔ بعد ازاں، سلطان عبدالحمید ثانی نے کچھ تعلیمی اصلاحات کیں اور جدید تعلیمی اداروں، مِشنری اسکولز اور کالجز کے لیے سخت قواعد و ضوابط نافذ کیے، لیکن اس وقت تک تُرک خلافت کے خلاف اندر ہی اندر ایک فکری انقلاب برپا ہو چُکا تھا۔
اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں امریکا ایک بڑی عسکری و معاشی قوّت بن چُکا تھا۔ عیسائیت کی شکل بگاڑ کر یہودیوں نے جو نئی ’’پروٹسٹنٹ عیسائیت‘‘ کھڑی کی تھی، اس کے بہت سے عقائد یہودی عقیدے کے مماثل تھے اور اس عقیدے کے حامل عیسائی مِشنز سلطنتِ عثمانیہ اور ہندوستان میں بڑی آزادی اور بےباکی سے سرگرم تھے۔ ان کے دو اہداف تھے۔ مسلمانوں کو عیسائی بنانا اور مسلمان نوجوان نسل کو اخلاقی طور پر اتنا بگاڑنا کہ ان کی اسلامی پہچان ہی ختم ہوجائے۔
عیسائی مِشنز ایسی کتابیں لکھتے اور پھیلاتے تھے، جن میں اسلام اور پیغمبرِ اسلامؐ کی کُھلی توہین (نعوذباللہ) کی جاتی تھی۔ اس ضمن میں ایک پروٹسٹنٹ عیسائی، کارٹ گوبلیٹ نے ’’میزان الحق‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی، جو وسیع پیمانے پرمُفت تقسیم کی گئی۔ اس کتاب میں اسلام اور رسولِ اکرم ﷺ کی شان میں سخت توہین آمیز مواد موجود تھا۔ اسی طرح ایک عیسائی پادری، جوہانیس اویٹرانین اورکارل ہینرچ کوئیلے نے تُرک زبان میں ایک کتاب لکھی، جس میں اسلامی عقائد اور پیغمبرِ اسلام ﷺ کی اہانت (نعوذباللہ) پر مشتمل زہریلا مواد موجود تھا۔
اُس وقت تک خلافتِ عثمانیہ میں اسلام اور رسول اکرم ﷺ کے بارے میں توہین آمیز کُتب کی اشاعت پر پابندی کا کوئی قانون نہیں تھا۔ نتیجتاً، جب مذکورہ بالا اور دیگرعیسائی لٹریچر کا سیلاب آ گیا، تو تُرک حکومت نے دفاعِ اسلام کے لیے بعد ازخرابیِ بسیار اقدام کیا اور اسلام اور سیّدُ المرسلین حضرت محمّد ﷺ کی توہین پر مبنی کُتب کی اشاعت اور تقسیم پر پابندی لگادی۔ تب تُرک مسلم اسکالرز بھی اس طرف متوجّہ ہوئے۔
ان میں اسحاق ہرتولی خواجہ (اسحاق آفندی ہرتولی) بطورِ خاص قابلِ ذکر ہیں، جنہوں نے ’’میزان الحق‘‘ کے جواب میں’’ The Sun of Truth ‘‘ نامی کتاب لکھی اور اسلام کی حقیقت اور سید الانبیاء ﷺ کے خلاف پروٹسٹنٹ مشن کے پھیلائے ہوئے لٹریچر کا مؤثر انداز میں تدارک کرنے کی کوشش کی۔
اٹھارھویں صدی عیسوی کے وسط میں سلطنتِ عثمانیہ میں رومن کیتھولک عیسائی مِشنز نے متعدد ادارے قائم کر لیے تھے۔ اُن کے دیکھا دیکھی پروٹسٹنٹ عقیدے کے عیسائیوں نے تعلیم کو اپنا میدان بنایا اور کوہستانِ لبنان کو مرکز بنا کر شان دار تعلیمی اداروں کی بنیادیں رکھیں۔ ایک عیسائی مِشنری ڈینیل ہِس (Danial Hiss) نے 1866ء میں شام میں ’’پروٹسٹنٹ امریکن کالج‘‘ کی بنیاد رکھی اور 1920ء میں اس کا درجہ بڑھا کر اس کا نام ’’امریکن یونی ورسٹی آف بیروت‘‘ رکھ دیا۔
اسی عرصے میں رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ عیسائی مِشنریز شام، لبنان اور ارد گرد کے دیگرعرب ممالک میں تعلیمی اداروں کے علاوہ اس دَور کے حساب سے جدید سہولتوں سے آراستہ اسپتال بھی قائم کررہی تھیں۔ ان تعلیمی اداروں اور اسپتالوں میں کام کا آغاز بائبل کی اجتماعی تلاوت اور درس سے ہوتا تھا۔ مریضوں کے سرہانے اور طلبہ کے ڈیسکس پر عیسائی لٹریچر کے جدید ایڈیشنز رکھے جاتے تھے اوراس ساری ’’رفاہی مُہم ‘‘میں تُرک اورعرب نیشنلزم کو خاص اہمیت دی جاتی تھی۔
(مضمون نگار، لگ بھگ 40 برس تک شعبۂ تعلیم سے وابستہ رہے، معروف مذہبی اسکالر اور کئی کتب کے مصنّف ہیں)