• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نیتن یاہو نے ایران وا مریکہ ہی نہیں پوری دنیا کو جس جنگ میں الجھایا ہے نہ صرف یہ کہ اس کے جلد خاتمے کے کوئی آثار نہیں بلکہ اسکا دائرہ پھیلتا ہی جارہا ہے۔حوثیوں کے میزائل مکہ مکرمہ، ریاض، جدہ، طائف سمیت سعودی عرب کے متعدد شہروں تک پہنچ رہے ہیں اور مملکت کی مشکلات بڑھ رہی ہیں ۔ان حالات کے سبب مکہ دفاعی معاہدے پر سوالات اٹھ رہے ہیں ۔ حوثی سعودی جنگ رکی نہیں تو پاکستان اور ترکیہ کو ثالثی کیلئے آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔ تینوں ملکوں کی فوجی قیادتوں کا جمعے کو ریاض میں ہونیوالا ہنگامی اجلاس بھی اس امکان کو تقویت دیتا ہے۔ آبنائے ہر مز کے بعد باب المندب کے راستے سے بھی تیل کی بین الاقوامی ترسیل میں رکاوٹ نے پٹرول کی عالمی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ کردیا ہے اور یہ سلسلہ کہیں رکتا نظر نہیں آرہا۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ وفاقی وزیر پٹرولیم کے اس حالیہ انتباہ سے کیا جاسکتا ہے کہ قلت ہوئی تو ملک میں پیٹرول ہزار روپے فی لٹر میں بھی دستیاب نہیں ہوگا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایرانی اور امریکی نمائندوں کے طویل مذاکرات ہوئے ہیں۔ اسکے نتیجے میں اگر تیل کی آزادانہ ترسیل شروع ہوجائے تب تو حالات میں بہتری ممکن ہے تاہم یہ اسی صورت میں ہوگا جب صدر ٹرمپ ایران کو ملیامیٹ کردینے کی دھمکیاں دینا بند کردیں جسکا بھرپور مظاہرہ انہوں نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں بھی کیا ہے۔مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھانے کیلئے ایرانی قیادت کی شرط یہی ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ کی افتاد طبع کے پیش نظر یہ توقع مشکل ہی سے کی جاسکتی ہے کہ وہ ایران کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالنے کی درجنوں بار دی ہوئی دھمکیوں کو اب نہیں دہرائیں گے۔ حالانکہ خود مستند امریکی ذرائع کے مطابق ایران کیخلاف چند ماہ کی جنگ نے امریکہ کے انتہائی مہنگے میزائلوں کے ذخائر خالی کردیے ہیں ، تیل اور گیس کے نرخوں میں بھاری اضافہ ہوگیا ہے اور عام امریکی اس بے مقصد جنگ سے بری طرح بیزار ہے۔ تاہم اس جنگ کے دونوں فریقوںمیں سے کوئی بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔ ٹرمپ کی مشکل یہ ہے کہ ایران کو شکست فاش دینے اور امریکہ کو فتح مبین حاصل ہونے کے جو دعوے وہ مسلسل کرتے رہے ہیں، ان سے دستبردار کیسے ہوں۔ دوسری طرف ایرانی قیادت بجا طور پر سمجھتی ہے کہ ایرانی قوم نے جس دلیری، عزم اور حوصلے سے دیو استبداد کو گھٹنے ٹیکنے کے مرحلے تک پہنچادیا ہے، اپنی شرائط منوائے بغیر اس سے جنگ ختم نہیں کی جانی چاہئے۔ ان شرائط میں ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ،پرامن مقاصد کیلئے جوہری صلاحیت برقرار رکھنے کی آزادی اور اربوں ڈالر کے منجمد اثاثوں کی بحالی سرفہرست ہیں۔ ان شرائط کی معقولیت بالکل واضح ہے لیکن انہیں تسلیم کرنا ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے ناک کا مسئلہ ہے۔ اسلئے جنگ جلد ختم ہونے کا امکان کم نظر آتا ہے۔ ایران کی سات روزہ جنگ بندی کی تازہ تجویز مسترد کرکے بھی انہوں نے اسی ذہنیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جنگ کے باعث پاکستانی معیشت کو جن مشکلات کا سامنا ہے اور جنکی شدت کا آئندہ مزید بڑھنا بظاہر یقینی ہے،ان سے نمٹنے کیلئے کیا کیا جانا چاہئے۔ قومی وسائل اور سرکاری اخراجات میں ہر ممکن کفایت اس ضمن میں سب سے ضروری قدم ہے اور یہ امرخوش آئند ہے کہ رواں ہفتے ہی وفاقی حکومت نے اس حوالے سے اہم فیصلے کیے ہیں ۔ سرکاری گاڑیوں کیلئے ایندھن میں پچاس فیصد کمی، ہر قسم کی نئی گاڑیوں کی خریداری اور تین ماہ کیلئے سرکاری دوروں اور غیر ملکی سفری سرگرمیوں پر پابندی ، ناگزیر صورتوں میں وزراء کے بیرونی دوروں کیلئے اکنامی کلاس میں سفر، سرکاری امور کیلئے ویڈیو اور ٹیلی کانفرنسنگ کا زیادہ سے زیادہ استعمال، شادیوں اور دیگر تقریبات میں سنگل ڈش کی پابندی ، شادی ہالوں اور کاروباری مراکز کے رات دس اور نوبجے بند کرنے کے اقدامات اس میں شامل ہیں۔

جنگ کے پیدا کردہ چیلنجوں سے عہدہ برآ ہونے کیلئے آئی پی پیز کے کیپسٹی چارجز کا جلد از جلد مکمل خاتمہ بھی ضروری ہے، خصوصاً پاکستانی مالکان کو تو بہرصورت اس پر مجبور کیا جانا چاہیے۔ پیٹرول اور ڈیزل کا خرچ کم کرنے کا مستقل حل ای وی گاڑیوں کا زیادہ سے زیادہ عام کیا جانا ہے۔ ان گاڑیوں کی خریداری پر ٹیکس کم کیا جائے اور انکی خریداری کیلئے بینک آسان قرضے دیں توان کا چلن اسی تیزی سے بڑھ سکتا ہے جسکا مظاہرہ ملک بھر میں نجی طور پر سولرائزیشن کی شکل میں ہوا ہے۔اس کیساتھ ساتھ تیل اور گیس کی تلاش کے کام کو زیادہ سے زیادہ تیز کیا جانا ضروری تاکہ بیرونی ذرائع پر انحصار آخری حد تک کم ہوسکے۔ بیرون ملک ناجائز طور پر اربوں روپے بھیجے جانے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے جسکا شکوہ وفاقی وزیر داخلہ نے چند ماہ پہلے کاروباری شخصیات کے ایک اجتماع میں برملا کیا تھا اور دس ارب روپے واپس لانے کی درخواست بھی کی تھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ غیرقانونی کھیل جو قومی معیشت کیلئے زہر قاتل ہے جاری ہی کیوں ہے، اس سلسلے کو بلاتاخیر بند ہونا چاہیے۔ کرپشن ہمارے قومی وسائل کے برباد ہونے کا سب سے اہم سبب ہے، آئے دن اربوں کی کرپشن کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں مگر اس ناسور کی مؤثر روک تھام کسی طرح نہیں ہوتی۔ اس کوتاہی کا جلدازجلدازالہ قومی بقا کیلئے لازمی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بیش بہا معدنی وسائل سے مالا مال کیا ہے لیکن ان سے استفادے میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نظر نہیں آتی، اس جانب بھی فوری توجہ ضروری ہے۔ اس سب کے علاوہ اور اس سب سے اہم قومی اتحاد ویکجہتی کا فروغ ہے لیکن یہ طاقت کے بل پر ممکن نہیں، اس کیلئے دلوں کو فتح کرنا لازم ہے اور دل خوف سے نہیں محبت سے فتح ہوتے ہیں۔

تازہ ترین