پی ٹی آئی آج بھی اسی ذہنیت میں قید ہے جس نے ہمیں 9مئی دیا۔ اس دن اس نے فوج کی چین آف کمانڈ توڑنی چاہی۔ نہیں توڑ سکی۔ 2022ء میں حکومت سے نکلی، تب سے ناکام ہے۔ ایک سنجیدہ تحریک تک کھڑی نہ کر سکی۔ وجہ صاف ہے۔ اسے اصلاح نہیں چاہئے، تباہی چاہئے۔ پاکستان کا کیا بنتا ہے، اسے پروا نہیں۔ دنیا میں ملک کی ساکھ کیا ہے، اسے فکر نہیں۔ لانگ مارچ 27ستمبر سے 4 اکتوبر پر چلا گیا۔ اب کہا جا رہا ہے یہ آٹھ دن قیامت لائینگے۔ کوئی قیامت نہیں آئیگی۔ آئیگی تو بس گھڑی ہوئی بے یقینی، بنایا ہوا خوف۔ اور یہی معیشت کا خاموش خون ہے۔ دنیا مشکل میں ہے، مگر کوئی قوم اپنے ساتھ یہ نہیں کرتی۔ ذخائر بڑھ رہے ہیں۔ ملک سنبھل رہا ہے۔ ایسے میں یہ تماشا؟ بے مقصد۔ حکومت اجازت نہ دے۔ صاف کہہ دے کہ پاکستان کا دوست اسکی معیشت کا خون نہیں کرتا۔ ذرا دیکھئے یہ ڈرامہ بناتا کون ہے۔ وہی لوگ جو 2013 ء کے دھرنے سے کہہ رہے ہیں کہ بس کچھ ہونیوالا ہے۔ تیرہ برس گزر گئے۔ کچھ نہیں ہوا۔ انکا فکری قد ناپنا ہو تو 2018ء سے آج تک کی انکی باتیں نکال کر دوبارہ سن لیجئے۔ کہنے کو کچھ نیا نہیں ملے گا۔ بار بار غلط۔ 2018ءتباہی۔ 2020ء تباہی۔ 2022ءتباہی۔ اسکے بعد مرمت شروع ہوئی۔ اور ان میں کتنے ہیں جو دکھا سکیں کہ انہوں نے عمران خان کی مخالفت دلیل سے کی تھی؟ گنتی کے۔ اب کہتے ہیں معاف کیجیے، ہم نے عمران خان کا ساتھ دیا، غلطی ہو گئی۔ جناب، آپ تب بھی نہیں سمجھے تھے، آج بھی نہیں سمجھتے۔ پی ٹی آئی پہلے دن سے کند ذہن تھی۔ آپ کی حمایت بے جا تھی۔ آپ اس تباہی میں شریک تھے۔ اور اب آپ یہ ڈرامہ بناتے ہیں، اسے پالتے ہیں، کیونکہ اس سے ویوز آتے ہیں۔ یہ ویوز کا دھندہ بند کیجیے۔ لوگ بھول جاتے ہیں کہ پچھلے ہفتے کیا کہا تھا۔ مگر فکری دیانت مستقل مزاجی مانگتی ہے۔ اور جماعت کا امتحان ایک ہی ہے: کام کر کے دکھانا۔ پی ٹی آئی نہیں کر سکتی۔ عمران خان نہیں کر سکتے۔ نہ تصور ہے، نہ صلاحیت۔ ووٹ اس بحث کا فیصلہ نہیں کرتے۔ ایم کیو ایم کے پاس سارے ووٹ تھے۔ الطاف حسین کے پاس سارے ووٹ تھے۔ آج وہ راندۂ درگاہ ہے۔ جو پاکستان توڑنے نکلتے ہیں، آخر راندۂ درگاہ ہی ہوتے ہیں۔ یہ زندگی کی حقیقت ہے۔مسائل پر بات کیجیے۔ 2018ءسے 2022ءملک کی حالیہ تاریخ کا بدترین دور تھا۔ لوگ ایک جہاز کے غلط استعمال کی بات کرتے ہیں۔ ٹھیک ہے، غلط کو غلط کہیے۔ مگر پنجاب کی جی ڈی پی کا 2.5فیصدجو ڈوب گیا، اس کی بات کوئی نہیں کرتا۔ یعنی تقریباً 20ارب ڈالر۔ بزدار اسکول آف مینجمنٹ نے پنجاب کی معیشت کو اتنا پیچھے دھکیلا۔ پنجاب نے اس سے بدتر انتظام نہیں دیکھا۔ جو آج بھی عمران خان کے قصیدے پڑھتے ہیں، وہ اپنے گریبان میں جھانکیں اور اس کا حساب دیں۔ اور آج؟ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی اپنی ہی حکومت کا ڈھانچہ ڈھا رہی ہے۔ اپنے لوگوں تک نہیں پہنچتی۔ پختونوں کے بنیادی حقوق روند رہی ہے۔ روم گرا تو وینڈلز نے لوٹا تھا۔ یہ بھی وینڈل ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ یہ باہر سے نہیں، اندر سے آئے ہیں۔میں عمران خان کو جانتا ہوں۔2006ءمیں ملاقات ہوئی۔ ہوا یوں کہ میں نے شوکت خانم کو اپنی حیثیت سے بڑھ کر عطیہ دیا۔ انہوں نے سمجھا میں بہت امیر ہوں۔ میں نہیں تھا۔ اگلے دن فون آیا۔ کراچی میں ان کے فنڈ ریزنگ منیجر نعیم تھے۔ کہنے لگے خان صاحب آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ وہ آئے۔ تین گھنٹے میرے پاس بیٹھے۔ تین گھنٹے میں نے ایک بھی مثبت بات نہیں سنی۔ سب سونامی تھا، سب تبدیلی تھی، سب یہ کہ میں سب سے مقبول لیڈر ہوں۔ خود فریبی، اور بس خود فریبی۔ اور تین گھنٹے میں انہیں یہی کہتا رہا کہ آپ جو کہہ رہے ہیں سب غلط ہے، آپ کی ترجیحات غلط ہیں۔ باہر نکلے تو اپنے پسندیدہ صحافی کو فون کیا اور کہا کہ اقبال لطیف سے کہیں میری پارٹی میں آ جائے۔ میں نے صحافی سے کہہ دیا کہ مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ انہیں حکمرانی کا کوئی پتا نہیں کوئی اندازہ نہیں۔ یہ حکومتیں گرانا چاہتے ہیں کیونکہ انہیں پوائنٹ اسکور کرنے ہیں۔ حکمرانی میں غلطیاں ہوتی ہیں۔ زیادتیاں بھی ہوتی ہیں۔ مگر جو حکمرانی کام کر کے دکھائے، وہی بہترین حکمرانی ہے۔ عمران خان میں یہ صلاحیت نہیں۔ اور افسوس، اس وقت اور بہت سوں میں بھی نہیں۔دوسری طرف پاکستان کے پاس ایک مضبوط ہائبرڈ نظام ہے۔ باجوہ دور کا ہائبرڈ سطحی تھا، اس کے پاس کوئی لمبا منصوبہ نہیں تھا۔ یہ مختلف ہے۔ وزیراعظم اسٹیبلشمنٹ کے اس مقصد کے ساتھ پوری طرح کھڑے ہیں کہ پاکستان اتنا مضبوط ہو کہ اپنے وجودی خطرات کا سامنا کر سکے۔ بی ایل اے۔ ٹی ٹی پی۔ لائن آف کنٹرول اور آپریشن سندور 2 کا خطرہ۔ ٹی ایل پی، جس سے نمٹ لیا گیا۔ اور پی ٹی آئی کے ففتھ کالمسٹ، جو بغاوت تک جانے کو تیار تھے۔ سوڈان کو دیکھ لیجیے۔ چین آف کمانڈ ٹوٹ جائے تو قوم کا کیا حشر ہوتا ہے۔عمران خان الطاف حسین کی طرح راندۂ درگاہ ہو چکے ہیں۔ انہیں 9 مئی پر کھلے عام معافی مانگنی ہوگی۔ بات اتنی سادہ ہے۔ اسلام آباد کی عدالت کا فیصلہ بھی انکے حق میں نہیں آئے گا۔ بس انتظار کیجیے۔ کوئی رعایت نہیں ملے گی۔ اور اگر کسی کو شک ہے تو تسلی رکھیے، آپ کی باتوں کی کسی کو پروا نہیں۔ کوئی تبدیلی نہیں آ رہی۔ ٹی ایل پی کا روز کا ڈرامہ ختم۔ پی ٹی آئی آخری سانسیں لے رہی ہے۔ یہ مارچ اس کی آخری آہ ہے۔