• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیاسی احتجاج، لانگ مارچ، دھرنے اور جلسے جمہوری معاشروں میں معمول کی سیاسی سرگرمیاں ہیں۔ ان مواقع پر حکومتیں امن و امان برقرار رکھنے، اہم تنصیبات کی حفاظت اور ٹریفک کی روانی کو منظم رکھنے کیلئے مختلف حفاظتی اقدامات کرتی ہیں۔ سڑکوں اور پلوں پر کنٹینرز، لوہے کی رکاوٹیں اور نوکیلے فولادی ڈھانچے نصب کرنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔تاہم سوال پیدا ہوتا ہےکہ جب سیاسی سرگرمی ختم ہونے کے بعد یہ رکاوٹیں سڑکوں سے ہٹا کر دریاؤں، نہروں اور دیگر آبی ذخائر میں پھینک دی جاتی ہیں۔ بظاہر ایک راستہ کھل جاتا ہے، مگر اس کے ساتھ ایک نیا، خاموش اور زیادہ خطرناک مسئلہ جنم لیتا ہے۔حالیہ واقعات میں سڑکوں اور پلوں پر نصب نوکیلی لوہے کی رکاوٹوں کو پانی میں پھینکے جانے کے مناظر نے ایک اہم سوال ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے:کیا حفاظتی انتظامات کی ذمہ داری صرف احتجاج ختم ہونے اور راستے کھلنے تک محدود ہے؟

حفاظتی رکاوٹیں نصب کرنا ایک انتظامی فیصلہ ہو سکتا ہے، مگر ان کا استعمال ختم ہونے کے بعد انہیں محفوظ مقام پر واپس پہنچانا بھی اسی فیصلے کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔دریا میں پھینکا گیا لوہے کا ایک نوکیلا ٹکڑا شاید فوری طور پر کسی کو دکھائی نہ دے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بے ضرر ہو گیا۔ پانی کی تہہ میں چھپا ہوا فولادی ٹکڑا کسی تیرنے والے شخص، ماہی گیریا پانی میں اترنے والے عام شہری کیلئے سنگین حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔مزید یہ کہ پانی کا بہاؤ ان رکاوٹوں کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقل کر سکتا ہے۔ یوں جس جگہ پر یہ سامان پھینکا گیا، خطرہ ضروری نہیں کہ وہیں رہےوہ دریا کے بہاؤ کیساتھ مزید دور تک سفر کر سکتا ہے۔یہ مسئلہ صرف انسانی جانوں تک محدود نہیں۔ دریاؤں اور نہروں کا اپنا ایک مکمل ماحولیاتی نظام ہوتاہے۔ مچھلیاں، آبی پودے، چھوٹے جاندار اور دیگر حیاتیاتی انواع اسی نظام کا حصہ ہیں۔ پانی میں پھینکے گئے لوہے کے ڈھانچے ان جانداروں کو زخمی کر سکتے ہیں، آبی پودوں میں پھنس سکتے ہیں اور قدرتی ماحول کو متاثر کر سکتے ہیں۔وقت کے ساتھ دھات زنگ آلود ہوتی ہے اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہے۔ اس لیے یہ تصور کرنا بھی درست نہیں کہ پانی میں پھینکا گیا لوہا محض ایک بے ضرر چیز ہے جو وقت کے ساتھ خود بخود غائب ہو جائے گا۔ پاکستان پہلے ہی آبی آلودگی، صنعتی اور گھریلو فضلے اور پانی کے وسائل پر بڑھتے ہوئے دباؤ جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں مزید خطرناک دھاتی فضلے کو دریاؤں میں ڈالنا کسی بھی صورت دانش مندانہ طرزِ عمل نہیں۔

پاکستان کے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں دریا اور نہریں انسانوں کیساتھ ساتھ مویشیوں کی زندگی کا بھی اہم حصہ ہیں۔ گائیں، بھینسیں، بکریاں اور دیگر جانور پانی پینے کے لیے ان آبی ذرائع کا رخ کرتے ہیں۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ پانی کے نیچے کوئی نوکیلا لوہے کا ٹکڑا چھپا ہوا ہے۔ایسی رکاوٹیں جانوروں کے پاؤں زخمی کر سکتی ہیں، گہرے زخم کا باعث بن سکتی ہیں اور بعض صورتوں میں ان کی زندگی بھی خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔ غریب کسان اور مویشی پالنے والے خاندانوں کیلئے ایک گائے یا بھینس محض ایک جانور نہیں بلکہ آمدنی اور روزگار کا ذریعہ ہوتی ہے۔ چنانچہ کسی جانور کو پہنچنے والا نقصان ایک خاندان کے معاشی مسائل میں بھی اضافہ کر سکتا ہے۔اگر سڑک سے رکاوٹ ہٹا کر دریا میں پھینک دی جائے تو سڑک تو صاف ہو جاتی ہے، مگر دریا کے اندر ایک نیا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ جو چیز پہلے سب کو نظر آ رہی تھی، اب پانی کے نیچے چھپ جاتی ہے اور شاید اسی لیے زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے۔

اس معاملے میں عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے خطرناک سامان کو دریاؤں، نہروں، نالوں یا قدرتی مقامات پر نہ پھینکیں۔ تاہم، جب حفاظتی رکاوٹیں سرکاری انتظامات کے تحت نصب کی گئی ہوں تو ان کے محفوظ انتظام اور واپسی کی بنیادی ذمہ داری متعلقہ سرکاری اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے تمام مقامات کا فوری سروے کیا جائے جہاں حالیہ حفاظتی کارروائیوں کے دوران لوہے کی رکاوٹیں استعمال کی گئی تھیں۔ دریاؤں، نہروں اور پلوں کے اطراف کا معائنہ کیا جائے اور اگر کوئی خطرناک سامان پانی میں موجود ہو تو اسے ماہر عملے اور مناسب مشینری کے ذریعے نکالا جائے۔جہاں ضرورت ہو، وہاں ماحولیاتی ادارے پانی کے معیار اور آبی حیات پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیں۔ساتھ ہی مستقبل کیلئے واضح انتظامی ضابطہ وضع کیا جانا چاہیے، جس میں حفاظتی رکاوٹوں کی تنصیب سے لے کر ان کی واپسی، منتقلی، ذخیرہ اور محفوظ تلفی تک ہر مرحلے کی ذمہ داری متعین ہو۔سیاسی احتجاج ختم ہو جاتے ہیں۔ حکومتیں بدل جاتی ہیں۔ راستے بند ہوتے ہیں اور پھر کھل جاتے ہیں۔ کنٹینر ہٹا دیے جاتے ہیں اور زندگی دوبارہ معمول پر آ جاتی ہےلیکن دریا باقی رہتے ہیں۔وہ نسل در نسل بہتے ہیں۔ ان کے پانی سے انسانوں کی زندگی وابستہ ہے، زراعت کا نظام چلتا ہے، مویشی اپنی پیاس بجھاتے ہیں اور آبی حیات اپنا وجود برقرار رکھتی ہے۔اس لیے یہ مسئلہ کسی ایک سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت کا نہیں۔ یہ ریاستی ذمہ داری، انسانی سلامتی اور ماحولیاتی شعور کا سوال ہے۔احتجاج ختم ہو جائیں گے، کنٹینر ہٹا دیے جائیں گے، سڑکیں کھل جائیں گی مگر دریا کی تہہ میں چھوڑا گیا خطرہ شاید برسوں باقی رہے۔ اقتدار کی کشمکش عارضی ہوتی ہے، مگر فطرت کو پہنچنے والے نقصان کی قیمت اکثر آنے والی نسلیں ادا کرتی ہیں۔

تازہ ترین