• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تباہ شدہ غزہ کی بحالی کے نام پر اپنے ہی قائم کردہ امن بورڈ کے سربراہ اور امریکی صدرٹرمپ نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے فلسطینی اتھارٹی کے چیئرمین محمود عباس کو نیویارک آنیکی اجازت نہیں دی البتہ لاکھوں فلسطینیوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کھلے بازوؤں سے استقبال کیا ہے۔ اس سے اس قرآنی حکم کی اصابت تو ثابت ہوگئی کہ یہود و نصاریٰ کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے۔ نیتن یاہو کی حالت اس وقت دیدنی تھی جب وہ خطاب کے لئے ڈائس پر پہنچے انہوں نے یہ ذلت آمیز منظر دیکھا کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے درجنوں مندوبین قطار اندر قطار اجلاس سے واک آئوٹ کرکے باہر جارہے ہیں۔ نیتن یاہو بے بسی سے انہیں جاتے دیکھتے رہے۔ یہ واک آئوٹ اس بات کی علامت تھا کہ دنیا مظلوم فلسطینی مسلمانوں کیساتھ ہے اور امریکہ اور مغربی ملکوں کی اشیر باد سے ان پر مظالم کے پہاڑ توڑنے والا اسرائیل تنہا کھڑا ہے ۔اس حوالے سے 44سال قبل 1982ءمیں اسرائیل کے ایک عبرانی زبان کے جریدے کیووینم میں اسرائیلی وزارت خارجہ کے ایک سابق سینئر سفارت کار اور اسٹرٹیجک تجزیہ کار اووڈژینون کا مقالہ غور و فکر کی دعوت دیتا ہے جس میں 1980 ءکی دہائی میں اسرائیل کیلئے عرب ممالک پر قبضہ کرکے گریٹر اسرائیل کی راہ ہموار کرنے کی حکمت عملی بتائی گئی ہے۔ دنیا اسے ژینون پلان کے نام سے جانتی ہے نیتن یاہواسی منصوبے پر عمل کرتے ہوئے فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی میں مصروف اور صدر ٹرمپ جو دنیا میں قیام امن کے دعوے کرکے نوبل انعام کے خواستگار ہیں اس کی بھرپور مدد کررہے ہیں ۔ دوسری جنگ عظیم تک اسرائیل کے نام سے دنیا میں کسی ملک کا وجود نہیں تھا یہ اس وقت کی سپرپاور برطانیہ کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے جس نے فلسطین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر اسرائیل کے قیام کا منصوبہ پیش کیا جو درحقیقت فلسطینی مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا جال تھا ۔ اس کی ابتدا 1967ءکی جنگ میں امریکہ اور مغربی طاقتوں کی مدد سے عرب ممالک پر اسرائیل کی فتح سےہوئی ۔ اب ژینون پلان کے تحت سازش کے باقی حصے پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔ پلان کا لب لباب یہ ہے کہ اگر اسرائیل کو مشرق وسطیٰ پر ہمیشہ کے لئے حکمرانی کرنی ہے تو اسے ارد گرد کے تمام عرب ممالک کو نسلی ، لسانی اور مسلکی بنیادوں پر ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہوگا۔ گریٹر اسرائیل کا خواب ایسی صورت میں ہی پورا ہوسکتا ہے ۔ اووڈژینون کا منصوبہ یہ تھا کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد برطانیہ اور فرانس نے سائیکس پیکو معاہدے کے تحت عرب دنیا کے ٹکڑے کرکے جو چھوٹے چھوٹے ملک بنائے ہیں وہ ریت کی دیوار ہیں۔ یہ ممالک اندر سے کھوکھلے ہیں ان میں مختلف مسالک ، نسلیں اور قومیتیں زبردستی ایک سرحد کے اندر بند کردی گئی ہیں۔ پلان کے تحت اسرائیل کا ہدف یہ ہونا چاہئے کہ وہ ان اندرونی دراڑوں کو اتنی ہوا دے کہ یہ ممالک خود اپنے ہی داخلی خلفشار سے تباہ ہوجائیں ۔ ژینون نے ایک ایک ملک کا نام لیکر انکی تباہی کا خاکہ پیش کیا۔ اس نے لکھا کہ عراق اسرائیل کیلئے سب سے بڑا فوجی خطرہ ہے اسلئے اسکے تین ٹکڑے کردیئے جائیں ۔شمال میں کردوں کی ریاست وسط میں سنیوں کا علاقہ اور مغرب میں شیعوں کی عملداری ہو ۔ اس منصوبے کو امریکا نے صدام حسین کے طاقتورعراق پر فوج کشی کرکے عملی جامہ پہنایا ۔ ژینون نے شام کو اس کی علوی ، دروزی اور سنی آبادیوں کی بنیاد پر چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کرنےکی تجویز پیش کی۔ اس طرح کی تجویز لبنان کے بارے میں بھی پیش کی گئی ہے ۔اس نے مصر کی معیشت کو تباہ کرنے کا منصوبہ بھی پیش کیا اور کہا کہ اس سے وہ جزیرہ نما سینا پر اپنا حق جتانے کے قابل نہیں رہے گا۔

یمن سے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے بھی اسی سوچ کا نتیجہ ہیں عراق عملی طور پر تین حصوں میں بٹ چکا ہے ۔ شام کا حشر بھی سب کے سامنے ہے، لیبیا ، یمن اور لبنان تباہ حال ہیں یہ سب کچھ اتفاقیہ نہیں۔ یہ ژینونی پلان کا نتیجہ ہے جس پر مغربی طاقتوں اور اسرائیل نے مل کر عمل کیا ۔مبصرین کے مطابق عرب دنیا کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا کہ انہوں نے کبھی اپنے دشمن کی سوچ پڑھنے کی زحمت نہیں کی سب اپنا اپنا اقتدار بچانے کی فکر میں رہے ۔ منصوبے کا انگریزی ترجمہ سامنے آیا تو عرب حکمرانوں نے اسے محض خیالی پلاؤ قرار دے کر نظر انداز کیا۔ یہ عرب دنیا کی نااتفاقی کا نتیجہ ہے کہ دشمن اپنی حکمت عملی میں کامیاب رہا ہے ۔امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں ایران نے عرب ملکوں میں قائم امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا اور انہیں ایران کے خلاف صف آرا کردیا جو دراصل انکے اپنے مفادات کیخلاف ہے ۔ دشمن کا اصل ہدف مشرق وسطیٰ اور ایران کے درمیان شیعہ سنی تنازعات کو ہوا دینا تھا جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب رہے ۔پاکستان فلسطینی ریاست کے قیام کا علمبردار اور اسرائیلی سازشوں سے خبردار ہے اسی لئے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈمارشل عاصم منیر یہودیوں کی نظرمیں کھٹکتے ہیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ ادوڈژینون نے جس جریدے میں اپنا مقالہ شائع کرایا وہ یہودیوں کی عالمی صہیونی تنظیم کا ترجمان تھا جو 1987ءتک شائع ہوتا رہا ۔ ژینون بعد میں یروشلم پوسٹ سے منسلک ہوگیا ۔اس کا نظریہ یہ تھا کہ عرب دنیا کی سرحدیں کمزور ہیں اور اسرائیل کی سلامتی کیلئے ضروری ہے کہ وہ علاقائی سپر پاوربنے۔ اسلئے اسےارد گرد کی تمام ریاستوں پر قبضہ کرلینا چاہئے ۔ نیتن یاہو امن معاہدے کے باوجود لبنان شام اور دوسری ہمسایہ ریاستوں پر جو مسلسل حملے کررہا ہے وہ اسی منصوبے کا شاخسانہ لگتا ہے ۔اسرائیلی وزیر خزانہ غزہ اور لبنان کےمقبوضہ علاقوں پرمستقل قبضے پر زور دے رہا ہے۔ عرب حکمرانوں کو چاہئے کہ صرف اپنا اقتدار قائم رکھنے کے علاوہ امت مسلمہ کی بقا کو بھی مدنظر رکھیں ورنہ تمہاری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔ 

تازہ ترین