ملک میں نئے صوبوں کی بازگشت ہے۔ اسکے مقاصد مختلف حلقوں سے مختلف لوگ مختلف بیان کرتے ہیں، مگر اس کی ایک اہم وجہ انتظامی یونٹوں کو چھوٹا کر کے عوام کو ان کی دہلیز پر ان کے مسائل کا حل فراہم کرنا ہے۔حال ہی میں لاہور میں ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن (ریٹائرڈ) علی اعجاز سے ملاقات ہوئی۔ چونکہ ان کی پوسٹنگ بلوچستان رہی ہے، میں نے ان سے لاہور کی تحصیلوں کے بارے میں پوچھا۔ وہ بتانے لگے کہ لاہور میں دس تحصیل ہیں اور صرف ایک ہی ڈپٹی کمشنر سب کو دیکھتا ہے، جبکہ لاہور کی آبادی ڈیڑھ کروڑ ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ ہم نے کوئٹہ کو دو اضلاع میں تقسیم کر دیا ہے، جس کی آبادی محض پندرہ لاکھ ہے، یعنی لاہور کے مقابلے میں بہت کم۔ اس پر وہ ہنسنے لگے اور انہیں یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ اتنے کم آبادی والے ضلع کو بھی دو کیا جا سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بنیادی مسئلہ مضبوط انتظامی ڈھانچہ ہے۔ جس کے لیے رقبہ اور آبادی شاید اتنی اہمیت نہیں رکھتے۔ اسی مضبوط انتظامی ڈھانچے کا ایک اہم ستون تعلیم ہے، اور بلوچستان میں تعلیم کو ہمیشہ ترجیحات سے دور رکھا گیا۔ اس کا نقصان ایک ان پڑھ معاشرے کی شکل میں بلوچستان کو ملا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کوئٹہ کے اسکولوں میں آٹھ ہزار اساتذہ تعینات ہیں، جن میں سے دو ہزار کوئٹہ کے مقامی افراد ہیں جبکہ چھ ہزار صوبے کے دیگر اضلاع سے من پسند بنیادوں پر کوئٹہ لائے گئے ہیں۔ تین سو کے قریب اساتذہ گزشتہ چھ سالوں سے کوئٹہ لا کر سرپلس میں رکھے گئے تھے جنہیں دیگر اضلاع سے کوئٹہ تبدیل کیا گیا تھا۔ وہ تنخواہ تو لے رہے تھے لیکن چھ سال تک پوسٹنگ نہیں ملی۔بلوچستان کے تعلیمی شعبے میں حال ہی میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ صوبائی حکومت کے تحت تیار کردہ ضلع وار طلبہ و اساتذہ کے تناسب اور صنفی حساس بجٹ سازی کے اعداد و شمار سے پہلی بار یہ بات کھل کر منظر عام پر آگئی ہے کہ صوبے کا پرائمری تعلیمی نظام کہاں کھڑا ہے۔ یہ ڈیٹا نہ صرف مسائل کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ شفافیت اور احتساب کی طرف ایک نیا رخ اختیار کیا جا رہا ہے۔سب سے پہلے اس بات کو سراہنا ضروری ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی قیادت میں سیکرٹری تعلیم لال جان جعفر نے جو کام کیا ہے، وہ بلوچستان کی تعلیمی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ پاکستان کے کسی بھی صوبے نے اب تک اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے لیے اس سطح پر صنفی بنیادوں پر الگ بجٹ پیش نہیں کیا۔ لڑکوں کے اسکولوں، لڑکیوں کے اسکولوں اور گورننس و مانیٹرنگ کو الگ الگ کر کے بجٹ کا اعلان کرنا اور پھر ضلع وار طلبہ و اساتذہ کا تناسب شفاف طریقے سے سامنے لانا ایک ایسا کام ہے جو پچھلی کئی حکومتوں نے کبھی نہیں کیا۔ اس لیے لال جان جعفر کو اس اقدام پر واقعی داد دی جانی چاہیے۔
لیکن اسی ڈیٹا نے پرانی خرابیوں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ صوبے کا مجموعی طلبہ و اساتذہ کا تناسب 31.15 ہے۔ کچھ اضلاع میں صورت حال قابلِ رشک ہے جیسے کوہلو (18.60)، ہرنائی (20.57) اور دکی (21.36)۔ دوسری طرف کچھ اضلاع میں صورتحال تباہ کن ہے۔ قلعہ سیف اللہ میں یہ تناسب 79.97، لسبیلہ میں 68.60، اوستہ محمد میں 51.97 اور جعفرآباد میں 50.21 ہے۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ان اضلاع میں یا تو اساتذہ کی شدید کمی ہے یا تقرریاں سیاسی بنیادوں پر کی گئیں اور حقیقی ضرورت کو نظرانداز کیا گیا۔صنفی عدم توازن بھی واضح ہے۔ لڑکوں کے اسکولوں کیلئے 48065پوسٹس اور 50.516 ارب روپے مختص ہیں جبکہ لڑکیوں کے اسکولوں کے لیے صرف 29326 پوسٹس اور 29.725 ارب روپے۔ لڑکیوں کی تعلیم پر یہ واضح پسماندگی برسوں کی نظراندازی کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح نان سیلری بجٹ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ا سکولوں میں فرنیچر، کتب، مرمت اور بنیادی سہولیات کیلئے پیسہ نہیں۔ صرف تنخواہیں چل رہی ہیں۔یہ تمام خرابیاں ایک دن میں پیدا نہیں ہوئیں۔ پچھلی کئی دہائیوں میں سیاسی تقرریاں، غائب اساتذہ، خالی پوسٹس اور نگرانی کے فقدان نے نظام کو کھوکھلا کر دیا۔ جن لوگوں نے اس نظام کو جان بوجھ کر یا لاپروائی سے برباد کیا، ان کی ذمہ داری سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ حیران کن طور پر اسکول کے شعبے میں انتظامی معاملات دیکھنے والوں کی کل اسامیوں کی تعداد 5,271 ہے، جو سالانہ تنخواہ کے مد میں بجٹ کیلئے 24.822 ارب روپے لے رہے ہیں۔ اسکے مقابلے میں لڑکیوں کے اسکولوں کے تقریباً 30 ہزار اساتذہ کو صرف 29.725 ارب روپے مل رہے ہیں۔ یعنی انتظامی عملے کی تعداد (لڑکیوں کے اساتذہ کے مقابلے میں) صرف تقریباً 17 فیصد ہے، لیکن وہ ان کے بجٹ کا تقریباً 83 فیصد حصہ اکیلے لے رہے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ آگے کیا کیا جائے؟ بدترین تناسب والے اضلاع میں فوری تقرریاں، لڑکیوں کے اسکولوں کے بجٹ اور پوسٹس کو بتدریج برابر کرنا، نان سیلری بجٹ میں حقیقی اضافہ، بائیو میٹرک حاضری اور ضلع وار کارکردگی کی شفاف رپورٹنگ ناگزیر ہیں۔ اگر یہ ڈیٹا صرف کاغذ تک محدود رہا تو پھر شفافیت کا یہ قدم بھی بے معنی ہو جائے گا۔پہلا اہم قدم تو سیکرٹری اسکول ایجوکیشن نے اٹھایا ہے۔ اب اصل امتحان نفاذ کا ہے۔ بلوچستان کا بچہ تعلیم کا حقدار ہے، اور یہ حق صرف اعداد و شمار پیش کرنے سے نہیں بلکہ ان پر عمل درآمد سے ملے گا۔