مدارسِ اسلامیہ کی تاریخ کا آغاز اصحابِ صفہؓ سے ہوتا ہے۔ یہ دنیائے اسلام کی پہلی درسگاہ تھی جس کے طلبہ صحابہ کرامؓ تھے اور جس کے استاد خود محمد رسول اللّٰہ ﷺتھے۔ یہ حقیقت تاریخِ اسلام کا ناقابلِ تردید باب ہے کہ اسلام کی ابتدائی صدیوں میں دینی اور عصری تعلیم کی کوئی تفریق موجود نہ تھی۔ دین اور دنیا کی یہ تقسیم جدید دور کی پیداوار ہے، اسلام کی تعلیمات اس سے بالکل ناآشنا ہیں۔
برصغیر پاک و ہند میں بھی 1857ء سے قبل دینی اور عصری تعلیم ایک ہی نظام کے تحت دی جاتی تھی۔ مدارس، مکتب اور درسگاہیں صرف عبادات یا فقہ تک محدود نہ تھیں بلکہ ریاضی، فلکیات، طب، تاریخ، منطق اور فلسفہ جیسے علوم بھی اسی نظام کا حصہ تھے۔ مگر 1857ء کی جنگِ آزادی کی ناکامی کے بعد جب انگریز نے برصغیر پر مکمل قبضہ جما لیا تو مسلمانوں سے صرف اقتدار ہی نہیں چھینا گیا بلکہ ان کا تعلیمی نظام بھی تہس نہس کر دیا گیا۔انگریز نے سب سے پہلی ضرب مسلمانوں کے نظامِ تعلیم پر لگائی۔ دینی اور عصری تعلیم کی مصنوعی تفریق پیدا کی گئی۔ مسلمانوں کے صدیوں پرانے نظامِ تعلیم کو فرسودہ قرار دے کر درسگاہوں سے نکال دیا گیا اور اس کی جگہ مغربی اور یورپی نظامِ تعلیم نافذ کیا گیا۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں مسلمانوں کو یہ شدید خطرہ لاحق ہو گیا کہ اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو دین سکھانے والا بھی باقی نہیں رہے گا۔
یہ خطرہ محض اندیشہ نہ تھا بلکہ ایک تلخ حقیقت بن چکا تھا۔ علماء کرام کی شدید قلت پیدا ہو گئی، قصبوں کے قصبے ایسے تھے جہاں کوئی عالم دین موجود نہ ہوتا۔ بعض علاقوں میں لوگ اپنی میتیں سنبھال کر رکھتے تھے اور جب کسی عالم دین کا گزر ہوتا تو اس سے نمازِ جنازہ پڑھوا کر تدفین کی جاتی۔ یہ وہ المناک صورتحال تھی جس نے مسلمانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔اسی اضطراری کیفیت میں برصغیر کے علماء کرام نے دینی تعلیمی نظام کے احیاء کا فیصلہ کیا۔ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے رفقاء نے دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی۔ یہ ادارہ کسی جدید نظامِ تعلیم کا مدِ مقابل نہیں تھا، نہ ہی کسی ضد یا تعصب کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا، بلکہ اس کا واحد مقصد دین کا تحفظ، علماء کی تیاری اور مسلمانوں کی دینی شناخت کو باقی رکھنا تھا۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ تحریک آزادی میں انہی علماء کرام کی جدوجہد اور قربانیوں کا بنیادی کردار رہا۔جسکے نتیجے میں 14اگست 1947ء کو مسلمانوں کو ایک آزاد ریاست ملی جہاں وہ اسلامی احکام کے مطابق زندگی گزارنے کیلئے آزاد تھے۔اصولی طور پر تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ قیامِ پاکستان کے بعد دینی اور عصری تعلیم کی یہ تفریق ختم کر دی جاتی اور اس کی جگہ ایسے اسکول، کالج اور جامعات قائم کی جاتیں جہاں دین اور دنیا کا حسین امتزاج موجود ہوتا۔ یہ حقیقی آزادی کا عملی اظہار ہوتا، مگر بدقسمتی سے پاکستان کو ابتدا ہی سے سیاسی، معاشی اور انتظامی بحرانوں کا سامنا رہا۔ ریاست اس قابل نہ ہو سکی کہ ایک جامع اور متوازن نظامِ تعلیم تشکیل دے سکے۔
یوں انگریز کے چھوڑے ہوئے نظامِ تعلیم کو جوں کا توں جاری رکھا گیا۔ نتیجتاً دینی اور عصری تعلیم کی تفریق ایک نظریہ بن گئی، حالانکہ اسلام اس کی ہرگز حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔ یہ تفریق دراصل عیسائی فکر سے ماخوذ ہے کہ قیصر کو اس کا حق دو اور کلیسا کو اس کا، جبکہ اسلام کا تصور اس کے بالکل برعکس ہے۔ اسلام میں بادشاہ اور عالم دین دونوں اللّٰہ کے بندے ہیں اور دونوں ہی شریعت کے پابند ہیں۔رفتہ رفتہ دینی اور عصری نظامِ تعلیم ایک دوسرے کے مدِ مقابل آ گئے۔ باہمی بداعتمادی، الزامات اور فکری تصادم نے جنم لیا۔ حالانکہ تاریخِ اسلام شاہد ہے کہ مسلمانوں نے کبھی بھی تعلیم کو دو خانوں میں بانٹ کر ترقی حاصل نہیں کی۔ جب تک دین اور دنیا ایک ساتھ رہے، مسلمان قیادت کرتے رہے، اور جب ان میں جدائی آئی تو زوال مقدر بن گیا۔
آج وقت کا تقاضا یہ ہے کہ دینی اور عصری تعلیم کے درمیان پل بنایا جائے۔ مدارس میں عصری علوم کو شامل کیا جائے اور اسکولوں و کالجوں میں دینی تعلیم کو اس کا جائز مقام دیا جائے۔ اگر مدارس قرونِ اولیٰ کے تعلیمی ماڈل کی نمائندگی کرنا چاہتے ہیں تو انہیں منطق اور فلسفہ کے ساتھ ساتھ ریاضی، سائنس، تاریخ، جغرافیہ، معاشیات اور جدید ٹیکنالوجی کو بھی نصاب کا حصہ بنانا ہوگا۔
دین کے بہت سے ابواب ایسے ہیں جنہیں جغرافیہ کے بغیر سمجھا نہیں جا سکتا، تاریخ کے بغیر تجزیہ ممکن نہیں، اور جدید دنیا میں کمپیوٹر اور جدید زبانوں کے بغیر دعوت و تبلیغ مؤثر نہیں رہ سکتی۔ اسی طرح سیرتِ نبویؐ، فکری مباحث اور عصرِ حاضر کے مسائل سے آگاہی کے بغیر علماء کرام معاشرے میں فعال اور رہنما کردار ادا نہیں کر سکتے۔
اس کے ساتھ ساتھ مدارس کو اپنے موجودہ نصاب پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔ بہت سی کتابیں جو کسی زمانے میں مفید تھیں، آج اپنی عملی افادیت کھو چکی ہیں۔ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ طالب علم کس فن پر کتنا وقت صرف کر رہا ہے اور کیا وہ وقت واقعی اس فن کی ضرورت کے مطابق ہے یا نہیں۔علامہ اقبالؒ نے اسی فکری جمود کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا:
ضمیرِ مشرق ہے راہبانہ، ضمیرِ مغرب ہے تاجرانہ
وہاں دگرگوں ہے لحظہ لحظہ، یہاں بدلتا نہیں زمانہ
اگر مدارس نے وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے دینی تشخص کے ساتھ عصری بصیرت کو اختیار کر لیا تو یہی ادارے ایک بار پھر امت کی فکری اور اخلاقی قیادت کا فریضہ سرانجام دے سکتے ہیں۔