• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بہتر طرزِ حکمرانی اور مؤثر انتظامی یونٹس

یورپی ممالک کے انتظامی نظام کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ تجربہ کار اور دیانت دار اعلیٰ سرکاری افسران کی صلاحیتوں سے ریاستی امور میں استفادہ کیا جاتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ایسے افراد کا تجربہ پالیسی سازی، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی خدمات کیلئے اہم ثابت ہو سکتا ہے اسلئے ان کو قومی ہیرو نہیں بلکہ” گولڈ “یعنی سونا سمجھا جاتا ہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی حکومتیں اہم امور پر ان سے مشاورت کرتی ہیں پاکستان میں بھی ریٹائرڈ افسران اور ماہرین کی صلاحیتوں سے قومی مفاد میں فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے، تاہم کسی بھی فرد یا ادارے کی کارکردگی کا جائزہ شفافیت، قانون اور عملی نتائج کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

پاکستان کو اس وقت غربت، بے روزگاری، مہنگائی، بنیادی سہولتوں کی غیر مساوی دستیابی اور انصاف کے حصول میں مشکلات جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ان مسائل کا تعلق صرف معاشی پالیسیوں سے نہیں بلکہ مجموعی طرزِ حکمرانی سے بھی ہے۔ حکومت کی کامیابی کا بنیادی پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ عام شہری کو روزگار، تعلیم، صحت، تحفظ، شفاف انتظامیہ اور بروقت انصاف کس حد تک میسر ہے۔ملک میں دیانتدارباصلاحیت اعلیٰ افسران موجود ہیں جن میںسے بعض افسران کو صرف سیاسی راہنماؤں کی پسند نا پسند کی بنیاد پر اوایس ڈی بنا کر ملک وقوم کو ان کی صلاحیتوں سے محروم رکھا جارہا ہے۔

ایک انتہائی دیانتدار سابق اعلیٰ سرکاری افسر سے گفتگو کے دوران ان کا مؤقف تھا کہ ملک کی موجودہ صورتحال گڈ گورننس، یکساں انصاف اور قومی سلامتی کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے مؤثر انتظامی اصلاحات کی متقاضی ہے۔ ان کے مطابق اگر نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے عوامی سہولت، ریاستی اداروں کی کارکردگی اور امن و امان میں بہتری لائی جا سکتی ہے تو اس تجویز کا جائزہ سیاسی وابستگی کے بجائے قومی مفاد اور عملی نتائج کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق ماضی میں پیش کی جانے والی تجاویز کی روشنی میں بہاولپور کو ایک ماڈل انتظامی یونٹ کے طور پر ترقی دینے پر غور کیا جا سکتا ہے۔

بہاولپور اور چولستان کے علاقے کو درپیش مسائل، خصوصاً پانی، روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں کی کمی، مقامی سطح پر بہتر انتظامی منصوبہ بندی کے متقاضی ہیں۔ تاہم کسی بھی نئے صوبے یا انتظامی یونٹ کے قیام سے قبل آئینی طریقۂ کار، عوامی نمائندگی، مالی وسائل، حدود اور انتظامی اختیارات کا تفصیلی جائزہ ضروری ہے۔

فرانس کا انتظامی نظام اور پاکستان کیلئے تقابلی پہلو:فرانس کا انتظامی نظام پاکستان کے صوبائی نظام سے مختلف ہے۔ فرانس میں 18ریجنز اور 101ڈپارٹمنٹس ہیں، جبکہ ملک کی بنیادی بلدیاتی اکائیاں کمیونز کہلاتی ہیں۔ ریجن اور ڈپارٹمنٹ کی سطح پر منتخب ادارے موجود ہیں، جبکہ مرکزی حکومت اپنے نمائندوں کے ذریعے ریاستی انتظامیہ اور قومی قوانین کے نفاذ کی نگرانی کرتی ہے۔

فرانس میں ریجنل کونسل، ڈپارٹمنٹل کونسل اور میئر و میونسپل کونسل جیسے منتخب ادارے اپنے اپنے دائرۂ کار میں کام کرتے ہیں۔ دوسری جانب پریفے مرکزی حکومت کا مقرر کردہ نمائندہ ہوتا ہے، جس کی ذمہ داری ریاستی انتظامیہ اور قومی پالیسیوں کے نفاذ سے متعلق ہوتی ہے۔ یہ نظام اس بات کی مثال پیش کرتا ہے کہ مرکزی حکومت اور مقامی منتخب ادارے مختلف ذمہ داریوں کے ساتھ ایک ہی ریاستی ڈھانچے میں کام کر سکتے ہیں۔

پاکستان کے لیے فرانس کا انتظامی نظام براہِ راست نقل کرنے کے بجائے اس کے بعض اصولوں کا مطالعہ مفید ہو سکتا ہے، خصوصاً مقامی حکومتوں کو اختیارات، مالی وسائل اور انتظامی ذمہ داریاں دینے کے حوالے سے۔ پاکستان کے حالات، آئینی تقاضے اور آبادی کے حجم کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا مؤثر نظام تشکیل دینا ضروری ہے۔پاکستان جیسے ملک میں جہاں آبادی کے مختلف طبقات معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، حکومت کی توجہ صرف بڑے ترقیاتی منصوبوں یا قومی اعلانات تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ عوام کی روزمرہ زندگی میں بہتری کے لیے ریاستی اداروں کی کارکردگی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مقامی سطح پر جواب دہی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

غربت کے خاتمے کے لیے چند بنیادی اقدامات ضروری ہیں۔ نوجوانوں کے لیے فنی تربیت، کاروبار، صنعت اور روزگار کے قابلِ اعتماد مواقع پیدا کیے جائیں۔غریب اور متوسط طبقے کو صحت و تعلیم کی معیاری بنیادی سہولتوں تک رسائی فراہم کی جائے تاکہ معاشی محرومی نسل در نسل منتقل نہ ہو۔

شہری کی مالی حیثیت، سیاسی وابستگی یا سماجی اثرورسوخ سے قطع نظر قانون کا یکساں اطلاق یقینی بنایا جائے۔سرکاری دفاتر میں رشوت، غیر ضروری تاخیر اور اختیارات کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی اور جواب دہی کا نظام قائم کیا جائے۔فیصلوں اور وسائل کو شہریوں کے قریب لایا جائے تاکہ عوام کو ہر چھوٹے بڑے مسئلے کے لیے صوبائی یا وفاقی دارالحکومت کا رخ نہ کرنا پڑے۔

اگر شہری کو بنیادی حقوق کے حصول کے لیے طویل انتظار، غیر ضروری اخراجات یا بااثر افراد کی سفارش کا سہارا لینا پڑے تو ریاست پر اس کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔ اسی لیے اچھی حکمرانی کو غربت کے خاتمے، معاشی ترقی اور سماجی استحکام کے ساتھ مربوط کرنا ضروری ہے۔پاکستان کو دہشت گردی اور امن و امان کے مسائل سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ انتظامی، معاشی اور سماجی اصلاحات کی بھی ضرورت ہے۔ دیرپا امن کے لیے ضروری ہے کہ شہریوں کو انصاف، تعلیم، صحت، روزگار اور ریاستی تحفظ کی قابلِ اعتماد سہولتیں حاصل ہوں۔ محض طاقت کے استعمال کے ساتھ اگر بنیادی عوامی مسائل حل نہ کیے جائیں تو امن و استحکام کے مقاصد متاثر ہو سکتے ہیں۔

پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام، اختیارات کی تقسیم اور مقامی حکومتوں کی مضبوطی پر بحث کو آئینی تقاضوں، عوامی رائے اور معاشی وسائل کے تناظر میں آگے بڑھانا چاہیے۔ ریاستی اصلاحات کا اصل مقصد انتظامی نقشہ تبدیل کرنا نہیں بلکہ شہریوں کو بہتر خدمات، مساوی مواقع، فوری انصاف اور محفوظ زندگی فراہم کرنا ہونا چاہیے۔ یہی طرزِ حکمرانی پاکستان کو غربت، بدانتظامی اور عدم مساوات کے مسائل سے نمٹنے میں مدد دے سکتا ہے۔

تازہ ترین