کراچی (رپورٹ:اعجاز احمد)بی آر ٹی اسٹیشنوں پر برقی زینے اورلفٹس فنی خرابی کے باعث بند پڑی ہیں جس کی وجہ سے معذور و معمر افراد ‘خواتین اور بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،سامان چوری یا انتہائی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، کراچی کے شہریوں نے وفاقی اور سندھ حکومت سےمعاملے پرفوری توجہ دینے اورسہولتیں بہتر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔تفصیلات کےمطابق پاکستان کے سب سے کامیاب اور آمدنی فراہم کرنے والے بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم ( بی آر ٹی) گرین لائن منصوبے کے متعدد اسٹیشنز پر نصب ’’ برقی زینے‘‘ ناکارہ ہوکر خراب ہوگئے ہیں، جنہیں تبدیل کیا جارہا ہے نہ ان کی مرمت کی جارہی ہے، جب کہ جہاں یہ برقی زینے درست حالت میں موجود ہیں، وہاں بھی انہیں چلایا ہی نہیں جارہا! جس کے باعث بزرگ مسافروں کے ساتھ ساتھ خواتین اور بچوں کے لیے بھی گرین لائن کے اسٹیشنز تک آمد و رفت انتہائی مشکل ہوگئی ہے۔ وفاقی حکومت کا منصوبہ بی آر ٹی ، گرین لائن، جس کا آپریشن اب سندھ حکومت کے پاس ہے، اس وقت عبداللہ موڑ، سرجانی ٹاؤن سے نمائش تک فعال ہےاور نمائش سے میونسپل پارک، جامع کلاتھ مارکیٹ تک دوسرے مرحلے کا تعمیراتی کام جاری ہے۔ گرین لائن کا روٹ گرومندر سے ناظم آباد اور نارتھ کراچی، ناگن چورنگی سے عبداللہ موڑ، سرجانی ٹاؤن تک سطح زمین سے بلند رکھا گیا ہے، جہاں تمام اسٹیشنز بھی سطح زمین سے بلند بنائے گئے ہیں، ان اسٹیشنز تک آمد و رفت کیلئے عام زینوں کے ساتھ ساتھ برقی زینے اور لفٹس بھی لگائی گئی ہیں،علاوہ ازیں زمینی اسٹیشنز پر بھی سڑک عبور کرنے کیلئے مذکورہ تینوں ذریعے موجود ہیں، مگر بیشتراسٹیشنز پر برقی زینے کام کررہے ہیں نہ لفٹ کی سہولت دستیاب ہے، بعض اسٹیشنز پر تو ان برقی زینوں کی ریلنگ اور دیگرسامان انتہائی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، لیکن متعلقہ حکام انہیں تبدیل یا مرمت کرنے پر کوئی توجہ نہیں دے رہے۔ ناظم آباد نمبر ایک اسٹیشن پر تعینات ایک محافذ نے بتایا کہ ان کی ڈیوٹی اوپر اسٹیشن تک محدود ہے، جب کہ سڑک پر اترنے والے برقی زینے کا سامان چوری ہوجاتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ منصوبہ ملک بھر میں سب سے زیادہ کام یاب اور حکومت کو آمدنی فراہم کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔کراچی کے شہریوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ بی آر ٹی، گرین لائن منصوبے میں نصب برقی زینوں، لفٹس اور دیگر سہولتوںکو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ انہیں مزید بہتر کیا جائے تاکہ مسافروں کو کسی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔