• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لاہور: مبینہ اجتماعی زیادتی، غیر ملکی خاتون کا بیان منظرِ عام پر آ گیا

—’جیو نیوز‘ گریب
—’جیو نیوز‘ گریب

لاہور کے علاقے ڈیفنس میں مبینہ اجتماعی زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون ڈیانا کا جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں قلم بند کروایا گیا بیان منظرِ عام پر آ گیا۔

عدالتی حکم کے مطابق غیر ملکی خاتون نے دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کرایا، خاتون کے بیان کی موبائل ریکارڈنگ کر کے اسے یو ایس بی میں ٹرانفسر کیا گیا ہے۔

غیر ملکی خاتون نے کہا ہے کہ میرا نام ڈیانا ہے، عمر 22 سال اور آذربائیجان سے تعلق ہے، 13 تاریخ کو استنبول سے اسلام آباد آئی تھی، اسلام آباد سے فیصل آباد گئی جہاں 5 دن رہی۔

بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ فیصل آباد سے لاہور آئی اور آگے اسکردو جانے کا پلان تھا، اکیلی ہونے کے باعث آگے سفر پر نہیں جا سکی، نمرہ اور مسکان کو میسج کیا کہ ہم ملتے ہیں۔

متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ اس دن رات 11 بجے اکیلے کیفے گئی جہاں مسکان سے ملاقات ہوئی، مسکان نے کہا کہ آگے دوست نمرہ انتظار کر رہی ہے وہاں جانا ہے۔

غیر ملکی خاتون نے کہا ہے کہ مسکان کے ہمراہ نمرہ کے پاس چلی گئی، وہاں ہم نے کھانا کھانا تھا، کچھ دیر بعد ایک گاڑی میں 2 لڑکے آئے، 1 کا نام محسن اور دوسرے کا نام احمد تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ نمرہ نے انہیں بھی کھانے کی دعوت دی، وہاں سے ہم ایک اپارٹمنٹ میں گئے اور وہاں کھانا کھایا، اس وقت وہاں 2 لڑکے اور آ گئے، ایک کا نام علی عزیز اور دوسرے کا نام معلوم نہیں۔

ڈیانا نے کہا ہے کہ نمرہ نے محسن سے 20، 30 ہزار روپے لے کر مجھے دیے جنہیں میں نے لینے سے انکار کیا، اس کے بعد محسن مجھے الگ کمرے میں لے گیا جہاں 3 لڑکے اور موجود تھے، میں نے نمرہ اور مسکان کا پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ چلی گئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ میں نے کہا کہ مجھے بھی جانے کی اجازت دو، انہوں نے کہا کہ آپ نہیں جا سکتیں، آپ کی دوست پیسے لے گئی ہیں، میں نے 30 ہزار روپے دینے کا کہا تو انہوں نے کہا کہ وہ زیادہ پیسے لے گئی ہیں۔

متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ علی عزیز نےکہا کہ تم ہمیں نہیں جانتیں کہ ہم کیا کر سکتے ہیں، علی عزیز نے بلیک میل کرنے کی بھی کوشش کی، اس نے کہا کہ پولیس کو ون فائیو پر کال کرتا ہوں، میں نے کہا کہ کال کر لو، میں ادھر ہی ہوں۔

غیر ملکی خاتون نے بتایا کہ 5 منٹ تک پولیس نہ آئی تو میں نے کہا کہ مجھے جانے دو، انہوں نے کہا کہ ہم نے شراب منگوائی ہے، ہمارے ساتھ پی لو، میں نے کہا کہ اگر شراب پی لوں تو جانے دو گے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں پھر جانے دیں گے۔

خاتون نے بتایا کہ شراب پینے کے بعد میں نے جانے کا کہا تو انہوں نے کہا کہ ادھر ہی سو جاؤ، نشہ اترے گا تو چلی جانا، اس کے بعد محسن، احمد اور علی عزیز تینوں نے مجھ سے زیادتی کی، بعد میں مجھے گاڑی میں ساتھ بٹھایا اور کہیں نکل پڑے، میرے پاس 2 لاکھ روپے پاکستانی کرنسی اور آئی فون تھا۔

ڈیانا کا کہنا ہے کہ انہوں نے کہا کہ چیزیں اس صورت میں واپس ہوں گی کہ تم پولیس کو شکایت نہیں کرو گی، گاڑی کا دروازہ کھولا اور مجھے دھکا دے کر اتار دیا گیا، اس وقت میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا، لوگوں کی مدد سے پولیس کو کال کی۔

قومی خبریں سے مزید