• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نئے این ایف سی ایوارڈ کے اجراء کا معاملہ پشاور ہائیکورٹ پہنچ گیا، جواب طلب

عدالت عالیہ پشاور نے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی ) سے نئے ایوارڈ کے اجراء سے متعلق جواب طلب کرلیا۔

پشاور ہائیکورٹ میں نیا این ایف سی ایوارڈ جاری نہ ہونے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی، عدالت نے اٹارنی جنرل کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔

معاملے کی سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس کامران حیات میاں خیل نے کی۔

عدالت نے این ایف سی سے جواب بھی طلب کیا ہے، درخواست گزار کے وکیل کے مطابق فاٹا انضمام کے بعد صوبے کی آبادی میں اضافہ ہوگیا ہے، آئین کے مطابق نئے این ایف سی ایوارڈ کا حصہ جاری کیا جائے۔

عدالت نے سوال کیا وفاق میں جب درخواست گزار کی پارٹی کی حکومت تھی تو اس وقت شیئر کیوں نہیں دیا گیا؟

ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ فاٹا انضمام سے پہلے این ایف سی ایوارڈ ہوا اس کے بعد ایوارڈ نہیں ہوا، فاٹا انضمام کے وقت وفاقی حکومت نے فیڈرل ڈویژبل پول سے صوبے کو 3 فیصد فنڈ دینےکی منظور دی۔

عدالت نے کہا کہ وفاقی حکومت کا اس معاملہ پر کیا ریسپانس ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ پر تمام ادارے استثنیٰ مانگ رہے ہیں۔

عدالت نے کہا تو پھر کون اس معاملے کو دیکھے گا؟ لگ رہا ہے کہ ہمیں اٹارنی جنرل کو بلانا پڑے گا۔

کیس کی مزید سماعت 11 نومبر تک ملتوی کردی گئی۔

قومی خبریں سے مزید