پاکستان کا سب سے سنگین بحران محض زرمبادلہ کی کمی، بڑھتے ہوئے قرضوں، غربت میں اضافے، منجمد برآمدات ، اربوں روپے کی بدعنوانی یا بار بار بین الاقوامی مالیاتی فنڈپر انحصار کا نام نہیں، یہ سب ایک بہت گہری ناکامی کی علامات ہیں۔ ہم آج تک ایسا نظام تشکیل نہیں دے سکے جس میں اہلیت، دیانت داری اور قابلِ پیمائش کارکردگی اس بات کا تعین کرے کہ ریاست کے معاملات کون چلائے گا۔ ایسے دور میں جب مصنوعی ذہانت، حیاتیاتی ٹیکنالوجی ، جدید مواد ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیاں اور علم پر مبنی صنعتیں دنیا کی معیشتوں پر غالب آ رہی ہیں، ممالک کو سیاسی سرپرستی اور انتظامی عجلت و غیر یقینی کے ذریعے کامیابی سے نہیں چلایا جا سکتا۔ پاکستان کو ایسے جمہوری نظام کی ضرورت ہے جس میں بہترین پیشہ ور ماہرین کو مخصوص اور اہم وزارتوں کی ذمہ داریاں سونپی جائیں۔ وزارتِ خزانہ کو ممتاز ماہرینِ معاشیات اور مالیاتی ماہرین کے سپرد کیا جائے۔ وزارتِ تعلیم کو ماہرینِ تعلیم چلائیں۔ وزارتِ صحت کی ذمہ داری سرکردہ ماہرینِ صحتِ عامہ کو دی جائے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارت ممتاز سائنسدانوں اور جدت کاروں کے حوالے کی جائے۔ زراعت کی ذمہ داری جدید زرعی ماہرین کو دی جائے اور صنعت ایسے افراد کے سپرد ہو جو عالمی سامان سازی، ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی منڈیوں کو بخوبی سمجھتے ہوں۔ سیاسی وفاداری کو کسی صورت پیشہ ورانہ اہلیت کا متبادل نہیں بننے دینا چاہئے۔ ایسا نظام پارلیمانی یا صدارتی جمہوریت، دونوں میں کام کر سکتا ہے۔ تاہم صدارتی نظام میں منتخب سربراہِ حکومت کیلئے یہ نسبتاً آسان ہوتا ہے کہ وہ دستیاب بہترین صلاحیتوں میں سے وزراء کا انتخاب کرے، بجائے اس کہ وہ بڑی حد تک پارلیمنٹ کے اراکین ہی میں سے وزراء مقرر کرنے تک محدود رہے۔ پاکستان جو بھی آئینی انتظام اختیار کرے، بنیادی اصول ایک ہی ہونا چاہیے: ملک کے ہر اہم قومی شعبے کی سربراہی کیلئے اسی شعبے کا ملک کا بہترین ماہر وفاقی وزیر یا سیکریٹری مقرر کیا جائے، اور اسکی اہلیت کو حوالہ جاتی اثر (Citations) اور بین الاقوامی پیٹنٹس و تحقیقی اشاعتوں جیسے قابلِ پیمائش پیمانوں سے جانچا جائے۔پارلیمنٹ کو بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ جو افراد جوہری توانائی، مصنوعی ذہانت، ٹیکس نظام، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، بین الاقوامی معاہدوں اور کھربوں روپے کے بجٹ کے بارے میں قانون سازی کریں، ان کیلئے کم از کم تعلیمی اور پیشہ ورانہ اہلیت تو مقرر ہونی چاہئے۔ پاکستان کو سنجیدگی سے اس امر پر غور کرنا چاہیے کہ پارلیمنٹ کے امیدواروں کیلئے کم از کم کسی تسلیم شدہ یونیورسٹی کی پی ایچ ڈی ڈگری یا اسکے مساوی پیشہ ورانہ قابلیت لازمی قرار دی جائے۔ اس کیساتھ ٹیکس کی پابندی، اثاثوں کا شفاف اعلان اور سنگین مالی بدعنوانی سے متعلق صاف ریکارڈ بھی ضروری ہو۔ جمہوریت کا مطلب عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے حکمرانی ہے اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ قومی قوانین بنانیکی ذمہ داری سونپے جانیوالے افراد کیلئے معقول معیارِ اہلیت ہی ختم کر دیے جائیں۔دیگر ایشیائی ممالک اس بات کی بہترین مثال پیش کرتے ہیں کہ پُرعزم قیادت کیا کچھ حاصل کر سکتی ہے۔ سنگاپور نے قدرتی وسائل سے محروم ایک چھوٹی ریاست سے خود کو دنیا کی ترقی یافتہ ترین معیشتوں میں تبدیل کیا، جس میں تعلیم، اہل انتظامیہ، صنعتی ترقی اور ٹیکنالوجی کو مرکزی اہمیت دی گئی۔ جنوبی کوریا نے تعلیم، انجینئرنگ اور تحقیق میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے ذریعے غربت سے نکل کر نیم موصل ، گاڑیوں اور برقیات کے شعبوں میں عالمی قیادت حاصل کی۔ چین نے ایک وسیع جدت طرازی اورسامان سازی نظام قائم کیا ہے، جبکہ ویتنام نے عالمی برقیات فراہمی چینز میں تیزی سے اپنی جگہ بنائی ہے۔ ان ممالک کے نظام ایک دوسرے سے مختلف ہیں، لیکن سب نے طویل المدت منصوبہ بندی، پیشہ ورانہ اداروں ، ٹیکنالوجی اور برآمدات کے ذریعے ترقی کا راستہ اختیار کیا ہے۔ پاکستان کو بھی اسی طرح ایسی معیشت سے نجات حاصل کرنا ہوگی جو بڑی حد تک کم قدر والی پیداوارپر مبنی ہو۔ ہمارا مقصد اعلیٰ ٹیکنالوجی اور قدر افزا برآمدات میں بھرپور توسیع ہونا چاہیے۔ اس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی مصنوعات، ادویات اور ویکسینز، برقیات، انجینئرنگ مصنوعات، زرعی ٹیکنالوجیاں، پراسیس شدہ معدنیات ، قابلِ تجدید توانائی کے آلات، خصوصی کیمیات، دفاعی ٹیکنالوجیاںاور دیگر علم پر مبنی مصنوعات شامل ہونی چاہئیں۔اس کوشش کو قابلِ پیمائش قومی اہداف میں تبدیل کرنا ہوگا۔
ہر وزیر اور سیکریٹری کو متعلقہ وزارت کے شعبے میں دستیاب بہترین ماہرین میں شامل ہونا چاہیے اور اسے واضح طور پر متعین چار سالہ کارکردگی معاہدے کے تحت کام کرنا چاہیے۔ ہر وزارت کیلئے لازم قرار دیا جائے کہ وہ اپنے شعبے کی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی صنعتیں اور پروگرام تشکیل دے جو چار سال کے اندر اضافی 5 سے 10 ارب ڈالر کی برآمدات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ پیش رفت کا ہر سال آزادانہ جائزہ لیا جائے اور اگر وزراء اور سیکریٹریز مقررہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہیں تو انہیں عہدوں سے ہٹا دیا جائے۔ اگر 20 بڑے شعبے بھی صرف 5ارب ڈالر فی شعبہ اضافی برآمدات پیدا کریں تو پاکستان کی سالانہ برآمدات میں مزید 100ارب ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم صرف اسلام آباد میں اصلاحات کرنا پاکستان کے مسائل حل نہیں کریگا۔ سیاسی اور مالیاتی اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ہوگا۔ وفاقی اور صوبائی دارالحکومتوں میں بہت زیادہ مالی وسائل اور انتظامی اختیارات مرکوز ہیں۔ آئینی طور پر محفوظ حصہ، ترجیحاً صوبائی بجٹوں کا 90فیصد، براہِ راست وفاقی بجٹ سے، نہ کہ صوبوں کے ذریعے، منتخب ضلعی، میونسپل، ٹاؤن اور یونین کونسل حکومتوںکو منتقل کیا جانا چاہیے۔ اس تقسیم کیلئے آبادی، محرومی ، بنیادی ڈھانچے کی ضروریات اور کارکردگی پر مبنی شفاف فارمولے وضع کیے جائیں۔ اس مقصد کو آئینی ترمیم کے ذریعے لازمی قرار دیا جانا چاہئے۔ پاکستان کو انتظامی کارکردگی کی بنیاد پر کم از کم 40 مزید صوبے بنانے کے امکان کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہئے۔ ان صوبوں کی تشکیل لسانی، نسلی یا سیاسی بنیادوں کے بجائے صرف انتظامی کارکردگی کو مدنظر رکھ کر کی جائے۔ کروڑوں کی آبادی رکھنے والے صوبوں کو دور واقع دارالحکومتوں سے مؤثر انداز میں چلانا مشکل ہوتا ہے۔ ایک غیر جانب دار قومی کمیشن کو آبادی، جغرافیہ، معاشی استعداد ، رسائی اور عوامی خدمات کی فراہمی کے معیار کی بنیاد پر نئی حدود کا تعین کرنا چاہیے۔ چھوٹے انتظامی صوبے حکومت کو عوام کے قریب لائیں گے اور مختلف علاقوں کے درمیان صحت مند مسابقت کو فروغ دیں گے، بغیر اس کے کہ نسلی یا لسانی تقسیم مزید مضبوط ہو۔ ان میں سے کسی بھی اقدام کے لیے جمہوریت کو کمزور کرنیکی ضرورت نہیں۔ پارلیمنٹ کو قانون سازی اور انتظامیہ کی نگرانی کرنی چاہئے۔ عدلیہ ، الیکشن کمیشن ، میڈیا اور آئینی ادارے مضبوط اور آزاد رہنے چاہئیں۔ مقامی حکومتیں منتخب بھی ہوں اور انہیں مالی اختیارات بھی حاصل ہوں۔ پاکستان کے پاس ملک کے اندر اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں میں ممتاز سائنسدان، انجینئرز، ڈاکٹرز، ماہرینِ معاشیات، کاروباری افراد اور پیشہ ور ماہرین موجود ہیں۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ صلاحیتوں کی کمی نہیں ہے بلکہ ہم نے ان صلاحیتوں کو فیصلہ سازی کے مرکز میں نہیں رکھا۔ پاکستان کو شخصیات کی سیاست سے کارکردگی کی سیاست کی طرف۔
مرکزیت سے بااختیار مقامی حکومت کی طرف۔ نسلی انتظامی ڈھانچوں سے مؤثر انتظامی اکائیوں کی طرف اور قرض لینے اور کھپت سے علم پر مبنی پیداوار اور برآمدات کی طرف منتقل ہونا ہوگا۔ جمہوریت کا قائم رہنا جتنا ضروری ہے، اتنا جمہوریت کا نتیجہ خیز ہونا بھی ضروری ہے۔ پاکستان کو اب ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو اہلیت، تعلیم، سائنس، قابلِ پیمائش اہداف اور جواب دہی کی بنیاد پر قائم ہو۔