کسی بھی معاشرے کی زندگی میں کچھ ایسے لمحات آتے ہیں جب ایک بظاہر سادہ سا خیال ہمیں پوری ایک روایت پر نئے سرے سے غور کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ماں کا تصور، گھر بار سنبھالنے والی عورت جو پورے خاندان کو جوڑے رکھتی ہے، بظاہر مانوس اور معمولی سا لگتا ہے۔ مگر حقیقت میں وہ ہمارے معاشرے میں قیادت، انتظام اور انسانی سرمائے کے سب سے کم قدر کیے جانے والے خزانوں میں سے ایک ہے۔
ایک عام مشترکہ خاندان کا ڈھانچہ ذرا دیکھیے۔ گھر میں ایک کفیل ہوتا ہے (اگرچہ یہ صورتحال اب بدل رہی ہے)، ایک مرد جو ہر صبح گھر سے نکلتا ہے اور ہر شام واپس لوٹتا ہے، پورے گھرانے کا مالی بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے۔ اسی چھت تلے اسکے بزرگ والدین، اسکی بیوی، اسکے بچے، اسکی غیر شادی شدہ یا مہمان بہنیں، اور اکثر گھریلو ملازمین بھی رہتے ہیں۔ ہر مہینے وہ اپنی بیوی کے ہاتھ میں ایک مقررہ اور محدود رقم تھما دیتا ہے، اور اسکے ساتھ ایک غیر تحریری مگر مکمل ذمہ داری: اسی میں گزارا کرنا ہے۔ اگر وہ یہ ذمہ داری خوش اسلوبی سے نبھاتی ہے تو وہ بغیر کسی باضابطہ عہدے کے، گھر کی مالیاتی سربراہ کا کردار ادا کر رہی ہوتی ہے۔
وہ محدود وسائل کو مختلف مسابقتی ضروریات میں تقسیم کرتی ہے۔ وہ اندازے لگاتی ہے، بچت کرتی ہے، غیر متوقع اخراجات برداشت کرتی ہے، اور ہر مہینے کے آخر میں بغیر کسی محاسب، بغیر کسی سافٹ ویئر اور بغیر کسی تنخواہ کے حساب برابر کرتی ہے۔ اس نے، عملاً، ایک محاسب، ایک مالیاتی منتظم اور ایک حکمتِ عملی ساز کی وہ صلاحیتیں پیدا کر لی ہیں جنہیں حاصل کرنےکیلئے کوئی بھی ادارہ منہ مانگی قیمت دینے کو تیار ہوگا۔
مگر اس کا دن یہیں ختم نہیں ہوتا۔ شوہر ایک طویل اور تھکا دینے والے دن کے بعد گھر لوٹتا ہے، اور ابھی وہ سکون سے بیٹھا بھی نہیں ہوتا کہ اس کی والدہ اسے اوپر بلا لیتی ہیں۔ ان کے پاس اپنی بہو کے خلاف شکایات کی ایک فہرست ہوتی ہے، عموماً مختصر مگر نپی تلی۔ شوہر بدلے میں اپنی بیوی کو بلا کر یہ معاملات اس کے سامنے رکھتا ہے۔ اب اسے سننا ہے، جواب دینا ہے، کشیدگی کم کرنی ہے، اور دو ایسے افراد کے درمیان تناؤ ختم کرنا ہے جن سے وہ محبت بھی کرتی ہے اور جن پر انحصار بھی رکھتی ہے، بغیر کسی کو ناراض کیے۔ اس عمل میں وہ حقیقی وقت میں، حقیقی دباؤ کے تحت، تنازعات کے انتظام کی وہ مہارت سیکھ رہی ہوتی ہے جس کیلئے ادارے اپنے اعلیٰ عہدیداران کو مہنگی تربیتی ورکشاپوں میں بھیجتے ہیں۔
اور پھر وہ لمحہ آتا ہے جب اسے مقررہ بجٹ سے ہٹ کر کسی چیز کیلئے اپنے شوہر سے پیسے مانگنے پڑتے ہیں۔ اس کے پاس ایک انتخاب ہوتا ہے۔ وہ مطالبہ کر سکتی ہے اور جھگڑے کا خطرہ مول لے سکتی ہے، جس کے نتیجے میں دونوں طرف رنجش رہ سکتی ہے، اگر وہ رقم مل بھی جائے تویا وہ اپنی تمام سیکھی ہوئی مہارتوں کو بروئے کار لا کر مذاکرات کر سکتی ہے: صبر، مہارت اور حکمتِ عملی کے ساتھ۔ اس عمل میں وہ مذاکرات اور اقناع کی وہ مہارتیں سیکھ لیتی ہے جنہیں بورڈ رومز میں بیش قیمت سمجھا جاتا ہے، مگر یہاں یہ اپنے خاندان کی بقا اور وقار کیلئے، مکمل طور پر بلا معاوضہ اور بلا اعتراف، بروئے کار لائی جاتی ہیں۔یہ سب جمع کیجیے تو کیا ملتا ہے؟ ایک ایسی عورت جو بیک وقت ایک مالیاتی افسر، ایک مذاکرات کار، ایک سفارت کار، ایک مشیر، ایک رہنما، ایک مربی، گہری جذباتی ذہانت اور ہمدردی کا سرچشمہ ہے۔ اگر اس گھریلو دائرے کو ہٹا کر انہی صلاحیتوں کو کسی کارپوریٹ ریزیومے پر رکھ دیا جائے، تو ہمارے سامنے ایک غیر معمولی رہنما کا خاکہ ہوگا، ایسا امیدوار جسے حاصل کرنے کیلئےکوئی بھی سنجیدہ ادارہ لڑ پڑے۔
مگر اس مسلسل جدوجہد کے دوران، اس کے کوائف میں ایک نہایت اہم چیز نمایاں طور پر غائب ہوتی ہے: اپنے لیے وقت۔ وہ عورت جو پورے گھرانے کی جذباتی اور مالی بہبود کا انتظام کرتی ہے، شاذ ہی اپنی بہبود کا حساب رکھتی ہے۔ وہ بیٹی جسکے کبھی سہارے کیلئے والدین تھے، وہ بہن جسکے پاس ہنسنے اور جھگڑنے کیلئے بہن بھائی تھے، آہستہ آہستہ پس منظر میں چلی جاتی ہے، جب وہ سب کی ”ماما“ بن جاتی ہے۔ اسکے اپنے والدین اس فون کال کا انتظار کرتے ہیں جو مسلسل ٹلتی رہتی ہے اسکے بہن بھائی سوچتے رہتے ہیں کہ آخر کب اسے ایک فارغ شام ملے گی جس میں وہ صرف بیٹھ کر بات کر سکے، ایک مسئلہ حل کرنے والی کے طور پر نہیں بلکہ خود اپنی ذات کے طور پر۔
یہ کوئی معمولی بات نہیں، یہ ایک واضح خلا ہے۔ کوئی بھی ادارہ جو اپنی بہترین رہنما کو کبھی آرام دیے بغیر تھکا ڈالے، اسے ناقص انتظام کے طعنے دیے جائیں گے۔ تو پھر ہم اسے گھر میں معمول کیوں سمجھ لیتے ہیں؟اور پھر بھی ہم نے اور یہ بات میں خاص طور پر اپنے مردوں سے کہہ رہا ہوں، اسے کبھی اس نظر سے دیکھا ہی نہیں۔ آخر کیوں نہیں؟ اس لیے کہ ہم اسے مسلمہ سمجھ بیٹھے ہیں۔ ہم روزانہ اس کی محنت اور اس کی قیادت سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اور بدلے میں دونوں پر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔یہ رویہ بدلنا ہوگا، خیرات کے طور پر نہیں بلکہ حکمتِ عملی کے طور پر۔ اسے بااختیار بنائیے۔ اسے تعلیم دیجیے۔
میں یہ بات ذاتی اور پیشہ ورانہ تجربے کی روشنی میں، پورے یقین کے ساتھ کہتا ہوں: پاکستان کی قسمت اس وقت تک واقعی نہیں بدلے گی جب تک ہم ایمانداری سے ”ماں“ کا اعتراف نہیں کرتے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس پر سنجیدگی سے بات کریں، اپنے گھروں میں، اپنے بورڈ رومز میں، اپنے پالیسی حلقوں میں، اور حقیقی، سوچے سمجھے اقدامات اٹھائیں تاکہ اسکی شناخت کو تسلیم کریں، اس کی تعلیم میں سرمایہ کاری کریں، اور وہ مواقع اس کے حوالے کریں جو وہ ہزاروں گھرانوں میں ہزار بار ثابت کر چکی ہے کہ اس کی حقدار ہے۔ وہ محض اس لمحے کا سامنا نہیں کرے گی۔ وہ ہمیں حیران کر دے گی، کیونکہ وہ اپنے ساتھ وہ چیز لے کر آتی ہے جسے بیشتر قیادت کے ادارے آج بھی تیار کرنے کی کوشش میں لگے ہیں: نظم و ضبط، ہمدردی اور عزم کا ایک نایاب امتزاج، جو روزانہ سب سے مشکل بورڈ روم میں آزمایا جاتا ہے، یعنی گھر میں۔