کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سیاسی استحکام آئیگا تو دہشت گردی کا مقابلہ کرسکیں گے، پی ٹی آئی سیاسی اور دہشتگردی سے متعلق معاملات کو الگ رکھے،حکومت نے کے پی میں گورنر راج کا ذہن بنالیا تھا ،لیکن پیپلز پارٹی نے مشورہ دیا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی سے پہلے مسئلے کا سیاسی حل ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے، وفاق میں بیٹھے دوست کراچی کو وسائل نہیں دیتے اورمذاق بھی اڑاتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو گریٹر کراچی سیوریج پلان کے ٹریٹمنٹ پلانٹ ون کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔بلاول بھٹوزرداری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو قائل کرنے کی کوشش کرینگے کہ وہ لانگ مارچ ملتوی کر کے وفاق کے ساتھ دہشت گردی کے معاملے پر بیٹھے،انھوں نے کہاکہ پی ٹی آئی سیاسی اور دہشت گردی سے متعلق معاملات کو الگ رکھے، کیونکہ جب آپ سیاست پر توجہ دیتے ہیں تو خیبر پختونخوا میں دہشت گردی بڑھ جاتی ہے، پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ مل کر کرنا ہوگا، افغانستان کی جانب سے حملے ہو رہے ہیں اس کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے،بلاول کاکہنا تھا کہ وفاق میں بیٹھے دوست کمنٹ کرتے ہیں کہ کراچی کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا جاتا ہے، کہتے ہیں کراچی کو پانی نہیں ملتا، میں نے بتایا کہ ہم پانی کیوں نہیں دیتے، واٹر اکارڈ کے تحت جو پانی صوبے کو ملنا چاہئےوہ نہیں ملتا، کراچی کیلئے اضافی پانی مانگا لیکن شہریوں کو اس حق سے بھی محروم رکھا گیا، یہاں بجلی اور گیس کی بھی لوڈشیڈنگ ہے، وسائل دیتے بھی نہیں اور مذاق بھی اڑاتے ہیں، ٹریٹمنٹ پراجیکٹ کیلئے50 فیصد فنڈ دینے کا وعدہ وفاق نے پورا نہیں کیا، کے فور پر توجہ نہیں دی جاتی، سکھر اور حیدرآباد کا موٹروے دیا جائے، پورے ملک میں موٹروے بن سکتا ہے مگر یہاں نہیں، شہباز اسپیڈ سندھ میں نظر نہیں آتی، وفاق ہمیں مایوس کرتا رہتا ہے، ہم وفاقی وزراء کی شکایتیں سنتے اور اپنا کام کرتے رہیں گے۔