وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے مذاکراتی کمیٹی کو بھیجا گیا مسودہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈرافٹ میں کوئی غیر آئینی یا غیر قانونی مطالبہ شامل نہیں تھا۔
سہیل آفریدی کے مطابق مسودے میں سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوری عمل کے تسلسل پر اتفاق کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
مسودے میں وزیراعظم اور دونوں ایوانوں میں قائدینِ حزب اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقات کا اہتمام کرنے اور ملاقات میں اہم سیاسی، قومی، آئینی، قانونی و جمہوری معاملات سمیت زیرِ التوا امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کی تجویز دی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا ہے کہ وزیراعظم حکومتی اتحاد، پیپلزپارٹی اور اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل مشترکہ مذاکراتی کمیٹی تشکیل دیں، جبکہ سیاسی اور قومی معاملات باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ مسودے میں جیل مینول اور مروجہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قانونی، انسانی اور طبی حقوق فراہم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، ملاقاتوں کا انعقاد قانون اور جیل قواعد و ضوابط کے مطابق کرنے اور ملاقات کی سہولت کو سیاسی یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال نہ کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
سہیل آفریدی کے مطابق خواتین، بزرگ اور بیمار قیدیوں کے مقدمات میں غیر ضروری تاخیر ختم کی جائے، جبکہ یاسمین راشد، بشریٰ بی بی سمیت سیاسی قیدی خواتین کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کیا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ مسودے میں سیاسی مذاکراتی کمیٹی کو ایک ماہ میں قابلِ عمل سفارشات پیش کرنے، جمہوریت، سیاست، عدلیہ اور آزادیٔ صحافت کو مکمل طور پر یقینی بنانے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا ہے کہ وفاق کی تحریری یقین دہانی پر پی ٹی آئی موجودہ لانگ مارچ منسوخ کرے گی۔