• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مذاکرات میں پی ٹی آئی وفد کے پاس فیصلہ کرنے کا مینڈیٹ نہیں تھا: طارق فضل چوہدری

فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور  طارق فضل چوہدری نے کہا کہ مذاکرات میں پی ٹی آئی کے وفد کے پاس فیصلہ کرنے کا مینڈیٹ نہیں تھا۔

جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا اصل مقصد لانگ مارچ روکنا نہیں بلکہ دہشت گردی کا خاتمہ تھا۔ مذاکرات میں سہیل آفریدی یا صوبائی حکومت کا کوئی نمائندہ موجود ہوتا تو بہتر ہوتا۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ یہ لانگ مارچ نہیں بلکہ ایک صوبے کی وفاق پر چڑھائی ہے۔ لانگ مارچ ہمارے لیے نہ پہلے دردِ سر تھا اور نہ آج ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی وفد نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پی ٹی آئی کے وفد کے سامنے 7 مطالبات رکھے تھے، بتایا جائے ان میں سے کون سا مطالبہ غیر آئینی یا قابلِ عمل نہیں۔

طارق فضل چوہدری کے مطابق حکومتی وفد کے مطالبات میں کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گردوں کی مذمت شامل تھی۔

دوسرے مطالبے میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا مکمل خاتمہ، تیسرے میں افغانستان سے متعلق طے شدہ خارجہ پالیسی پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

چوتھے مطالبے میں افغان مہاجرین کی واپسی، پانچویں میں خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ پر نظرثانی، چھٹے میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں افواج پاکستان کے ساتھ تعاون اور ساتویں مطالبے میں نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل درآمد شامل تھا۔

قومی خبریں سے مزید