ہر روز بڑھتی ہوئی مہنگائی کروڑوں پاکستانیوں کا سب سے زیادہ پریشان کن مسئلہ ہے ۔ یہ سلسلہ یوں تو برسوںپراناہے لیکن ایران امریکہ جنگ کی وجہ سے تیل کی عالمی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور اس کے نتیجے میں کھانے پینے کی اشیاء سمیت تمام ضروریات زندگی کی گرانی کی ہولناک رفتار نے تو محدود آمدنی والے گھرانوں کی زندگی کو بالکل ہی عذاب بنا دیا ہے۔ صبح ناشتے کا سامان لینے جائیں تو ہر چند روز بعد کبھی دودھ دہی، کبھی ڈبل روٹی مکھن اور پاپے کی قیمت میں دس بیس روپے بڑھ جانے کی خبر ملتی ہے۔ کراچی میں بیس روپے والا تندوری نان تیس پینتیس روپے تک اور پندرہ روپے والی چپاتی پچیس تیس روپے تک جاپہنچی ہے۔ یہی معاملہ بیشتر اشیائے خور ونوش کا ہے۔بچوں کے اسکول کی فیسیں اور دیگر اخراجات بھی اسی طرح بڑھ رہے ہیں اور عوام الناس کیلئے جسم وجان کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ ادارہ شماریات کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 11.53فیصد پرپہنچ گئی ہے۔ ایل پی جی 66.59،بجلی 58.59،ڈیزل 44.50 ، پیٹرول 44.05اور گندم کا آٹا 32.65 فی صد مہنگا ہوا ہے۔واضح رہے کہ یہ شرح مہنگائی بڑھنے کی رفتار کی ہے جس میں کمی ہو تب بھی اس کا مطلب مہنگائی میں کمی نہیں بلکہ مہنگائی میں اضافے کی رفتار میں کمی ہوتا ہے۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ محدود تنخواہ دار گھرانوں کی قوت خرید میں مسلسل کمی واقع ہوتی چلی جارہی ہے اور کل کے امیر گھرانے آج غریبوں میں شامل ہوچکے ہیں۔ محدود آمدنی والے گھرانوں کی مالی حیثیت مستحکم رکھنا اسی صورت میں ممکن ہے جب انکی آمدنی میں بھی مہنگائی کی رفتار کے مطابق اضافہ ہوتا رہے۔ ڈاکٹر محبوب الحق نے اپنے دور وزارت خزانہ میں تمام سرکاری اور نجی اداروں کیلئے لازم کیا تھا کہ وہ کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا طریقہ اپنائیں۔ اس ہدایت پر کتنا عمل ہوا اور کتنا نہیں اور یہ کہ ایسا کرنا ممکن بھی ہے یا نہیں، یہ ایک الگ بحث ہے لیکن شہریوں کی مالی حیثیت کو بہرکیف اسی طرح مستحکم رکھا جاسکتا ہے۔ سرکاری ملازموں کی تنخواہوں اور پنشنوں میں تو ہر سال بجٹ کیساتھ ہی معقول اضافہ ہوجاتاہے لیکن بیشتر نجی اداروں کے ملازم برسوں پرانی تنخواہوں ہی پر گزارہ کرنے پر مجبور ہیں اگرچہ ماضی میں اکثر نجی اداروں میں بھی سالانہ انکریمنٹ اور بونس وغیرہ کا اہتمام ہوتا تھا لیکن غالباً اب مجموعی معاشی ابتری کے باعث یہ تکلفات بالعموم قصہ پارینہ بن گئے ہیں۔ لہٰذامسئلے کا حل مہنگائی میں کمی کی تدابیر کی تلاش اور ان پر عمل ہی سے ممکن ہے ۔
اس ضمن میں سب سے پہلا اقدام حکمرانوں، ارکان اسمبلی نیز اعلیٰ سول اور جوڈیشل افسروں کی تمام ایسی مراعات پر پابندی ہونا چاہیے جن کا دولتمند اور ترقی یافتہ ملکوں میں بھی کوئی تصور نہیں۔کئی کئی قیمتی گاڑیوں، ملازمین کی فوج، مفت رہائش، بجلی گیس ٹیلی فون اور دیگر سہولتیں اس میں شامل ہیں۔ اس ضرورت کا اظہار ہر دور میں کیا جاتا رہا ہے لیکن عمل کا خانہ اب تک خالی ہے تاہم اب اس میں مزید تاخیر کھلی عوام دشمنی ہوگی۔ مہنگائی میں کمی کی ایک مؤثر تدبیر ڈالر کی قیمت کا نیچے لانا ہے۔سابق وزیر خزانہ اور موجودہ وزیر خارجہ اسحق ڈار ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت کم کرنے کے ہمیشہ مخالف رہے ہیں۔ میاںنواز شریف کے دور میں بحیثیت وزیر خزانہ انہوں نے اسی حکمت عملی کے تحت ڈالر کی قدر بڑھنے نہیں دی تھی۔ پی ڈی ایم کی حکومت میں جب وہ پھر وزیر خزانہ بنے تو ڈالر ڈھائی سو روپے کے قریب تھا اورتین اکتوبر 2022ء کو اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے آئی ایم ایف کی پابندیوں کے باوجود کہا تھا کہ’’ میں ہمیشہ سے روپے کی ڈی ویلیوایشن کے خلاف ہوں۔ اس وقت ڈالر اگرچہ بین الاقوامی طور پر مضبوط ہے لیکن ہم اپنی پالیسیوں کے تحت اسے دو سو روپے سے کم پر لائیں گے۔ ڈالر کی قیمت پر نظر رکھنا اسٹیٹ بینک کی ذمے داری ہے ۔‘‘ لیکن ان کے بعد یہ پالیسی جاری نہیں رہی اور ڈالر تین سو سے بھی اوپر چلاگیا گوکہ اب ڈالر کی قیمت280روپے سے کم پر مستحکم رکھی جارہی ہے۔ تاہم اگر اب بھی اسحق ڈار کی حکمت عملی کے ذریعے ڈالر کی قیمت میں کوئی نمایاں کمی لائی جاسکے تو تمام درآمدی اشیا خود بخود سستی ہوجائینگی جسکا نہایت مثبت اثر یقیناََ ملکی اشیاء کی قیمتوں پر بھی مرتب ہوگا اور نہ صرف یہ کہ مہنگائی میں اضافے کا سلسلہ رک جائیگا بلکہ ان شاء اللہ حقیقی کمی بھی واقع ہوگی۔ ڈالر کی قیمت میں کمی کیلئے برآمدات میں اضافہ شرط لازم ہے ۔ قومی خزانے میں ڈالر کے ذخائر بڑھیں گے تو روپے کی قدر بھی خود بخود بہتر ہوتی جائے گی اور مہنگائی میں کمی آئیگی۔برآمدات میں اضافہ زرعی اور صنعتی پیداوار کو عالمی سطح پر مسابقت کے لائق بنانے ہی سے ممکن ہے۔اس کیلئے بجلی کے نرخوں میں کمی ناگزیر ہے جو آئی پی پیز کے من مانے معاہدے ختم کرکے کی جاسکتی ہے لہٰذا جس طرح بھی ممکن ہو ، یہ ہدف حاصل کیا جانا چاہیے ۔ زراعت اور صنعت میں سولر پاور اور ونڈ پاور کے استعمال کی بھی ہر ممکن حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے ۔ اس طرح ہر قسم کی پیداوار کی لاگت حیرت انگیز طور پر کم ہوجائیگی اور اشیاء کے نرخ بآسانی نیچے لائے جاسکیں گے۔بیرونی زرمبادلہ کے بڑے پیمانے پر حصول کا ایک بہت بڑا ذریعہ فری لانس سافٹ وئیر ماہرین ہیں، ان کی بڑی تعداد میں تیاری زیر عمل حکومتی منصوبوں میں شامل ہے ، اسکے امید افزا نتائج بھی سامنے آرہے ہیں تاہم انکی عام آدمی تک پہنچ یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ مجموعی معاشی بحالی کیلئے ملک کے اقتصادی حکمت کاروں کو وسیع تر مشاورت کا اہتمام بھی کرنا چاہئے تاکہ زیادہ بہتر اور نتیجہ خیز حکمت عملی تشکیل دی جاسکے۔