مصنّفہ: ڈاکٹر نزہت انیس
صفحات: 1040، قیمت: 2500
ناشر: لعٰبہ پبلی کیشنز، کراچی۔
فون نمبر: 2278878 - 0343
زیرِ نظر کتاب ڈاکٹر نزہت انیس کا وہ تحقیقی مقالہ ہے، جو صدر شعبہ اُردو، جامعہ کراچی، ڈاکٹر تنظیم الفردوس کی زیرِ نگرانی لکھا گیا اور جس پر 2019ء میں انہیں جامعہ کراچی کی طرف سے پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض ہوئی۔ ڈاکٹر نزہت انیس شاعرہ بھی ہیں، لیکن ایک محقّقہ کی حیثیت سے اُنہیں اہم مقام حاصل ہے۔ کتاب کُل9 ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں ابتلاء سے انیسویں صدی تک کے مسلمانوں کی تاریخ اور اُردو شاعری کا احاطہ کیا گیا ہے۔
دوسرا باب انیسویں صدی تک اُردو شاعری کے قومی اور سیاسی موضوعات کا احاطہ کرتا ہے۔ تیسرا باب مشرقِ وسطیٰ کی صُورتِ حال سے متعلق ہے۔ چوتھے باب میں مجموعی طور پر بیسویں صدی میں وسط ایشیا کے حالات و معاملات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ پانچویں باب میں خطّۂ جنوبی ایشیا کے معاملات کا بیان اور اس حوالے سے اُردو شعرا کے تاثرات کا جائزہ موجود ہے۔
چھٹا باب، مشرقی یورپ کے مُلک بوسنیا ہرزیگووینیا کے معاملات پرمشتمل ہے۔ ساتواں باب شمال افریقی اور قرن افریقی مسملان ممالک سے متعلق ہے۔ آٹھویں باب میں بطورِخاص امریکی جارحیت کا جائزہ لیا گیا ہے اور آخری باب، بیسویں صدی میں عالمِ اسلام کی صُورتِ حال کے مجموعی طور پر تحقیقی، تنقیدی اور تجزیاتی مطالعے پر مبنی ہے۔ یہ کتاب ادب و تحقیق کے طالب علموں کے لیے ایک دستاویز کا درجہ رکھتی ہے۔
کتاب کی تیاری کے ضمن میں جن کتب خانوں سے استفادہ کیا گیا ہے، آخر میں، اُن کے نام بھی دے دیے گئے ہیں۔ بجا طور پرکہا جا سکتا ہے کہ کتاب میں بیسویں صدی کی اُردو شاعری میں عالمِ اسلام کے المیوں کی نہایت جامع انداز میں عکّاسی کی گئی ہے اور یہ محض ایک کتاب ہی نہیں، ادبی تاریخ کا بنیادی حوالہ بھی ہے۔
تحقیق کوئی آسان شعبہ نہیں اور جو لوگ تحقیقی کاموں کو جزوِ زندگی بنائے ہوئے ہیں، اُن میں یقیناً ڈاکٹر نزہت انیس کا نام سنہری حروف سے لکھا جائے گا کہ بلاشبہ اُنہوں نے تحقیق کاحق ادا کردیا ہے۔ کتاب میں اُن کی بھرپور محنت نظر آرہی ہے اور ہمیں یہ کہنےمیں کوئی عارنہیں کہ ایسی کتاب وہی محقّق تصنیف کرسکتا ہے، جسے اپنے کام سے عشق ہو۔