مصنّف: صغیر احمد خان
مرتب: ڈاکٹر شیما ربانی
صفحات: 144، قیمت: 1200
ناشر: رنگِ ادب پبلی کیشنز، آفس نمبر 5، کتاب مارکیٹ، اُردو بازار، کراچی۔
فون نمبر: 2610434- 0345
صغیراحمد خان (مرحوم) نے غالب کے حیات و فن اور ان کی نگارشات کا مطالعہ کرنے کے بعد ایک نیا موضوع تلاش کیا، جس کا عنوان انہوں نے’’غالب کی خُودبینی‘‘ رکھا۔ اس عنوان کے تحت انہوں نےغالب کی فکرو نظر، غالب کے تصورِ تمنا، اہتمامِ الفاظ وتراکیب، غالب کی زندگی اور اُس کے اجزائے ترکیبی، اُردو شاعری کا نظریاتی سرمایہ، مقامِ غالب، کلامِ غالب، منتخب اشعار اور غالب: مذہب اور خدا کا تصور کو موضوعِ گفتگو بنایا ہے۔
کتاب کے مصنّف ایک ماہرِ معاشیات تھے، درس و تدریس سے بھی اُن کا تعلق رہا۔ اُردو زبان و ادب پر بھی ان کی بہت گہری نظر تھی، جس نے ان سے یہ کتاب لکھوائی۔ اور ڈاکٹر شیما ربانی نے اس کتاب کی اشاعت یقینی بنا کر ایک اہم ادبی خدمت انجام دی ہے۔ ’’اردو شاعری کا نظریاتی سرمایہ‘‘ کے عنوان سے صغیر احمد خان (مرحوم) کا ابتدائیہ بھی بہت معلوماتی اور دل چسپ ہے، جو انہوں نے فروری 2003ء میں تحریر کیا تھا۔
کتاب کا پیش لفظ ممتاز محقّق، دانش وَر ڈاکٹر معین الدین عقیل نے لکھا ہے، جب کہ ڈاکٹر شیما ربانی، شاعر علی شاعر اور راحیل صغیر خان کے توصیفی مضامین بھی کتاب میں شامل ہیں۔ مجموعی طور پر اس کتاب سے صغیر احمد خان کی ’’غالب شناسی‘‘ کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔