ہزاروں سال پرانی تہذیب اور عظیم انسانی روایات کی حامل بلوچستان کی سر زمین ایک عرصے سے مزاحتمی سرگرمیوں اور دہشت گردی کی زد میں ہے۔ یہاں سے باہر جانے والی زیادہ تر خبریں بم دھما کوں،خون ریزی اور ریاست مخالف کارروائیوں کے بارے میں ہوتی ہیں۔ اس وجہ سے پاکستان کے اس سب سے بڑے صوبے کے متعلق بیرونی دنیا کے علاوہ خود ملک کے دوسرے صوبوں میں بھی منفی تاثر ابھرتا ہے ۔ ایک سماجی تقریب میں جس میں مجھے بھی شرکت کا موقع ملا، ایک صاحب فرما رہے تھے کہ بلوچستان میں جو کچھ ہورہا ہے یہ سب وہاں کے سرداروں کا کیا دھرا ہے ۔ انہیں یہ بھی علم نہیں تھا کہ وہاں سرداری نظام تو نصف صدی پہلے ختم ہوچکا ہے۔ انگریزوں نے اس نظام کو اپنی گرفت مضبوط کرنے کیلئے استعمال کیا اور سرداروں کو من مانی کرنے کے اختیارات دے کر پابند بنایا کہ وہ امن عامہ کا مسئلہ پیدا نہیں ہونے دیں گے۔
سرداری نظام ختم کرنے کے اعلان کے بعد سردار تو اپنی جگہ قائم ہیں کیونکہ یہ وہاں کی سماجی ضرورت ہے مگر امن و امان کی ذمہ داری اب ان کی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کو اس معاملے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ رہا مزاحتمی تحریک کا مسئلہ تو اس حوالے سے جو سردار ملوث ہوسکتے تھے ان کا اثرو رسوخ بھی اب نہیں رہا۔ وہ خود ختم ہوچکے ہیں یا ملک سے باہر چلے گئے ہیں۔ البتہ ان کے بوئے ہوئے بیج پھل پھول رہے ہیں۔ اس کا موقع انہیں صوبے کی پسماندگی نے دیا ہے۔ جو مزاحمتی تنظیمیں اس وقت سرگرم ہیں وہ صوبے کے عوام کے حق حاکمیت اور ساحل و وسائل پر اختیار کے نام پر لوگوں میں ہیجان پیدا کر رہی ہیں۔
پاکستان کے دشمن انہیں وسائل فراہم کر رہے ہیں جن کی مدد سے وہ قتل و غارت کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں لیکن یہ تصویر کا منفی رخ ہے اسکے مثبت پہلو میڈیا میں بہت کم اجاگر ہوتے ہیں اس لئے یہ پتہ نہیں چلتا کہ صوبے میں اچھے کام بھی ہورہے ہیں ایسے لوگ اکثریت میں ہیں جو اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے ملک اور بیرون ملک اپنا اور وطن عزیز کا نام روشن کررہے ہیں ۔
ویسے تو بلوچ ہوں ، پشتون یا آباد کار کئی نامور لوگوں نے زندگی کے کئی شعبوں میں لازوال کام کئے ہیں لوگ ان کا نام عزت و احترام سے لیتے ہیں مگر ہزارہ قبیلے کی ایک خاتون جلیلہ حیدر گزرتے وقت کی ایک باصلاحیت خاتون ہیں جنہیں سوئیڈن کی تنظیم رائٹ لائیولی فاؤنڈیشن نے نوبل انعام کے متبادل اعزاز دیا ہے جسے متبادل نوبل کا نام دیا گیا ہے۔جلیلہ ہزارہ قبیلے کی پہلی خاتون وکیل ہیں 2019میں دنیا کی جن ایک سو جرات مند خواتین کی فہرست تیار کی گئی یہ بھی ان میں شامل تھیں ۔
یہ ایک بڑا اعزاز ہے اس کے علاوہ انہیں کئی ملکی اعزازات سے بھی نوازا گیا ۔ ان کا کارنامہ یہ ہےکہ انہوں نے ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ اور تشدد کےخلاف مہم چلائی ۔خصوصاً خواتین کےخلاف کارروائیاں روکنے کے لئے آواز اٹھائی ، مارچ کومنظم کیا اور سات روزہ ہڑتال کی، جسے ختم کرنے اور انکے مطالبات پورے کرنے کیلئے اسٹیبلشمنٹ کی ایک طاقتور شخصیت نے خود مداخلت کی اور مسائل حل کرادیئے ۔ وہ صرف ہزارہ نہیں بلکہ دوسرے کمزوراور محروم طبقات کی مشکلات دور کرنے اور انہیں باختیار بنانے کے لئےبھی سرگرم ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہزارہ قبیلہ ، ترک منگولوں کا ایک بڑا قبیلہ ہے ان میں سنی بھی ہیں مگر اکثریت اہل تشیع کی ہے۔ کوئٹہ میں فقہی اختلاف کی وجہ سے کسی وقت ہزارہ قبیلے کے خلاف ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہورہے تھے ایسے واقعات میں ایک ہزار سے زائد ہزارے ماردیئے گئے چند سنی بھی نشانہ بنے۔
ہزارہ قبیلے چنگیز خان کی نسل سے ہے تاریخ کے مختلف ادوار میں اس نے ایشیا کے مختلف خطوں میں اپنی حکومتیں قائم کیں ان میں ہندوستان کے مغل بھی شامل ہیں ۔ ترک منگول نسل نے قبول اسلام کے بعد فقہ جعفریہ اختیار کیا بلوچستان کے ہزارے چنگیز خان کے پوتے نکودر سے منسوب ہیں جس کی ہلمند ، خاران اور قندھار پر حکومت تھی ۔ ہزارہ قبیلے کے لوگ پاکستان کے علاوہ آسٹریلیا اور دوسرے ملکوں میں بھی رہتے ہیں پاکستان میں یہ لوگ مختلف علاقوں میں موجود ہیں مگر زیادہ تعداد کوئٹہ میں ہے یہاں تقریباً 8لاکھ ہزارےآباد ہیں ۔ بلوچستان اسمبلی میں ان کی دو نشستیں ہیں۔پاکستان کے دوسرے کمانڈر انچیف جنرل محمد موسیٰ اور فضائیہ کے ایئر وائس مارشل شربت علی چنگیزی ہزارہ تھے کوئٹہ کے ہزارہ زیادہ تر تجارت پیشہ ہیں ہزارہ دانشور قادر علی نائل کے مطابق ہزاروں کی ٹارگٹ کلنگ پراکسی دور کی تھی انہیں فقہی اختلاف کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا لیکن اچھی بات یہ ہے کہ اب یہ سلسلہ تقریباً ختم ہوچکا ہے ۔ جلیلہ حیدر امن اور رواداری کی علمبردار ہیں وہ مذہبی اور نسلی اقلیتوں کی قانونی معاونت کررہی ہیں خواتین بالخصوص اقلیتی خواتین اور بچوں کے لئے بہتر زندگی کے مواقع پیدا کرنے کی مہم میں نرگس اور کلثوم ہزارہ بھی شامل ہیں ۔ نرگس ہزارہ کو حسن کارکردگی کا تمغہ بھی ملا ہے ۔
بلوچستان نصف پاکستان ہے مگر قومی اسمبلی کی 342 نشستوں میں اس کی صرف17سیٹیں ہیں بلوچستان میں جو احساس محرومی پایا جاتا ہے اس کے دوسرے بہت سے اسباب ہیں لیکن ایک سبب یہ بھی ہے ۔ اسلام آباد میں بیٹھے حکمرانوں کو 17سیٹوں کے لئے بلوچستان جانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ جاتے بھی ہیں تو کوئٹہ کے گورنر ہاؤس یا ایک بڑے ہوٹل میں رات گزار کر واپس آجاتے ہیں ۔اکثرکو تو شاید بلوچستان کے چھوٹے کیا بڑے شہروںکے نام بھی معلوم نہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جس طرح فوج صوبے میں ہر جگہ موجود ہے اور سلامتی کےتحفظ کے علاوہ کئی فلاحی اقدامات بھی کررہی ہے ۔ سیاسی پارٹیاں بھی ہر جگہ اپنی موجودگی یقینی بنائیں اور حکمران کوئٹہ کے علاوہ دوسرے شہروں میں بھی جائیں اور وہاں کے مسائل سےآگہی حاصل کریں۔