پچھلے کالم میں میں نے لکھا تھا کہ دنیا کی اصل لڑائی اب تیل کے کنوؤں پر نہیں، ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت پر لڑی جا رہی ہے۔ آج سوال یہ ہے کہ اس میدان میں ہم کہاں کھڑے ہیں اور آگے کیسے بڑھ سکتے ہیں۔ہم خالی ہاتھ نہیں ہیں۔ آبادی پچیس کروڑ کے قریب ہے اور اس کا بڑا حصہ نوجوان ہے۔ ایک کروڑ سے زائد پاکستانی بیرونِ ملک رہتے ہیں، اور ان میں کئی دنیا کے بڑے اداروں میں اونچے عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں انہوں نے 41.6ارب ڈالر وطن بھیجے، جو ہماری تاریخ کی سب سے بڑی سالانہ رقم ہے۔ اسی سال آئی ٹی برآمدات بھی 4.6 ارب ڈالر کی نئی بلندی پر پہنچیں، جو پچھلے سال سے تقریباً بیس فیصد زیادہ ہے۔ سرمایہ بھی ہے، ہنر بھی، رفتار بھی۔ کمی بس اتنی ہے کہ یہ سب الگ الگ کھڑے ہیں، جیسے ایک ہی قافلے کے مسافر جو ایک دوسرے کو پہچانتے نہ ہوں۔
حکومت نے اس سمت میں قدم اٹھایا ہے۔ اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی (STZA) 2021 کے ایکٹ کے تحت قائم ہوئی۔ جو ٹیکنالوجی کمپنی اس کے لائسنس کے ساتھ کسی نوٹیفائیڈ زون میں نیا ڈیجیٹل منصوبہ شروع کرے، اسے دس سال تک آمدن پر ٹیکس سے چھوٹ ملتی ہے۔ ملک میں نہ بننے والی مشینری اور آلات باہر سے منگوائے جائیں تو ان پر کسٹمز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس بھی نہیں لگتا۔ یہ چھوٹ خود بخود نہیں ملتی، لائسنس اور زون میں کام کرنا شرط ہے۔ اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں ایسے زون اور جدید دفاتر پہلے سے موجود ہیں جہاں اعلیٰ درجے کی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس کچھ نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جو کچھ ہے، اس سے فائدہ اٹھانے والے کم ہیں۔میرے نزدیک آئی ٹی برآمدات کا دس ارب ڈالر کا ہدف بالکل حقیقت پسندانہ ہے۔ موجودہ رفتار برقرار رہے تو ہم چار سال کے اندر اس کے قریب پہنچ جائیں گے۔ مگر پچھلے سال حکومت کا اپنا پانچ ارب ڈالر کا ہدف بھی پورا نہ ہو سکا۔ ملک میں آئی ٹی ایمرجنسی نافذ ہونی چاہیے، اسی سنجیدگی کے ساتھ جیسی ہم کسی سیلاب یا بحران میں دکھاتے ہیں۔ یہ ایمرجنسی پاکستان کا مستقبل بدل سکتی ہے۔ اس کے لیے پانچ کام میرے ذہن میں ہیں۔پہلا کام یہ ہے کہ جو موجود ہے، اسے چلایا جائے۔ نئی عمارتیں بنانے سے پہلے موجودہ زونز کو پوری طرح فعال کریں۔ جنہیں ٹیکس مراعات دی گئی ہیں، انہیں بجلی اور تیز انٹرنیٹ بھی بلا تعطل ملے۔ عمارتیں اینٹوں سے بنتی ہیں، مگر انہیں آباد بجلی اور انٹرنیٹ رکھتے ہیں۔دوسرا کام، اور میری نظر میں اس کالم کا سب سے اہم نکتہ، یہ ہے کہ بڑے کاروبار اپنا حصہ ڈالیں۔ پاکستان کے بینک اور بڑی کارپوریشنیں اسی ملک کے صارفین سے اربوں کماتی ہیں، اس لیے اس ملک کے نوجوانوں کا ان پر حق بنتا ہے۔ پارلیمنٹ ایک قانون بنائے جس کے تحت بڑے بینک اور کمپنیاں منافع کا مقررہ حصہ آئی ٹی تربیت، ڈیٹا سائنس اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ پر لگانے کی پابند ہوں۔ بھارت میں کمپنیز ایکٹ کے تحت بڑی کمپنیوں کو اوسط منافع کا دو فیصد سماجی ذمہ داری پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ رضاکارانہ ہے، اور رضاکارانہ نظام سے قومی تبدیلی نہیں آتی۔
عملی شکل یہ ہو کہ ہر ضلع کسی ایک بینک یا کارپوریشن کے سپرد ہو، جو وہاں تربیتی مرکز، جدید لیب اور معیاری کورس فراہم کرے۔ آغاز فیصل آباد، لاہور، کراچی اور اسلام آباد سے ہو، اور لمز اور آئی بی اے جیسے اداروں کا ماڈل ساتھ رکھا جائے۔ جس نسل پر کمپنیاں آج لگائیں گی، وہی کل ان کی افرادی قوت بنے گی۔ جو درخت آج بوئے جائیں، ان کا پھل اور سایہ دونوں انہی کو ملتے ہیں۔
تیسرا کام نوجوانوں کو ابتدائی سرمایہ دینا ہے۔ اسٹارٹ اپ گرانٹس اور اینجل انویسٹمنٹ کا شفاف نظام بنایا جائے۔ دنیا کے بڑے ٹیکنالوجی مراکز صرف عمارتوں سے کھڑے نہیں ہوئے، ان کے پیچھے سرمایہ کار، رہنمائی اور خطرہ مول لینے کی ہمت تھی۔چوتھا کام سرمایہ اور صلاحیت کو آمنے سامنے لانا ہے۔ سنگاپور، دبئی اور ملائیشیا میں پاکستانی سرمایہ کار موجود ہیں اور پاکستان میں باصلاحیت نوجوان، مگر دونوں کے بیچ کوئی پل نہیں۔ ایک قومی پلیٹ فارم بنے جہاں اسٹارٹ اپس، نجی سرمایہ کار اور اوورسیز پاکستانی ایک جگہ ملیں۔ حکومت سہولت دے اور انتظام شفاف تھرڈ پارٹی ماڈل کے تحت نجی شعبے کے پاس رہے۔پانچواں کام آغاز اسکول سے کرنا ہے۔ پہلے مرحلے میں بڑے شہروں کے سو سے دو سو سرکاری ماڈل اسکول چنے جائیں۔ ہر اسکول میں جدید کمپیوٹر لیب، بلا تعطل بجلی اور تیز انٹرنیٹ لازمی ہو۔ پھر مائیکروسافٹ، گوگل اور اوپن اے آئی جیسے اداروں کے دستیاب آن لائن پروگرام بچوں تک پہنچائے جائیں۔ مقصد کمپیوٹر چلانا سکھانا نہیں، پروگرامنگ، مصنوعی ذہانت اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔
ایک سال بعد حساب لگایا جائے کہ کتنے نوجوان تربیت پا رہے ہیں، کتنے اسٹارٹ اپ بنے، کتنی سرمایہ کاری آئی اور کتنی نئی نوکریاں پیدا ہوئیں۔ جو ماڈل چل جائے، اسے دوسرے شہروں تک پھیلایا جائے۔’’میں نہیں، ہم‘‘اس پورے منصوبے کی جان ایک لفظ میں ہے، ہم۔ اکیلی حکومت یہ بوجھ نہیں اٹھا سکتی، نہ کوئی بینک، نہ کوئی یونیورسٹی، نہ کوئی ایک سرمایہ کار۔ ریاست، کارپوریشنیں، تعلیمی ادارے اور بیرونِ ملک پاکستانی ایک مقصد پر اکٹھے ہوں گے تو ہی بات بنے گی۔ جس دن ہم میں کی قید سے نکل کر ہم کے دائرے میں آ گئے، اسی دن سفر شروع ہو جائے گا۔ پچیس کروڑ کا یہ ملک مستقبل کی معیشت کا مرکز بن سکتا ہے، بشرطیکہ ہم اسے روایتی منصوبہ بندی کی فائلوں میں دفن نہ کر دیں۔پاکستان کے پاس افرادی قوت کی کبھی کمی نہیں رہی۔ کمی وژن اور تسلسل کی رہی ہے۔ اب وقت ہے کہ وژن کو ترجیحات میں، ترجیحات کو منصوبے میں اور منصوبے کو نتیجے میں بدلا جائے۔